Sunday , July 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تشکیل تلنگانہ پر پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے ریمارکس کی مذمت

تشکیل تلنگانہ پر پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے ریمارکس کی مذمت

ٹی آر ایس کی خاموشی پر اظہار حیرت ، کانگریس ایم ایل سی پی سدھاکر ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 7 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پارلیمنٹ کے دروازے بند کر کے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا کانگریس پر لگائے گئے الزام کی سخت مذمت کی ۔ پارلیمنٹ میں اس ریمارکس پر ٹی آر ایس کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے کا تلنگانہ بی جے پی سے مطالبہ کیا ۔ آج اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی سدھاکر ریڈی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں صدارتی خطبہ پر اظہار تشکر کے مباحث میں وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمانی روایت سے انحراف کرتے ہوئے اپنی تقریر میں اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانے پر توجہ دی ہے ۔ قائد اپوزیشن و دلت قائد ملکاراجن کھرگے نے تقسیم ریاست بل میں دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے جو وعدے کئے گئے تھے چار سال میں اس کی تکمیل نہ کرنے پر مرکز کو توجہ دلائی تھی ۔ اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرنے کے بجائے وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے درازے بند کر کے ریاست کو تقسیم کرنے کا کانگریس پر الزام عائد کرتے ہوئے مجاہدین تلنگانہ کی روح کو تکلیف پہونچائی ہے اور تلنگانہ حامیوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچایا ہے ۔ تلنگانہ کے بی جے پی قائدین وزیراعظم کے ریمارکس کی تلنگانہ عوام کے سامنے وضاحت کریں ۔ کانگریس نے جب مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھایا تھا تو اس وقت تلگو دیشم اور بی جے پی نے ایک دوسرے سے میچ فکسنگ کرلی تھی دو تین دن سے پارلیمنٹ میں احتجاج کرنے والے تلگو دیشم کے ارکان پارلیمنٹ اس وقت خاموش ہوگئے تھے ۔ ملکاارجن کھرگے جب تلنگانہ سے ہوئی نا انصافیوں کو اٹھارہے تھے تب ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ خاموش تھے ۔ آج جب وزیراعظم تلنگانہ کی تشکیل پر غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کررہے تھے تب بھی ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ تماشائی بنے ہوئے تھے ۔ پرانہیتا چیوڑلہ کو قومی پراجکٹ ، ورنگل میں ریلوے کوچ فیکٹری کے علاوہ دوسرے وعدوں کے ساتھ تلنگانہ کو فنڈز مختص نہ کرنے پر بھی ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے کوئی آواز نہیں اٹھائی ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے پر کانگریس کو فخر ہے اور تلنگانہ کو انصاف ملنے تک کانگریس پارٹی اپنے جدوجہد کو جاری رکھے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT