Saturday , December 15 2018

تشکیل تلنگانہ کے بعد ورنگل ضلع کی صورتحال میں کوئی تبدیلیاں نہیں

عوام اور تنظیمیں مایوس ، آل انڈیا پیوپلز ریسیسٹنز فورم
حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ضلع ورنگل کے عوام اور تنظیموں کی جانب سے جو تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی تھی وہ اب بھی جوں کی توں برقرار ہیں۔ 1997 میں جو مطالبات ’’ ورنگل قرارداد‘‘ میں شامل تھے وہ مطالبات اب تلنگانہ کی تشکیل کے 4سال کے بعد بھی وہی مطالبات برقرار ہیں۔ قومی عوامی مزاحمتی فورم کی جانب سے جاری کردہ قرار داد میں وہی مطالبات شامل ہیں جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عوامی تنظیموں کی اظہار خیال کی آزادی پر عائد کردہ غیر معلنہ پابندی کو برخواست کرتے ہوئے ان کے نظریات کو عام کرنے کی اجازت فراہم کرے۔ کمیونسٹ (ایم ایل) گروپ کی سرکردہ تنظیموں نے جو قرار داد جاری کی ہے اس میں 10سال پرانے مطالبات کی برقراری سے ایسا محسوس ہو رہاہے کہ تشکیل تلنگانہ کے باوجود بھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ طرز حکومت کی برقراری کے سبب وہی حالات جوں کے توں برقرار ہیں۔ آل انڈیا پیوپلز ریسیسٹنز فورم کے مطابق مرکزی وریاستی حکومت کی جانب سے اظہار خیال کی آزادی کی فراہمی کے اعلانات کئے جاتے ہیں لیکن ان اعلانات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ آندھرا پردیش کی تقسیم اور ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد صرف انتظامیہ تبدیل ہوا ہے جبکہ عمل وہی طریقہ کار پر کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے تلنگانہ جدوجہد کی تائید کرتے ہوئے ان تنظیموں نے عوام کو تحریک تلنگانہ سے وابستہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔ اس قرارداد میں جو بنیادی مطالبات کئے گئے ہیں ان میں عوامی فلاحی اسکیمات کو دیہی و قبائیلی عوام تک پہنچانے میں حکومت کی ناکامی اور ریاست کے جنگلاتی و دیہی علاقو ں میں کانکنی کا مسئلہ شامل ہے۔ بتایاجاتاہے کہ دیہی و قبائیلی علاقو ںکے عوام حکومت کی فلاحی و ترقیاتی سرگرمیوں سے اب بھی محروم ہیں اور 10 سال قبل بھی محروم ہی تھے۔ اسی طرح حکومت کی کانکنی کے متعلق پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ ریت کی نکاسی کے علاوہ دیگر اہم دھاتوں کی کانکنی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔بائیں بازو جماعتوں کی تنظیموں کے سرکردہ قائدین نے بتایاکہ جمہوری تلنگانہ کی تشکیل کیلئے ریاست کی تقسیم کی تائید کرتے ہوئے ریاست میں موجود قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے مطالبہ میں شدت پیدا کی گئی تھی لیکن اب بھی مقصد حاصل ہونے میں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔

TOPPOPULARRECENT