Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / تصوف اوراسکی معنویت

تصوف اوراسکی معنویت

اسلام ،ایمان اوراحسان ایک دوسرے سے ایسے مربوط ہیں کہ ان میں سے کسی کوبھی چھوڑانہیں جاسکتا، صدراسلام میں جس کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے آگے چل کر اس کو تصوف کا نام دیدیا گیا، احسان کہیں کہ تصوف اس کا مقصود اسلام اورایمان کے تقاضوں کی تکمیل میں روح ڈالنا ہے۔ اعمال میں روح احسان سے پیداہوتی ہے ،احسان وتصوف کی اصل بنیاد،اورجوہری اساس اخلاص ہے۔ ایمان واسلام کے مطلوب تقاضے اعتقادات وایمانیات، ذکرواذکار وعبادات، معاشرت ومعاملات، حسن سیرت واخلاق ان سب کے جسم وجسد کو تصوف واحسان سے حیات وزندگی ملتی ہے ،اوران میں حسن پیداہوتا ہے ،جس سے روح کو بالیدگی وپاکیزگی ملتی ہے،حدیث احسان کا یہ پیا راجملہ’’ان تعبد اللہ کأنک تراہ فان لم تکن تراہ فأنہ یراک‘‘ اللہ کی عبادت ایسے کروگویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، یہ کیفت اگر پیدانہ ہوسکے تو اس بات کا استحضاررکھوکہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔پہلا درجہ اگرکسی کونصیب ہوجائے تواس کو ارباب تصوف مشاہدہ واستغراق سے تعبیر کرتے ہیں،اس درجہ ومرتبہ کے کچھ افراد ضرور ہوسکتے ہیں لیکن عمومی حیثیت سے سب کیلئے یہ ممکن نہیں۔اس لئے دوسرے درجہ کا استحضار واہتمام توہرایک کولازم ہے جو خشیت الہی وخوف آخرت ،خشوع وخضوع اورتضرع وزاری کی کیفیات پیداکرتاہے۔بوقت عبادت ہی نہیں بلکہ ہرلمحہ وہ اپنے آپ کو اپنے مالک ومولیٰ کے حضورحاضرپاتا ہے ، نگاہوں کی خیانت اوردل میں چھپے ہواوہوس کے خیالی نقشے ودیگرخواہشات کے منصوبے اس سے پوشیدہ نہ ہونے کا ایقان اس کی پوری شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

اسلام ،ایمان اوراحسان کا خلاصہ شریعت اسلامیہ ہے ،جس میں وہ سارے قواعدوقوانین اوراحکام وضوابط بھی ہیں جو کتاب وسنت میں موجودیا اس سے مستنبط ہیں ،جس میں عقائد واعمال،عبادات واخلاق،معاشرت ومعیشت سارے شعبے شامل ہیں۔ اس وسیع تناظرمیں مقام احسان وتصوف کو بڑی اہمیت حاصل ہے،چونکہ اس تصورتصوف کی اصل کتاب وسنت ہیں،حضوانورسید عالم ﷺنے اس کی عملی صورت گری کیلئے تربیت وتطہیراورتزکیہ نفس پرخصوصی توجہ دی ۔چونکہ اللہ سبحانہ نے اس کو منصب نبوت کی ذمہ داریوں میں شامل رکھا ہے ،حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کی اس خصوصی توجہ کے نتائج کا عملی مظہر رہے ہیں ، حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ نے اس مشن کو آگے بڑھایا ہے ،بڑے پیمانہ پر انسانوں کی تربیت واصلاح کا کام کیا ہے ،اخلاص عمل کی روح ان میں پھونکی ہے،اللہ سبحانہ کی رضا جوئی کیلئے کام کرنے کا جذبہ اوراسی سے ڈرنے ، خوف وخشیت الہی سے اپنے دل کو معموررکھنے ،فکرآخرت اوراپنے اعمال کی جواب دہی کا تصوران میں پیداکرنے کیلئے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات وقف کی ہیں ، ان کی شبانہ روز مخلصانہ جدوجہد سے انسانوں کے انسانی جوہرکو خوب جلا ملی ہے ، حق آگہی اورحق شناسی ان کے مزاج کا حصہ بنی ہے،معاشرہ میں امن وامان قائم ہواہے،رواداری ،بھائی چارگی کی فضاء بنی ہے۔
خاصان خداکے حقیقی معنی میں تربیت یافتہ نیکوکار،پرہیزگار،خداترس وخدارسیدہ بندوں نے خلق خالق ہردوسے اپنا تعلق رکھاہے ،اپنے خالق ومالک کی محبت میں مخلوق سے محبت وتعلق کے رشتہ کوخوب نبھا یا ہے ۔ ان خوبیوں کی جھلک ہی ان کو خلق خداسے خیرخواہی کا رشتہ رکھنے اوران کی اُخروی نجات کی فکر میںگھلنے کی تڑپ پیداکردیتی ہے،یہ فکروتڑپ کچھ اس قد ران کو دردمند بنادیتی ہے کہ خلق خداسے محبت ان کے دلوں کی دھڑکن بن جاتی ہے ،دوسروں کا غم ان کا غم بن جاتا ہے ،کوئی اورمصیبت کا شکارہو تو وہ اس کو اپنی مصیبت مانتے ہیں ،دردمندی ،چارہ سازی میں ان کو روحانی سکون میسرآتا ہے۔انسانیت کا درداوراس کی تڑپ ان کو خلق خداسے جوڑے رکھتی ہے،اس لئے بساط بھرکوشش کرکے خلق خداکی مادی ضررتوں کو پوراکرنے کے ساتھ ان کی اخروی کامیابی ان کو فکرمند رکھتی ہے،انسانی دلوں میں توحیدکا دیا روشن کرنے کی وہ ہروقت کوشش میں لگے رہتے ہیں۔انسانی مساوات کوفروغ دینے میں کوشاں رہتے ہیں،ذات وپات کے جھگڑوں کو مٹانے کیلئے معاشی ومعاشرتی سطح پر پست انسانیت کواپنا بھائی مان کرمحبت کے ساتھ انکو گلے لگاتے ہیں اوراحترام کے ساتھ اپنے بازو بٹھاتے ہیں۔اس طرح ان کی مخلصانہ اصلاحی کوششوں سے اسلامی تعلیمات کو فروغ ملاہے ،روحانی اوراخلاقی اقدار کی معرفت نے ایک اعلی اخلاقی انقلاب برپا کیا ہے، جس سے اسلامی معاشرہ کی صالح بنیا دوں پر تشکیل نو ہوئی ہے،اورانسانی سماج راحت ورحمت کا گہوارہ بناہے ۔

مقام احسان ایک انسان کو اعلی انسان اورفرض شناس مسلمان بناتا ہے، ہمدردی، ایثاروقربانی، صبروتحمل، عفوودرگزر، احسان وسلوک،پیارومحبت،رافت ورحمت ،جیسے اعلی اوصاف سے اس کی شخصیت مزین ہوتی ہے۔کسی کی حق تلفی،دل آزاری، اوروں کے حقوق غصب کرنے،ظلم ڈھانے،لوٹ کھسوٹ کرنے،دشمنی وعداوت ،نفرت وحقارت جیسے رزائل اخلاق سے اس کا دوردور تک نہ صرف کوئی واسطہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ان رزائل اخلاق سے اورانسانوں کو پاک کرنے کی مہم اس کے مشن کا لازمی  حصہ ہوتی ہے۔
صوفیاء وصلحاء امت، علوم اسلامیہ کے ماہرین ،قرآن وسنت ،فقہ وتصوف کے امام ،زہدوتقوی کے اعلی ٰ پیکرعبادات وریاضات ،حق گوئی وحق شناسی ،حکمت ودانائی ،اخلاق واخلاص میں اپنے اسلاف کا بے مثال نمونہ رہے ہیں ۔ جیسے جیسے زمانہ ۔زمانہ نبوت سے دورہوتا جارہا ہے ایسے اصحاب باصفاکمیاب ہوتے جارہے ہیں ،جس کی وجہ وہ اصلاحی مشن جوصوفیاء نے برپا کیا تھا وہ کمزورہوتا جارہا ہے،نتیجہ میں آج سماج اخلاقی اقدارسے محروم ہے،انسان انسان کا دشمن اوراس کے خون کا پیا سا ہے ،ظلم وستم نے پھرسے ڈیرہ جمایا ہے،فرقہ پرستی کا دوردورہ ہے،مفاد پرستی عام ہے،انتہا پسندی کے عواقب ونتائج معاشرہ بھگت رہا ہے۔سائنسی ترقیات اورنت نئی ایجادات نے جہاں کچھ فوائد کے دروازے کھولے ہیں وہیں اسلامی وروحانی نظام سے وابستگی میں کمی وکوتاہی کی وجہ انسانیت شکست خردہ ذہنی پستی کا شکارہے ،دنیا کا صرف کوئی ایک گوشہ نہیں بلکہ ساراعالم اس وقت سخت اضطراب وبے چینی میں مبتلا ہے۔

موجودہ حالات کے تناظرمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ پھرسے صوفیاء کے حقیقی اسلامی مشن کا احیاء کیا جائے ،اورپھرسے ایسے عملی اقدامات کئے جائیں جس سے نہ صرف مسلم معاشرہ اسلام سے کمال درجہ وابستہ ہوجائے بلکہ نعمت ایمان و اسلام سے محروم افراد بھی ایمان و اسلام سے قریب ہوں،اورانسانی اخلاق واقدارکوکچھ ایسا فروغ ملے کہ دشمنی وعداوت ،نفرت وحقارت کے سوتے اس کی وجہ خشک ہوجائیں،پیارومحبت ،انسانیت وہمدردی ،دردمندی ،غم گساری کے چشمے پھوٹ پڑیں،یہ کام دردمندی وجگرسوزی کا ہے، نمودونمائش کا نہیں ۔ تصوف دراصل عملی زندگی میں برتنے کی چیزہے ،تحریروتقریریا اس عنوان سے کانفرنسوں ومجالس کا انعقادکرنے کی نہیں گوکہ اسلاف کا یہ طریقہ نہیں رہا،تاہم اس مشن کی اہم خصوصیات اوراس کے فوائد اس مشن کے فروغ اوراس سے عملی وابستگی سے دنیاوآخرت میں حاصل ہونے والے اچھے نتائج سے توضرور روشناس کروایا جاسکتا ہے،لیکن اس کے عملی پیکرنہیں پیداکئے جاسکتے،چونکہ یہ کام محنت جدوجہد کا ہے اورمسلسل عملی کوششوں سے انسانیت سازی کا ہے ،مخلصا نہ پیہم سعی وجہدسے ایمان واسلام سے نسبت رکھنے والوں کو حقیقی معنی میں مومن ومسلم بنانا ہے ، یہی وہ کام ہے جس کو انجام دیکرہمارے اسلاف نے اسلام کی اورانسانیت کی خوب خوب خدمت کی ہے ،جس کے کچھ اچھے نتائج وثمرات معاشرہ میں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں،اورہم نے اس کام کو فراموش کرکے صرف راہ رسم کی حد تک اس سے اپنا تعلق رکھتے ہوئے اس مشن کے حقیقی مقاصد سے اپنی آنکھیں موندھ کرجوغفلت برتی ہے وہ ایسی ناقابل معافی غلطی ہے جس کو انسانی تاریخ معاف نہیں کریگی اوراپنے خالق ومالک کے حضورکوئی ایساعذربھی پیش نہیں کیا جا سکے گاجو ہمارے بازپرس سے چھٹکارہ کا سبب بن سکے،اس لئے اس اصلاحی مشن کوحقیقی معنی میں فروغ دینے کی عملی کوششوں کو پھرسے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی نہ کسی درجہ میں ہماری کوتاہیوں کا تدارک  ہوسکے ،اوراللہ کے حضورہم کامیاب وبامراد پہنچ سکیں۔

TOPPOPULARRECENT