Wednesday , September 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / تعددِ ازدواج کی حکمتیں

تعددِ ازدواج کی حکمتیں

مولانا محمد محبوب عالم اشرفی

مولانا محمد محبوب عالم اشرفی

دین اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر دین ہے، جو پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ اپنوں اور غیروں کے ساتھ مساویانہ سلوک کی تاکید کرتا ہے اور کسی بھی انسان پر ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ اسلام کا ایک اہم نظام ’’نظام ازدواج‘‘ ہے، جو نہایت ہی پاکیزہ ہے، جس کا مقصد عزت نفس کی حفاظت، نسل انسانی کی بقا اور معاشرتی فضاء کو پراگندگی سے بچانا ہے۔ ازدواجی نظام دنیا کے تمام مذاہب میں موجود ہے اور سارے ادیان کے ماننے والے اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکیزہ رشتہ خیال کرتے ہیں۔ دیگر مذاہب میں جو نظام ازدواج رائج ہے، وہ افراط و تفریط پر مبنی ہے، جب کہ مذہب اسلام نے اس اہم نظام کو چند اصولوں کے ساتھ مربوط رکھا ہے، تاکہ کسی پر کسی کی زیادگی نہ ہونے پائے۔ جن میں طرفین کی رضامندی، لڑکیوں کی جانب سے ولیوں کی اجازت، بیوی کے نان و نفقہ اور سکنہ کی شرط اہم ہے اور معاشرتی و ازدواجی ہم آہنگی پیدا کرنے کے مقصد سے دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی اور اس کی کماحقہٗ پاسداری کا مکلف بنایا گیا ہے۔
ازدواجی نظام کی ایک شق تعدد ازدواج ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے غیر معمولی تبلیغی مشغولیت کے باوجود گیارہ خواتین اسلام کو اپنی شرف زوجیت سے مشرف فرمایا۔ علماء کرام نے اس سلسلے میں چند حکمتیں بیان کیں ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے مختلف باثر افراد کی صاحبزادیوں سے نکاح فرمایا، جو اپنے قبیلہ کے سردار تھے، تاکہ قبیلہ کے سارے لوگ اسلام دشمنی ختم کردیں اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی راہ ہموار ہو جائے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں سے قربت اور تعلق رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے قلوب اسلام کے تئیں نرم ہو گئے اور دھیرے دھیرے آغوش اسلام میں آنے لگے۔ حضور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کے ذریعہ خواتین تک خصوصی طورپر اسلامی تعلیمات کو پہنچانے کا انتظام فرمایا۔ اکثر خواتین ازواج مطہرات کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں اور مسائل سے آگاہی حاصل کرتی تھیں۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے علاوہ جتنی بھی خواتین سے نکاح فرمایا، وہ سب کے سب شادی شدہ اور بیوہ تھیں۔ آپﷺ نے ان تمام خواتین کو اپنی زوجیت سے سرفراز فرماکر ان کی پرورش کی ذمہ داری لی اور ہمیشہ کے لئے انھیں محبت و الفت اور راحت و سکون فراہم فرمایا اور ان کے ایمان کی حفاظت فرمائی۔ جس زمانہ و معاشرہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اس زمانہ میں یہ رسم عام تھی اور کوئی اس کو معیوب نہیں سمجھتا تھا۔ دین اسلام نے بھی اس رسم کو تہذیب و شائستگی کے ساتھ باقی رکھا اور چند شرائط و ضوابط کی حد بندی کردی اور ہر ایک کے ساتھ مساویانہ سلوک اور عدل کو اولیت کا درجہ دیا، تاکہ کسی پر کسی قسم کا ظلم نہ ہونے پائے۔ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: ’’تم اپنی پسند کی عورتوں سے دو دو، تین تین اور چار چار سے شادی کرلو، لیکن اگر تمھیں اس بات کا ڈر ہو کہ تم ان کے درمیان عدل نہ کرسکوگے تو پھر ایک ہی کافی ہے‘‘۔ (سورۃ النساء۔۳)

اسلام نے حکم دیا ہے کہ ایک مرد چار عورتوں سے شادی کرسکتا ہے، لیکن عدل کی شرط لگائی، کیونکہ اسلام دنیا میں ظلم کو ختم کرنے اور عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے آیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’تم لوگوں کے ساتھ عدل کرو، کیونکہ عدل تقویٰ سے قریب ترین چیز ہے‘‘ (سورہ مائدہ۔۸) بلکہ دشمنی کی بنیاد پر بھی عدل کرنے کا حکم دیا ہے اور ظلم سے روکا ہے۔ عدل تمام بیویوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرنا ہے، اس کا تعلق زندگی کی کسی بھی معاملے سے ہو، اس لئے شرط لگادی کہ اگر عدل نہیں کرسکتے تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو، کیونکہ ایک سے زائد نکاح کی صورت میں انصاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو دوسرے مقام پر بیان کیا ہے: ’’اور تم ہزار چاہنے کے باوجود عورتوں کے درمیان عدل و انصاف نہیں کرسکتے، پس تم (کسی ایک کی طرف) بالکل مائل نہ ہو جاؤ کہ دوسری کو لٹائی ہوئی کی طرح نہ بنادو‘‘ (سورۃ النساء۔۱۲۹) یہاں آیت کریمہ میں ایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ ہے، جس کا تعلق طبیعت، فطرت اور قلبی رجحانات سے ہے، کیونکہ گوری، کالی، خوبصورت، جوان، بوڑھی وغیرہ اگر یہ چیزیں ظاہری حقوق کی ادائیگی میں حائل نہیں ہوتیں تو اللہ تعالی کے پاس ان کا مواخذہ بھی نہیں، البتہ ان حقوق کی عدم ادائیگی کی صورت میں قابل مواخذہ ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کے لئے باریاں مقرر کیں اور ساتھ ہی قلبی میلانات کے حوالے سے رب العزت کی بارگاہ میں دعا بھی کرتے رہے کہ ’’اے اللہ! جس چیز کا میں مالک ہوں اسے میں نے تقسیم کردیا اور جس کا تو مالک ہے یعنی دل، اس کے کسی کی طرف جھکاؤ کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا‘‘۔ یہی حقیقی عدل ہے۔
امتوں کے لئے چار سے زائد بیویاں رکھنا جائز نہیں۔ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ میں اس کی صراحت موجود ہے۔ ہر حال میں عدل و انصاف شرط ہے، جیسا کہ غیلان بن امیہ ثقفی اسلام لاے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’ان میں سے چار کو اختیار کرلو اور باقی تمام کو جدا کردو‘‘۔ (مؤطا امام مالک، دار قطنی، نسائی)
یقیناً ایک سے زائد نکاح میں کئی حکمتیں ہیں۔ معاشرے کو پراگندگی سے بچانا، بے حیائی کا خاتمہ کرنا، معاشرہ کو زنا و بدکاری سے محفوظ رکھنا، بیوہ عورتوں کی کفالت، ان کی عفت و عصمت کی حفاظت اور انھیں امن و سکون کی زندگی عطا کرنے کے علاوہ پاکیزہ نفوس معاشرہ کو دینا اور نسل انسانی کی تربیت کرکے بے راہ روی دُور کرنا بھی اس کی حکمتوں میں شامل ہیں۔

قرضہ جات کی ادائیگی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقروض کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا تھا، پھر بھی ہم لوگ قرض ادا کرنے میں تساہل اور ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مقروض ہے تو اس کی سب سے بڑی نیکی قرض ادا کرنے کی فکر اور کوشش ہے۔
قرض ادا کرنے کا سنجیدہ فیصلہ اور پختہ عزم کرنا چاہئے۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ قرض ادا کرسکتے ہوں، انھیں فوراً ادا کرنا چاہئے۔ قرض کی ادائیگی میں کشادگی اور سہولت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے، بلکہ زحمت اُٹھاکر بھی اسے ادا کرنا چاہئے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہئے کہ ’’اے پروردگار! قرض کے بوجھ سے نجات دے‘‘۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT