Thursday , December 13 2018

تعلیمی اداروں میںتشدد

ملک میں تعلیمی اداروںکی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے ۔ تعلیمی اداروں میں پہلے تو سرکاری اور سیاسی مداخلتیں شروع ہوگئی تھیں جن کے نتیجہ میں تعلیمی اداروں کا ماحول زہر آلود کیا جا رہا ہے ۔ یہاں طلبا کے ذہنوں میں نفرت اور فرقہ پرستی کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں نصاب کا تعین بھی فرقہ پرستانہ ذہنیت کے ذریعہ کیا جا رہا ہے اور تاریخ کو مسخ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہاہے۔ یہاں ایک مخصوص نظریہ اور سوچ و فکر کو مسلط کرنے کیلئے سرگرمیاں شدت سے چلائی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال سے قطع نظر تعلیمی اداروں میں بچوں کی ذہنی نشو و نما اور ان میں ذمہ دار شہری ہونے کا احساس پیدا کرنے میں ہماری اساتذہ برادری ایسا لگتا ہے کہ ناکام ہوتی جا رہی ہے ۔ حالیہ عرصہ میں کچھ واقعات ایسے پیش آئے ہیں جن پر تشویش کا پیدا ہونا لازمی ہے ۔ تلنگانہ میں ایک اسکولی طالب علم نے اپنے ہی ساتھی کو محض اس لئے چاقو گھونپ دیا کیونکہ اس نے اپنی بہن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر اعتراض کیا تھا اور اس طرح کی حرکتوں کے خلاف انتباہ دیا تھا ۔ اس طرح اترپردیش میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں ایک طالبہ نے ایک کمسن طالب علم کو اس لئے چاقو سے مار کر زخمی کردیا کیاکیونکہ وہ اسکول سے چھٹی چاہتی تھی اور اس وقت اس کا موڈ پڑھائی کرنے کا نہیں تھا ۔ حالانکہ یہ دو واقعات بظاہر تو معمولی نوعیت کے معلوم ہوتے ہیں اور ایسا واقعات سماج میں اکثر و بیشتر وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں لیکن ان واقعات کو اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ہمارے تعلیمی اداروں کی صورتحال پر تشویش پیدا ہونے لگتی ہے ۔ جو دو واقعات زیر بحث ہیں ان کی نوعیت اس لئے بھی سنگین ہوجاتی ہے کہ ان کا ارتکاب کرنے والے نابالغ کے زمرہ میں آتے ہیں اور ان میں ابھی سے تشدد کا رجحان ایسا تشویشناک پہلو ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اور اس کے ازالہ کے اقدامات کی شدید ضرورت ہے ۔ اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کم عمر طلبا میں لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ اور انہیں ہراساں کرنے کی روایت اگر تقویت پاتی ہے تو اس سے ہمارا معاشرہ اور سماج کھوکھلا ہوجائیگا ۔ لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کا مسئلہ خود ایک سماجی ناسور ہے اور ان کا تعلیمی اداروں میں پیش آنا اور بھی سنگین مسئلہ ہے ۔
تشویش اس بات پر بھی زیادہ ہونے لگی ہے کہ یہ واقعات ایسے مقامات پر ہو رہے ہیں جہاں مستقبل کے معماروں کو تیار کیا جاتا ہے ۔ ہندوستانی تعلیمی نظام ہمیشہ سے اقدار اور اخلاقیات کا مجموعہ رہا ہے ۔ یہاں طلبا کی ذہن سازی کی جاتی ہے ۔ انہیں اچھا شہری بننے میں مدد کی جاتی ہے ۔ ان کی کردار سازی کی جاتی رہی ہے ۔ انہیں سماجی اچھائیوں اور برائیوں سے واقف کروایا جاتا رہا ہے لیکن حالیہ وقتوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ صورتحال تشویشناک حد تک بگڑنے لگی ہے ۔ تعلیمی اداروں میں ایسے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جن سے ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ بعض اداروں میں تو طلبا میں اخلاقیات اور اقدار کو فروغ دینے کے ذمہ دار اساتذہ ہی انتہائی غیر اخلاقی حرکتیں کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ خود اساتذہ کی صفوں میں ایسے درندے بے نقاب ہوئے ہیں جنہوں نے طلبا کا جنسی استحصال تک کیا ہے اور دست درازی کے واقعات میں ملوث ہوئے ہیں۔ جب اساتذہ میں اس طرح کا رجحان اور کردار سامنے آتا ہے تو پھر اس کے اثرات یقینی طور پر طلبا پر مرتب ہوسکتے ہیںاور اب ہونے لگے ہیں۔ اس طرح کے واقعات ہندوستانی روایات اور کلچر کے مغائر ہیں۔ ان کی روک تھام کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے نہ صرف اساتذہ برادری بلکہ اولیائے طلبا اور والدین کو بھی اس تعلق سے سنجیدگی سے غور کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔
سرکاری سطح پر ہو کہ عوامی سطح پر ہو ہر ایک کو اس معاملہ کو سنجیدگی سے لینے اور اس سے سماج و معاشرہ پر مرتب ہونے والے اثرات کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ تعلیمی اداروں کو جب تک اس طرح کی بیہودہ اور تشویشناک صورتحال سے پاک نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک میں روایات اور اقدار کی باتیں کرنا فضول ہی ہوگا ۔ اس سارے معاملہ میں باضابطگی سے کام کرنے کی ضرورت ہوگی اور محض دکھاوے کیلئے کچھ اقدامات کرنے کی بجائے ملک اور قوم کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع منصوبہ تیار کرکے کام کرنا ہوگا ۔ جب تک ہر ذمہ دار اور فکرمند گوشہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کریگا اور صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اپنا رول ادا کرنے آگے نہیں آئیگا اس وقت تک اس طرح کے واقعات پیش آتے رہیں گے اور ہماری سماجی شبیہہ کو بگاڑنے میں اہم رول ادا کرتے رہیںگے ۔ مستقبل کے معماروں کو اور مستقبل کے ذمہ داروں کو اس صورتحال سے نجات دلانے کی کوشش سماج کے ہر گوشے کو کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT