Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر بنانا ضروری ‘ علم و ہنر سے ہی اقوام کی ترقی ممکن

تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر بنانا ضروری ‘ علم و ہنر سے ہی اقوام کی ترقی ممکن

’ تعلیم کی طاقت ‘ کانفرنس سے مرکزی وزیر نجمہ ہپۃاللہ کا خطاب : تلنگانہ حکومت تحفظات فراہمی کی پابند: ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی

حیدرآباد 20 ستمبر (سیاست نیوز) تعلیم کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام مذاہب میں تعلیم کے حصول اور تعلیم کے ذریعہ ترقی کا درس دیا ہے۔ مرکزی حکومت ملک بھر میں تمام طبقات کی یکساں ترقی کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے چودھویں فینانس کمیشن کی سفارشات کے بعد کئی محکموں و وزارتوں کے بجٹ میں تخفیف کی جبکہ وزارت اقلیتی اُمور کے بجٹ میں تخفیف کے بجائے اضافہ کیا گیا۔ مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مسز نجمہ ہپت اللہ نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ ’’تعلیم کی طاقت‘‘ کانفرنس سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ مرکزی حکومت اقلیتوں کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کررہی ہے اور انتخابات سے قبل کئے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ ’’تعلیم کی طاقت‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی، جسٹس ایم وائی اقبال جج سپریم کورٹ، مسز کے کویتا رکن پارلیمنٹ نظام آباد، مسٹر کشور کھرت ایم ڈی و سی ای او آئی ڈی بی آئی بینک، جناب شمس الدین محمد چیف امام مکہ مسجد چینائی، جناب خواجہ شاہد پرو وائس چانسلر مولانا آزاد اردو یونیورسٹی نے شرکت کی۔ جناب ظفر سریش والا چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے اس کانفرنس کی صدارت کی۔ محترمہ نجمہ ہپت اللہ نے میں کہاکہ لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان تعلیمی تفریق کے خاتمہ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکیوں کی بہتر تعلیم کے ذریعہ معاشرہ میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ تعلیم خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور علم و ہنر کے ذریعہ ہی اقوام کی ترقی ممکن ہوسکتی ہے۔ محترمہ نجمہ ہپت اللہ نے ہندوستان بھر میں موجود تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ملک بھر میں زائداز 600 یونیورسٹیاں اور 35 ہزار سے زائد کالجس موجود ہیں لیکن اُن کے معیار کو مزید بلند کیا جانا ناگزیر ہے چونکہ اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونی ملک کے طلبہ اِن یونیورسٹیز کا رُخ کرسکیں۔ فی الحال ہم ہندوستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک معیاری تعلیمی اداروں کا رُخ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مولانا آزاد نے ملک کی تعلیمی ترقی اور ہندوستان میں مستحکم تعلیمی بنیاد ڈالتے ہوئے جو کردار ادا کیا ہے، وہ ناقابل فراموش ہے۔

TOPPOPULARRECENT