Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی امداد کی نئی اسکیم کے لیے سخت ترین قواعد کا فیصلہ

تعلیمی امداد کی نئی اسکیم کے لیے سخت ترین قواعد کا فیصلہ

حیدرآباد۔/24جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے طلبہ کیلئے شروع کردہ تعلیمی امداد سے متعلق نئی اسکیم پر عمل آوری کیلئے سخت ترین قواعد مدون کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس اسکیم میں بے قاعدگیوں کو روکا جاسکے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے فیس بازادائیگی اسکیم کے ذریعہ نئی اسکیم FAST کا اعلان کیا جو تلنگانہ طلبہ کی مالی امداد سے متعلق ہے۔

حیدرآباد۔/24جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے طلبہ کیلئے شروع کردہ تعلیمی امداد سے متعلق نئی اسکیم پر عمل آوری کیلئے سخت ترین قواعد مدون کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس اسکیم میں بے قاعدگیوں کو روکا جاسکے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے فیس بازادائیگی اسکیم کے ذریعہ نئی اسکیم FAST کا اعلان کیا جو تلنگانہ طلبہ کی مالی امداد سے متعلق ہے۔ حکومت نے متحدہ ریاست میں مروجہ فیس باز ادائیگی اسکیم کو منسوخ کردیا ہے۔ اس نئی اسکیم پر عمل آوری کیلئے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جو رہنمایانہ خطوط اور شرائط کو طئے کرنے میں مصروف ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گذشتہ اسکیم میں کروڑہا روپئے کی مبینہ بے قاعدگیوں کو دیکھتے ہوئے نئی اسکیم میں حقیقی طلبہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے سخت شرائط شامل کی جارہی ہیں۔ طلبہ کی کالجس میں 75فیصد حاضری اور 50تا60فیصد نشانات کے حصول کو اہم شرائط میں شامل کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ تمام طلبہ مکمل فیس حاصل کرنے کے اہل نہیں ہوں گے بلکہ انٹرنس امتحان میں کامیاب ٹاپ 10یا پھر 20فیصد طلبہ کو ہی مکمل فیس ادا کی جائے گی۔ دیگر طلبہ کو جو معاشی طور پر پسماندہ ہیں تعلیمی فیس کا جزوی حصہ بطور مالی امداد منظور کیا جائے گا اور باقی فیس طلبہ کو اپنے طور پر برداشت کرنی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طلبہ کے نام استعمال کرتے ہوئے خانگی کالجس نے بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں کی تھیں۔ فرضی طلبہ کے نام لکھا کر لاکھوں روپئے کالجس نے ہر سال حاصل کئے اور اس میں متعلقہ عہدیداروں کی ملی بھگت بھی شامل رہی۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کی کمیٹی بہت جلد حکومت کو اپنی سفارشات پیش کردے گی۔ کمیٹی کی اہم سفارشات میں اسکیم پر عمل آوری کیلئے کالجس کے رول کو ختم کرنا ہے۔ حکومت اور کالجس کے درمیان کوئی رابطہ نہیں رہے گا بلکہ تعلیمی امداد راست طور پر طلبہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی۔ کالجس میں فرضی طلبہ اور کالج کی جانب سے بوگس کلیم کو روکنے کیلئے بائیو میٹرک مشین نصب کرنے کی تجویز ہے تاکہ طلبہ کی حاضری پر نظر رکھی جاسکے۔ ان مشینوں کا راست تعلق متعلقہ یونیورسٹیز سے ہوگا۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کالجس طلبہ کی حاضری کے بغیر ہی ان کی فیس باز ادائیگی کی رقم حاصل کررہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگسٹ 2012ء میں انجینئرنگ کالجس کی دھاندلیوں کا پتہ چلانے تشکیل شدہ عہدیداروں پر مشتمل ٹاسک فورس نے حکومت کو جو رپورٹ پیش کی اس میں کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کالجس میں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے اور قابل لکچررس کے نام پر جونیر لکچررس کو رکھا گیا ہے۔ کئی کالجس ایسے پائے گئے جہاں باقاعدہ کلاسیس کا بھی نظم نہیں تھا۔ اس قدر بڑے اسکام کا پردہ فاش ہونے کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ نے فیس باز ادائیگی اسکیم کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور حقیقی و مستحق طلبہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے نئی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس باز ادائیگی اسکیم کے تحت ہر سال تقریباً 10ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے، ان میں 75فیصد رقم خانگی کالجس کو جارہی تھی۔ نئی اسکیم کے آغاز سے توقع ہے کہ تلنگانہ حکومت کو سالانہ 4,300 کروڑ روپئے ادا کرنے ہوں گے۔ ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد حکومت FASTاسکیم پر عمل آوری کے رہنمایانہ خطوط جاری کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT