Friday , July 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی انقلاب کیساتھ مسلمانوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کے دروازے کھل جائیں گے

تعلیمی انقلاب کیساتھ مسلمانوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کے دروازے کھل جائیں گے

تعلیمی انقلاب کیساتھ مسلمانوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کے دروازے کھل جائیں گے
’’ناقص قیادت ‘‘مسلمانوں کا المیہ ، چیف منسٹر ریاستی بجٹ میں 12% مختص کرکے مسلمانوں سے ہمدردی کا ثبوت دیں : عامر علی خاں
l عامر علی خاں کی تحریک کو مسلمانوں کی متحدہ تائید : مولانا عبدالحمید السائح
l مسلمانوں کی خوشحالی کے بغیر سنہرا تلنگانہ ناممکن : سمیر احمد
l بودھن میں جلسہ عام سے مختلف شخصیتوں کا خطاب

بودھن ۔8 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست عامر علی خان نے کہا کہ مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ تلنگانہ میں 15% مسلمان ہونے کے باوجود نا قص قیادت یا قیادت کے فقدان کی وجہ سے ہم حکومت پر دبائو بنانے میں ناکام ہورہے ہیں ،کل جماعتی مسلم تحفظات جوائنٹ ایکشن کمیٹی بودھن کی جانب سے مرحبہ فنکشن ہال بودھن میں 12% مسلم تحفظات کے ضمن میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عامر علی خان نے کہا کہ 12% مسلم تحفظات کی فراہمی سے مسلمانوں میں جہاں تعلیمی انقلاب برپا ہوگا۔ وہیں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کے دروازے کھل جائینگے ۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ 12 فیصد مسلم تحفظات کی تمام قائدین نے جماعتی وابستگی سے بالا تر ہوکر تائید کی ہے ۔ مذہبی ، سماجی اور رضاکارانہ تنظیموں نے بھی اسکوکامیاب بنانے میں اپنا بھر پور تعاون پیش کیا جس کی بدولت چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی اور کونسل میں 12 فیصد مسلم تحفظات کی قرار داد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کی ہے مگر مسلمانوں کو وزیر اعظم نریندر مودی سے کوئی امید نہیں ہے ۔ بجٹ میں نا انصافی پر پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کی نمائندگی کرنے والے تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے اراکین پارلیمان احتجاج کرتے ہوئے مرکز پر دبائو بنانے کی کوشش کررہے ہیں ،تلگودیشم این ڈی اے کی حلیف ہونے کے باوجود مرکز سے دوستی سے زیادہ ریاست کے مفادات کو اہمیت دے رہی ہے ۔ٹی آرایس تو این ڈی اے کی حلیف ہی نہیں ہے لیکن مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کو پورا کرنے کیلئے ٹی آرایس اراکین پارلیمنٹ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے پارلیمنٹ بجٹ سیشن میں آوازاٹھانے اور کارروائی چلنے نہیں دیں ،ساتھ ہی مجوزہ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ میں اقلیتوں کو 12 فیصد بجٹ مختص کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپنی ہمدرد ی کا ثبوت دیں ۔ ایس سی ، ایس ٹی کارپوریشن سے ان طبقات کے بیروزگار نوجوانوں کو گاڑیوں کا مالک بنایا جارہا ہے مگر اقلیتی مالیتی کارپوریشن کی جانب سے اس طرح کی کوئی اسکیم پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ، سارے تلنگانہ میں 5لاکھ مسلم خاندان ہیں اگر ریاست کے مجموعی بجٹ میں اقلیتوں کو 12 فیصد بجٹ مل جاتا ہے تو یقینا مسلمانوں میں خوشحالی آئے گی ۔ آزاد ی سے قبل ریاست کے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب 40 فیصد تھا جو اب گھٹ کر ایک فیصد ہوچکا ہے ایک منظم سازش کے تحت پہلے مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کردیا گیا پھر ملازمتوں میں نظر انداز کیا گیا ۔ نظام اسٹیٹ میں مسلمانوں کا غلبہ تھا تاہم حکمرانوں نے مسلمانوں کی طاقت کو تین ریاستوں میں تقسیم کردیا ۔ مسلمان پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ۔ روز نامہ سیاست ریاست میں غریب ، ذہین اور ہوشیار مسلم طلباء کی کھوج میں ہے جو اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے خواہشمند ہیں ۔ایسے طلباء کی نشاندہی کرنے پر روزنامہ سیاست ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریگا۔ بودھن کے طالب علم علی احمد نے ایوریسٹ کی چوٹی پر چڑھتے ہوئے کارنامہ انجام دیا۔ بشیر الدین بابو خان بھی ملت کا درد رکھنے والی شخصیت تھی ۔ ترجمان تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی شجاعت علی نے کہا کہ سابق چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھرریڈی نے وعدہ کے مطابق 5 کے بجائے چار فیصد مسلم تحفظات فراہم کیا جس سے تقریباً سرکاری ملازمتوں میں ڈھائی تا تین ہزار مسلم نوجوانوں کو فائدہ ہوا۔ تعلیمی اعتبار سے بھی مسلمانوں نے بہت فائدہ اٹھایا ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست عامر علی خان نے کمر کس لی ہم سب کو ان کی تائید کرنی چاہئے ۔میرٹ کو کوئی طاقت کچل نہیں سکتی مگر میرٹ کے ساتھ تحفظات مل جائے تو مسلمانوں میں ترقی کا نیا انقلاب پیدا ہوگا۔ صدر ضلع کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ سمیر احمد نے کہا کہ عامر علی خان نے حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے 12 فیصد تحفظات کی تحریک کا آغاز کیا جس کے بعد سدھیر کمیشن ، بی سی کمیشن تشکیل دی گئی ۔اسمبلی میں قرار داد منظور کرتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے 12 فیصد مسلم تحفظات مسلمانوں کا دستوری و جمہوری حق ہے ۔اسمبلی میں 12 فیصد مسلم تحفظات کی مخالفت کرنے والی بی جے پی سے مرکز میں تائید حاصل ہونے کی کوئی امید نہیں ہے مسلمانو ں کی خوشحالی کے بغیر سنہرے تلنگانہ کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، وہ عامر علی خان کی تحریک سے بے حد متاثر ہیں اور مسلمانوں کو ان کا جائز حق دلانے کیلئے اس تحریک کی بھر پور تائید کرتے رہیں گے ۔ جلسہ کے کنونیر عبدالحمید السائح نے مسلمانوں کو متحد ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ عامر علی خان اپنے لئے یا اپنے ارکان خاندان کیلئے نہیں بلکہ غریب مسلمانوں کیلئے 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک چلارہے ہیں ۔35 فیصد مسلمان برقی سے 29 فیصد مسلمان اسکول سے 59 فیصد مسلمان تعلیم سے محروم ہیں سچر کمیٹی کے علاوہ دوسری کئی کمیشنوں نے مسلمانوں کو پسماندہ طبقات سے بھی پسماندہ قرار دیتے ہوئے تحفظات فراہم کرنے کی سفار ش کی ہے ،اپنے حقوق کو حاصل کرنے کیلئے انہوں نے مسلمانوں کو جاگنے کا مشورہ دیا ۔مفتی شیخ جابر اشاعتی نے 12 فیصد مسلم تحفظات کو مسلمانوں کا حق قرار دیا ۔ عامر علی خان نے جو تحریک شروع کی ہے وہ ناقابل فراموش ہے سیاست نے تحفظات کیلئے مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ سارے مسلمان بھی اس تحریک میں عامر علی خان سے مکمل تعاون کریں ۔عابد لئیق فاروقی جماعت اسلامی نے مسلمانوں کی پسماندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کیا جو ناکافی ہے حکومت پر دبائو بنانے کیلئے عامر علی خان نے جو تحریک شروع کی ہے اس کی سارے مسلمان تائید کریں ۔سیاست کی جدوجہد کے باعث ہی حکومت نے اسمبلی میں قرار داد منظور کی سی پی آئی کے قائد شیخ بابو نے کہا کہ کے سی آر نے حکومت تشکیل دینے کے اندرون چار ماہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھامگر وہ اس وعدہ کو فرامو ش کرچکے ہیں عامر علی خان نے جو تحریک شروع کی ہے اس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔ مولانا سید عبدالباقی قادری نظامی نے کہا کہ یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہے اگر تحفظات مل جائے تو ساری قوم کو اس کا فائدہ ہوگا۔روزنامہ سیاست نے مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے کا جو بیڑہ اٹھایا وہ ناقابل فراموش ہے ۔خواجہ فیاض الدین سابق کونسلر ، جروف اللہ خان کے علاوہ دیگر نے بھی مخاطب کیا ۔ پروگرام کا آغاز عبدالرحمن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ حافظ محمد افسر نے نعت شریف پیش کی ۔ اس احتجاجی جلسہ عام میں محمد اسماعیل ، کلیم پٹیل( تلگودیشم) ، مولانا سلطان قادری ، سید ریاض الحق ، محمد مطیع اللہ مرحبہ ، غوث شکر نگر ، عبدالحمید موظف سرکل انسپکٹر ، عبدالحکیم ، محمد غوث سی پی آئی، سید رفیع الدین رکن بلدیہ بودھن ، محمد فیروز رودرور، محمد کلیم پٹیل ، ایم اے حلیم ضلع آرگنائزنگ سکریٹری اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس نظام آباد و دیگر موجود تھے ۔ جلسہ گاہ میں عامر علی خان کی بکثر ت گلپوشی کی گئی ۔ جلسہ کے اختتام کے بعد ریالی کی شکل میں سب کلکٹر آفس پہنچ کر سب کلکٹر انوراگ جینتی کو 12 فیصد تحفظات کی یادداشت پیش کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT