Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی ترقی سے ہی معاشی اور سماجی ترقی ممکن

تعلیمی ترقی سے ہی معاشی اور سماجی ترقی ممکن

جون سے اقامتی مدارس کا آغاز ، اے کے خان کا مسلم جماعتوں ، تنظیموں اور اہم شخصیتوں سے اپیل
حیدرآباد ۔7اپریل ( سیاست نیوز) ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خان نے مسلم جماعتوں ‘ تنظیموں اور بااثر شخصیتوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی جانب سے قائم کئے جانے والے 70 اقامتی مدارس کے کامیاب آغاز میں تعاون کریں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے ٹی آر ایس حکومت نے اہم فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جون سے 70 انگلش میڈیم اقامتی اسکولس کے آغاز میں سنجیدہ ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ دو مرحلوں میں تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے 120 انگلش میڈیم اقامتی اسکولس قائم کئے جائیں ۔ اے کے خان نے کہا کہ تلنگانہ کے 10اضلاع میں عمارتوں کے انتخاب کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے ۔ اسکولس کیلئے تمام سہولتوں سے آراستہ وسیع عمارتوں کا انتخاب کیا جارہا ہے جہاں بہتر تعلیمی ماحول حاصل رہے گا  ۔ انہوں نے کہا کہ عمارتوں کے انتخاب کے بعد بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی اور مئی میں داخلوں کا عمل شروع ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ جون میں کسی بھی صورت میں اقامتی اسکولس کارکرد ہوجائیں گے اور ابتداء میں پانچویں تا ساتویں جماعت تک کلاسیس کا اہتمام کیا جائے گا ۔ لڑکیوں کیلئے 31اور لڑکوں کیلئے 37 اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ لڑکیوں کے اسکولس میں سلامتی اور سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے اور اُن کے اسکولوں میں عملہ کی اکثریت خواتین کی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کلاس کے دو سیکشن ہوں گے اور ہر سیکشن میں طلبہ کی تعداد 40ہوگی ۔ اے کے خان نے کہا کہ اقلیتوں کو چاہیئے کہ وہ اس سہولت سے بھرپور استفادہ کرے اور اپنے بچوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ تعلیمی ترقی سے ہی معاشی اور سماجی ترقی ممکن ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسکولوں میں طلبہ کے داخلے کے سلسلہ میں مختلف مذہبی ‘ سماجی اور سیاسی تنظیموں سے تعاون حاصل کررہے ہیں ۔ گذشتہ دنوں اے کے خان نے جمعیت العلماء ‘ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور اقامتی اسکولس کی افادیت سے واقف کرایا ۔ وہ بہت جلد مسلم سیاسی قائدین کا اجلاس طلب کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسلم تنظیمیں اور اُن کے قائدین توجہ نہ دیں اُس وقت تک اسکولوں کی اسکیم کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کے تابناک تعلیمی مستقبل کیلئے اس سہولت سے استفادہ ضروری ہے ۔ پہلے مرحلے میں تین کلاسیس کی کامیابی کے بعد دیگر کلاسیس کا اضافہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ داخلوں کیلئے طلبہ کی زائد تعداد کی صورت میں اسکریننگ ٹسٹ رکھا جائے گا ۔ اے کے خان نے کہا کہ وہ اقلیتی طلبہ کے داخلوں کے بارے میں پُراُمید ہیں ۔ وہ اردو اخبارات کے ایڈیٹرس سے بھی ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ میڈیا کا تعاون حاصل کیا جاسکے ۔ مختلف محکمہ جات میں شہر اور اضلاع میں اعلیٰ عہدوں پر فائز اقلیتی عہدیداروں سے ربط قائم کرتے ہوئے انہیں بھی اسکول اسکیم کی کامیابی میں شمولیت کی خواہش کی گئی ہے ۔ عوام میں شعور بیداری کیلئے تین زبانوں میں پمفلٹ اور پوسٹرس شائع کئے گئے ہیں ۔ مساجد میں پوسٹرس آویزاں کئے جائیں گے ۔ اسکولوں میں 75فیصد اقلیتی طلبہ کو داخلہ دیا جائے گا جب کہ 25فیصد طلبہ دیگر طبقات سے ہوں گے ۔ اسکولوں میں اخلاقی تعلیم کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے گیا ہے تاکہ ذمہ دار شہری تیار ہوسکیں ۔

TOPPOPULARRECENT