Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / تعلیمی سال 2017-18 سے نئے قواعد پر عمل آوری

تعلیمی سال 2017-18 سے نئے قواعد پر عمل آوری

ایک تا ساتویں ویں جماعت طلباء کیلئے سیکھنے کے مدارج مقرر کئے جائیں گے
بی ایڈ طلباء کو سرکاری اسکولس میں کلاسیس لینا ہوگا
نگرانکار ٹیچر کے علاوہ طلباء کی بھی رائے لی جائے گی
طلباء کو  اٹھویں ویں جماعت تک ناکام نہ کرنے کی پالیسی میں تبدیلی
سی بی ایس ای طلباء کیلئے کلاس X اگزامس لازمی
بی ایڈ کیلئے سنگل انٹرنس ٹسٹ منعقد کرنے وزارت فروغ انسانی وسائل کی تجویز

نئی دہلی ۔ 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) تعلیمی سال 2017-18ء سے پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلباء کیلئے سیکھنے کے نشانے مقرر کئے جائیں گے۔ انہیں قواعد میں شامل کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے گا۔ مرکزی وزیرفروغ انسانی وسائل پرکاش جاودیکر نے بتایاکہ مارچ تک ہم ایک تا ٓٹھویں ویں جماعتوں کیلئے سیکھنے کے مقررہ نشانوں کو قطعیت دیں گے۔ تعلیمی سال 2017-18ء سے اسے قواعد میں شامل کیا جائے گا جس کے بعد عمل آوری لازمی ہوگی۔ جاودیکر نے کہا کہ معیار تعلیم بالخصوص پرائمری سطح کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے اور حکومت اس پر توجہ دے رہی ہے۔ طلباء کیلئے تعلیمی نشانہ کی صراحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک لڑکا یا لڑکی جب کسی جماعت میں ہوتی ہے تو یہ پتہ چل جائے گا کہ اس کے سیکھنے کی سطح کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت فروغ انسانی وسائل اساتذہ کو ٹریننگ پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ بی ایڈ وغیرہ کے انعقاد میں معیار کے فقدان کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ٹیچر کے لئے تدریس ہی اصل ذمہ داری ہوتی ہے۔ لہٰذا ٹیچرس بننے کے خواہاں امیدواروں کو گورنمنٹ اسکولس میں کلاسیس لینا ہوگا اور ان کی جانچ صرف نگرانکار ٹیچرس ہی نہیں کریں گے بلکہ طلباء کی رائے بھی حاصل کی جائے گی۔ طلباء کو امتحان میں ناکام نہ کرنے کی پالیسی بھی تبدیل کی  جائے گی کیونکہ کئی ریاستوں نے شکایت کی ہیکہ اس پالیسی کے تحت ٓٹھویں جماعت تک طالب علم کو ناکام نہ کرنے کے نتیجہ میں اسکولس صرف مڈ ڈے میل اسکولس میں تبدیل ہوگئے ہیں اور جوابدہی و تعلیم ختم ہوگئی۔ پرکاش جاودیکر نے کہا کہ پانچویں ویں اور ٓٹھویں ویں جماعتوں میں امتحانات منعقد ہوں گے اور جو مارچ کے امتحانات میں ناکام ہوجائیں انہیں جون میں دوسرا موقع دیا  جائے گا۔ اس کے بعد ریاستوں کو یہ اختیار رہے گا کہ وہ طلباء کو ناکام قرار دیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بل تیار ہے اور توقع ہیکہ اس پارلیمانی سیشن میں متعارف کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اور اہم فیصلہ یہ بھی لیا گیا کہ تمام سی بی ایس ای طلباء کیلئے کلاس X بورڈ اگزام ہوگا۔ اس سے پہلے انہیں اس امتحان میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سی بی ایس ای طلباء کے لازمی کلاس X امتحان کو وسیع تر رضامندی حاصل ہوئی ہے۔ اس دوران عہدیداروں نے بتایا کہ وزارت فروغ انسانی وسائل بی ایڈ کیلئے سنگل انٹرنس ٹسٹ پر غور کررہی ہے۔ یہ ایک جانچ کا عمل ہوگا اور ریاستوں کا اپنا انٹرنس میکانزم بھی برقرار رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT