Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی معیار کو بہتر بنانے وائس چانسلروں اور رجسٹرارس پر زور

تعلیمی معیار کو بہتر بنانے وائس چانسلروں اور رجسٹرارس پر زور

کنٹراکٹ لیکچرارس کی خدمات کو باقاعدہ بنانے جلد فیصلہ ۔ جائزہ اجلاس سے ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کا خطاب
حیدرآباد 16 جولائی ( این ایس ایس ) ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر کڈیم سری ہری نے آج یونیورسٹیز کے وائس چانسلروں اور رجسٹرار پر زور دیا کہ وہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی ذمہ داری کو پوری کریں اور یونیورسٹیز و ہاسٹلوں میں منشیات کی لعنت اور ریاگنگ سے متعلق مسائل پر قابو پاتے ہوئے ان اداروں کا سابقہ وقار بحال کیا جائے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ کنٹراکٹ لیکچرارس کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائیگا اور ان کی تنخواہیں ایک رپورٹ ملنے کے بعد بڑھا دی جائیں گی ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تعلیمی اداروں اور جامعات میں سہولیات اور انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے 420 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آج یونیورسٹیز کے وائس چانسلروں اور دیگر عہدیداروں کا ایک اجلاس طلب کیا تھا جس میںجامعیات کیلئے ایک ایکشن پلان تیار کرنے پر غور و خوض کیا گیا ۔ اجلاس میں انہوں نے عہدیداروں اور حکام سے کہا کہ وہ اپنے اداروں میں فنڈم کو موثر انداز میں خرچ کریں اور پہلے مرحلہ میں 1061 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے جائیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں اہمیت کے حامل اور حساس نوعیت کے مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کیمروں کے ذریعہ مسائل کو روکا جاسکتا ہے ۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے منشیات کی لعنت کے فروغ اور طلبا کے اس کا شکار ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجویز کیا کہ سی سی کیمرے نصب کرتے ہوئے ‘ حاضری کے بائیو میٹرک نظام کو رائج کرتے ہوئے اور معروف بیرونی جامعات کے ساتھ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے معاہدے کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے تعلیمی اداروں کیلئے خاطر خواہ فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لاتے ہوئے معیار تعلیم کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے وائس چانسلروں اور جسٹرارس سے کہا کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں 1550 جائیدادوں پر تقررات کے عمل کو تیز کریں کیونکہ اس کام کیلئے چیف منسٹر نے پہلے ہی منظوری دیدی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز کو قواعد کی پابندی کرتے ہوئے ان جائیدادوں پر تقررات کو یقینی بنانا چاہئے ۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ کنٹراکٹ لیکچرارس کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے تعلق سے جلدی ہی فیصلہ کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سلسلہ میں ایک رپورٹ طلب کی ہے اس کے بعد ہی ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کے تعلق سے فیصلہ کیا جائیگا ۔ انہوںنے یونیورسٹیز میں نئے طلبا کو ہاسٹلس فراہم کرنے پر بھی زور دیا ۔ اس بار پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا کہ جامعات میں ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے طلبا کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ کڈیم سری ہری نے وائس چانسلروں سے کہا کہ وہ پی ایچ ڈی داخلوں میں کسی سیاست یا اثر و رسوخ کو قبول کئے بغیر آگے بڑھیں اور دوسرے ریسرچ کورسیس کو بھی فروغ دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی اور دیگر جامعات نے علیحدہ تلنگانہ کی جدوجہد میں اہم رول ادا کیا ہے اور اب یہاں ریسرچ اور بہتر تعلیمی کورسیس پر توجہ دی جانی چاہئے تاکہ اس کے ذریعہ طلبا کو روزگار حاصل ہوسکے ۔

TOPPOPULARRECENT