Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی نصاب میں آر ایس ایس کے نظریات سے مذہبی منافرت ابھریں گے

تعلیمی نصاب میں آر ایس ایس کے نظریات سے مذہبی منافرت ابھریں گے

قومی و ریاستی سطح پر احتجاجی مہم شروع کرنے کا مشورہ، وزیراعظم پر پروفیسر کانچا ایلیا و دیگر کی تنقیدیں
حیدرآباد ۔ 22 اگست (سیاست نیوز) پروفیسر کانچا ایلیا نے وزیراعظم نریندر مودی پر آر ایس ایس کے نظریات کو تعلیمی نصاب میں شامل کرتے ہوئے طلبہ اور نوجوانوں میں مذہبی منافرت اور باغیانہ تیور ابھارنے کا الزام عائد کیا ۔ قومی اور ریاستی سطح پر تعلیمی بحران خطرناک رخ اختیار کرلینے کے خدشات کا اظہار کیا۔ تعلیم کو زعفرانے سے بچانے کیلئے قومی و ریاستی سطح پر احتجاجی مہم شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے زیراہتمام اندرا بھون میں بعنوان ’’تعلیم اور روزگار ۔ وعدے اور اقدامات‘‘ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر کانچا ایلیا نے کہا کہ راجیو گاندھی نے سیکولر ذہن کے ماہرین کی خدمات سے استفادہ کرتے تعلیمی نصاب تیار کیا تھا جو ملک میں دستورہند کے دفاع، سیکولرازم کے فروغ، آپسی بھائی چارگی کو فروغ دینے کے علاوہ بیرونی ممالک میں ملک کے نوجوانوں کو اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوانے میں معاون و مددگار ثابت ہورہا ہے۔ تاہم نریندر مودی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت برسراقتدار آنے کے بعد گاندھی کے نظریات پر ساورکر کے نظریات کو فوقیت دی جارہی ہے۔ ملک کی تاریخ کو مسخ کرکے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔  کانگریس کے دورحکومت میں شروع کردہ ماڈل اسکول نظام سے دستبرداری اختیار کی جارہی ہے۔ سوٹ بوٹ والی این ڈی اے حکومت انگلش میڈیم اور سرکاری اسکولس کو بند کرتے ہوئے خانگی شعبہ کو ترجیح دے رہی ہے۔ آئی آئی ٹی اور آئی آئی اے ایم میں نان ویجیٹیرین فوڈ پر امتناع عائد کردیا گیا۔ تلنگانہ حکومت کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا فلسفہ ان کی سمجھ میں آج تک نہیں آیا ہے۔ اس کے بجائے ٹی آر ایس حکومت یونیفارم ایجوکیشن پالیسی کا آغاز کرے۔ تعلیم کو تجارت میں تبدیل کرنے والے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کو ختم کرتے ہوئے اس کی جگہ بارویں جماعت تعلیمی نظام کا آغاز کریں اور پروفیشنل کورسیس کیلئے انٹرنس ٹسٹ کا لزوم برخاست کردیں۔ بصورت دیگر اعلیٰ تعلیمی نظام خطرناک موڈ اختیار کرسکتا ہے۔ پروفیسر بھاگیا نائیک نے کہا کہ سیکولر ملک میں بی جے پی کی مکمل اکثریت سے مرکز میں کامیابی ملک پر بدنما داغ ہے۔ تاریخ سے ناواقف افراد کو ریسرچ کی ذمہ داریاں سونپی جارہی ہیں۔ گجرات میں تعلیمی نصاب کو مذہب سے جوڑنے اور آر ایس ایس کے نظریات اس سے جوڑنے کی وجہ سے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے اور پسماندہ طبقات کے افراد نے یہ کارروائی انجام دی ہے۔ اورنگ زیب سے مقابلہ کرنے والے شیواجی کو قومی ہیرو کی طرح پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے۔ راجہ مہاراجاؤں میں ملک میں سب سے خراب دور گپتا دور ہے بی جے پی اس دور کو تعلیمی نصاب میں سنہرے دور کے طور پر پیش کرتے ہوئے سیکولرازم کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 30 فیصد تعلیمی بجٹ گھٹا دیا۔ تلنگانہ میں اساتذہ کے تقررات کیلئے حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے۔ تاہم گوداوری پشکرالو پر 700 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ پروفیسر ناگیشور راؤ نے کانگریس کو تعلیم کے موضوع پر ورکشاپ کا اہتمام کرنے پر اظہارتشکر کرتے ہوئے حکومت سے تلنگانہ کے سرکاری مخلوعہ جائیدادوں پر وہائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہر سال ریٹائرڈ ہونے والے ایمپلائز کی جائیدادوں پر فوری اسی سال تقررات کرنے کا مطالبہ کیا۔ یونیورسٹی بحران کا شکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کا جائزہ لینے کیلئے دو کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹ طلب کرنے کا مشورہ دیا۔ اس ورکشاپ سے پروفیسر پی ایل ویشویشور راؤ، پروفیسر رمیش ریڈی نے بھی خطاب کیا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے صدارت کی۔ قائد اپوزیشن جاناریڈی، کانگریس کے رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ، ورکنگ پریسڈنٹ ملوبٹی وکرامارک، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین، سابق صدر مسٹر محمد سراج الدین، مسٹر خلیق الرحمن، مسٹر ایس کے افضل الدین، مسٹر عبداللہ کوتوال بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT