Monday , July 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی نظام میں تبدیلی کے امکانات موہوم

تعلیمی نظام میں تبدیلی کے امکانات موہوم

عدالتی حکم التواء کے بعد حکومت کی خاموشی ، سرکاری اساتذہ کی سرگرمیوں پر نظر
حیدرآباد۔17جنوری(سیاست نیوز) ریاست کے تعلیمی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی! حکومت نے نصاب کی تبدیلی کے سلسلہ میں جاری کردہ احکامات پر عدالتی حکم التواء کے بعد خاموشی اختیار کرتے ہوئے یہ پیغام دینا شروع کردیا ہے کہ ریاست میں خانگی اسکولو ںمیں سرکاری تعلیمی نصاب کے سلسلہ میں جاری کردہ احکامات کو قابل عمل بنانے کے معاملہ میں کوئی سختی نہیں کی جائے گی۔ حکومت تلنگانہ نے 2015 میں احکام جاری کرتے ہوئے تمام اسکولو ںمیں یکساں تعلیمی نصاب کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن اس مسئلہ پر خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے اعتراض کئے جانے کے بعد حکومت کے محکمہ تعلیم نے اس مسئلہ کا جائزہ لیا اور ان احکام کو برقرار رکھا تھا جس پر خانگی تعلیمی اداروں نے عدالت سے حکم التواء حاصل کرتے ہوئے خانگی ناشرین کی کتب شامل نصاب کرنے کی راہ ہموار کرلی لیکن اس کے بعد سے اب تک بھی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی بلکہ محکمہ تعلیم کے رویہ سے ایسا محسوس ہورہاہے کہ وہ خود حکومت کے ان احکامات کے حق میں نہیں تھے جن کے خلاف خانگی اسکولوں نے عدالت سے حکم التواء حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ بتایاجاتاہے کہ محکمہ تعلیم کے بعض عہدیداروں کی جانب سے اس مسئلہ پر اختیار کردہ رویہ کے سلسلہ میں حکومت کو واقف کروایا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آئندہ ماہ کے اواخر میں حکومت کی جانب سے خانگی اسکولو ںمیں خانگی نصاب کو فروغ دینے کے علاوہ ماڈل پیپرس اور گائیڈ کے استعمال کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت نے ریاست میں یکساں تعلیمی نصاب کے فروغ کے علاوہ ریاست میں گائیڈ‘ ماڈل پیپر کلچر اور خانگی ٹیوشن کے خاتمہ کو یقینی بنانے کی حکمت عملی تیار کرنی شروع کردی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آئندہ ماہ سے جن اسکولوں میں اضافی کلاسس اور ٹیوشن دیا جارہاہے ان کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت کاروائی کی جائے گی اور ماڈل پیپر اور گائیڈ کے ذریعہ درس وتدریس کا فریضہ انجام دینے والے اساتذہ کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلہ میں سرکاری اسکولو ں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور سرکاری اسکولوں میں بھی ماڈل پیپر یا گائیڈ کے ذریعہ بچوں کو تعلیم دیئے جانے پر اساتذہ اور اسکولو ںکے ہیڈ ماسٹرس کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے سالانہ امتحانات سے قبل بڑے پیمانے پر کاروائیوں کی منصوبہ بندی تیار کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT