Tuesday , December 11 2018

تعلیمی نظام کو اخلاق سے ہم آہنگ کرنا ضروری: جسٹس ملی مٹھ

بنگلورو۔/15فبروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست کے سینئر قانون داں اور سابق ہائی کورٹ جج جسٹس وی ایس ملی مٹھ نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ریاست کا تعلیمی نظام اخلاق سے عاری ہوچکا ہے۔ تعلیمی اداروں میں محض رٹاکر گریجویٹ تیار کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے سماج میں بدعنوانی عام ہوتی جارہی ہے۔ آج شہ میں بی ایم ایس لاکالج کی گولڈن جوبلی تقریبات سے مخاطب ہوکر کہاکہ تعلیمی نظام کے اخلاقیات سے دور ہوجانے کے سبب سماج میں کرپشن ، انتشار ،حسد اور ظلم بڑھتا جارہا ہے۔ اکثریہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے معاملات میں تعلیم یافتہ طبقہ ہی ملوث پایا گیاہے۔ یہ رجحان آنے والے دنوں میں ملک کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رٹی رٹائی تعلیم کے نظام سے طلبا میں نہ اچھے اخلاق آسکتے ہیں اور نہ یہ مستقبل میں ملک کیلئے سود مند شہری بن سکتے ہیں۔اگر اس تعلیمی نظام کے ساتھ اخلاق کو ہم آہنگ کردیا جائے تو فراغت کے بعد یہاں کے طلبا ملک کیلئے بہترین سرمایہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے مختلف گوشوں میں آئے دن عصمت ریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کیلئے قانون دانوں کی کمیٹی نے چند سفارشات پیش کیہے ان سفارشات میں جہاں زانیوں کو سخت ترین سزا کی تجویز کی گئی ہے، وہیں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو قید وبند میں رکھنے کی بجائے جرم ثابت ہونے پر پھانسی دے دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سائنس ، میڈیکل ، الیکٹرانکس اور ٹیکنیکل شعبوں میں تحقیق وترویج کے نتیجہ میں کئی نئے زاویے نکل آئے ہیں، مگر افسوس کہ ملک میں قانون کے نظام کا جو ڈھانچہ تقریباً ایک صدی پہلے جس طرح قائم ہوا آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔ قوانین کو عصری تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پرجسٹس ملی مٹھ نے زور دیا۔ ایسا نہیں کہ ملک کے قانون کو مرتب کرنے والوں سے کوتاہی ہوئی ہے، مگر ترقیاتی زمانہ کے تناظر میںان قوانین کو اور پختہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر کیرلا ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایس آر بنور مٹھ ، سابق اڈوکیٹ جنرل بی وی آچاریہ موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT