Tuesday , December 11 2018

تعلیمی نظام کو مکمل طور پر بدل دینے کی ضرورت

نئی دہلی ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہندوستان کے کئی تعلیمی اداروں میں معیار کا فقدان پایا جاتا ہے جس کا اثر راست طلبہ پر مرتب ہوتا ہے۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ظاہر کی اور کہا کہ ذہین طلبہ کو مواقع فراہم ہونا چاہئے اور بیرونی ممالک سے باصلاحیت طلبہ ک

نئی دہلی ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہندوستان کے کئی تعلیمی اداروں میں معیار کا فقدان پایا جاتا ہے جس کا اثر راست طلبہ پر مرتب ہوتا ہے۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ظاہر کی اور کہا کہ ذہین طلبہ کو مواقع فراہم ہونا چاہئے اور بیرونی ممالک سے باصلاحیت طلبہ کو ہندوستانی تعلیمی نظام کی طرف راغب کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کانوکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کو بھی بدل دیا جانا چاہئے جن میں کلاس رومس، مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات، بیرونی ممالک سے صلاحیتوں کو راغب کرنا اور تعلیمی نصاب میں تبدیلی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں 723 یونیورسٹیز اور 37 ہزار سے زائد کالجس ہیں لیکن معیار کے فقدان کی وجہ سے طلبہ عالمی سطح کی تعلیم حاصل نہیں کر پارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہین طلبہ بیرون ممالک جاکر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکردہ اداروں کو درجہ بندی کے عمل کو مؤثر اور منظم بنانا چاہئے تاکہ مثبت نتائج برآمد ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کی سرکردہ 200 یونیورسٹیز میں ہندوستان کا ایک بھی ادارہ شامل نہیں ہے۔ حالانکہ کئی ادارہ رینکنگ کے مقابلہ زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کو تحقیقاتی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی بھرپور وکالت کی اور کہا کہ ہمیں تدریس اور ریسرچ کو پرکشش کریئر کے مواقع میں تبدیل کرنا چاہئے۔ ہندوستان میں مریخ مشن کی تحقیقاتی سرگرمیوں کا ایک عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹی میں ریسرچ سرگرمیوں پرتوجہ نہیں دی جاتی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عظیم اور تہذیبی ورثہ کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اپنے قیام کے بعد سے مسلسل سرگرم عمل ہے اور ہندوستان کے تاریخی و ثقافتی بشمول اسلام کے ثقافت سے مالامال روایت کو پروان چڑھا رہی ہے۔ یہ سماجی و جنسی مساوات کو یقینی بنانے میں بھی اہم رول ادا کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT