Tuesday , January 16 2018
Home / آپ کے سوال / تعلیمی کورس کی وجہ جماعت چھوٹنا

تعلیمی کورس کی وجہ جماعت چھوٹنا

سوال : ہم دنیاوی تعلیمی کورس کر رہے ہیں جس کا وقت عصر کی اذاں سے لیکر مغرب سے پہلے تک ہے جس کی وجہ سے ہماری عصر کی جماعت چھوٹ رہی ہے۔ ہمارے گاؤں کی مسجد تین منزلہ ہے۔ نیچے کے حصے میں جماعت ہوتی ہے‘ اوپر کے دو حصے خالی رہتے ہیں۔ اس کورس سے واپسی کے بعد کیا ہم چند طلباء مل کر اوپر کے منزلوں میں جماعت بناسکتے ہیں یا نہیں یا انفرادی پڑھنا ب

سوال : ہم دنیاوی تعلیمی کورس کر رہے ہیں جس کا وقت عصر کی اذاں سے لیکر مغرب سے پہلے تک ہے جس کی وجہ سے ہماری عصر کی جماعت چھوٹ رہی ہے۔ ہمارے گاؤں کی مسجد تین منزلہ ہے۔ نیچے کے حصے میں جماعت ہوتی ہے‘ اوپر کے دو حصے خالی رہتے ہیں۔ اس کورس سے واپسی کے بعد کیا ہم چند طلباء مل کر اوپر کے منزلوں میں جماعت بناسکتے ہیں یا نہیں یا انفرادی پڑھنا بہتر ہے ۔ براہ کرم اس کا جواب جلد از جلد شائع کریں کیونکہ جتنی دیر ہوتی رہے گی اتنی جماعتیں ہماری چھوٹتی رہیں گی۔
واجد علی، ورنگل
جواب : اگر کسی وجہ سے جماعت چھوٹ جائے تو پہلی جماعت کے امام کے مقام سے ہٹ کر دوسری جگہ جماعت ثانی بنائی جاسکتی ہے۔

سودی لین دین والے کے پیچھے نماز
سوال : آپ سے دریافت کرنا ہے کہ اگر کوئی آدمی سود پر پیسے دیتا ہو، سودی کاروبار کرتا ہو یا سودی لین دین میں شریک رہتا ہو تو ایسے آدمی کے پیچھے نماز ادا کرنا ازروئے شرع درست ہے یا نہیں ؟
(2 کیا قادیانی جماعت سے گھر، دکان میں برکت کیلئے یا مرحومین کی مغفرت کیلئے قرآن خوانی ، آیت کریمہ پڑھوانا جائز ہے ؟
(3 کیا مرنے والے مرحوم کے نام سے چالیس دن کھانا کھلانا جائز ہے یا نہیں ؟ وہ کھانا کسی عمر رسیدہ یا جوان آدمی کو دے سکتے ہیں یا نہیں ؟
محمد فیضان الٰہی، بارکس

جواب : سود نص قطعی سے حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ احل اللہ البیع و حرم الربو (سورۃ البقرۃ 275 ) اور حرام کا مرتکب فاسق و فاجر ہے اور فاسق و فاجر کی امامت مکروہ ہے ۔ در مختار کتاب الصلاۃ باب الامامۃ میں ہے : یکرہ امامۃ عبد و اعرابی و فاسق و اعمی ۔ رد المحتار میں ہے : قولہ الفاسق من الفسق وھوا الخروج عن الاستقامۃ و لعل المراد بہ من یرتکب الکبائر کشارب الخمر و الزانی و اٰ کل الرباء نحو ذلک کذا فی البرجندی۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میں سودی کاروبار، لین دین کرنے والے کی امامت اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اگر وہ صدقِ دل سے توبہ کرلے تو اس کی اقتداء بلا کراہت جائز ہے۔
(2 قادیانی ختم نبوت کے قائل نہیں۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے صراحتاً نبوت کا دعوی کیا ہے۔ جو بھی مرزا غلام احمد قادیانی کو حق اور سچا مانتا ہے وہ اسلام سے خارج ہے اور اس کے سارے فکر اعمال رائیگاں و حبط ہیں۔ اس لئے قادیانی جماعت کسی کی مغفرت کے لئے قرآن خوانی کرے یا آیت کریمہ کی تلاوت کرے تو چونکہ وہ خود ثواب کے مستحق نہیں ہوتے اس لئے ان کا ایصال ثواب کرنا مرحومین کو بخشنا درست نہیں۔
(3 میت کو ثواب پہنچانے کی نیت سے جو کھانا کھلایا جاتا ہے وہ کسی ضرورت مند عمر رسیدہ ، ضعیف شخص یا کسی نوجوان کو دیا جا سکتا ہے ۔ فتاوی قاضی خان مطبوعہ برحاشیہ عالمگیری جلد 9 کتاب الھبۃ فصل فی التصدق میں ہے : رجل تصدق عن المیت و دالہ قابو یجوز ذلک و یصل الی المیت لما جاء فی الاخبار ان الحیی اذا تصدق عن المیت بعث اللہ تلک الصدقۃ الیہ علی طبق من النور۔

قرض لیکر حج کو جانا
سوال : مجھے ایک زمانہ سے حج کی خواہش و تمنا تھی، میں نے کئی دفعہ حج کمیٹی میں فارم داخل کیا لیکن میرا نام نہیں آیا، اس دفعہ الحمدللہ میرا نام فہرست میں آگیا ، میرے پاس مختصر رقم تھی جو ابتدائی قسط میں نے ادا کردی ۔ دیگر اقساط میں نے قرض لیکر ادا کئے ۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قرض لیکر حج کو نہیں جانا چاہئے اور اگر قرض لیکر حج ادا کریں تو چونکہ اب فرض نہیں تھا ۔ جب بھی آپ کے پاس حج کو جانے کی رقم جمع ہوگی پھر دوبارہ حج کرنا ہوگا ۔ شرعی لحاظ سے میری رہنمائی فرمائے تاکہ حج کی روانگی سے قبل مجھے اطمینان قلب حاصل ہو۔
شیخ اسمعیل ، کریم نگر

جواب : صاحب استطاعت پر حج فرض ہے جو صاحب استطاعت نہیں یعنی جس کے پاس حج کی ادائیگی کے اخراجات اور خود کے اور واپس تک اہل و عیال کے نفقہ کی مقدار میں سرمایہ نہ ہو اس پر حج فرص نہیں اور کچھ سرمایہ ہو تو ازروئے شرع قرص لیکر حج کرنا ضروری نہیں کیونکہ وہ صاحب استطاعت نہیں ہے ۔ اور نہ کسی کو ازروئے شرع قرض لیکر حج ادا کرنے کی تر غیب دی جائے گی ۔ البتہ اگر کوئی شخص حج کیلئے قرض لیتا ہو اور وہ قرض کی ادائیگی پر قادر ہو تو اس کا قرض لیکر حج کرنے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ۔ ردالمحتار جلد دوم کتاب الحج صفحہ : 509 میں ہے : ولذاقلنا : لا یستقرض لیحج الا اذا قدر علی الوقاء ۔
پس آپ قرض کی ادائیگی پر قادر ہیں اور واپس کے بعد ادا کرسکنے کا یقین ہو۔ موت و حیات کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے کوئی ناگہانی صورت پیش آجائے تو اس قدر اثاثہ ہو کہ قرض ادا ہوجائے تو آپ کا قرض لیکر حج کو جانے میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور قرض لیکر حج کرنے سے آپ کا فرض حج ادا ہوجائے گا ۔ آئندہ حالات سازگار ہوجائیں اور مزید سرمایہ جمع ہوجائے تب آپ کو دوبارہ حج کرنا فرض نہیں ہوگا۔ جس نے بھی آپ سے اس طرح کہا کہ آپ کا فرض حج ادا نہ ہوگا ، وہ صحیح نہیں۔

میثاق مدینہ کی تاریخ
سوال : میں قانون کا طالب علم رہا ہوں اور میں اسلامی قانون سے متعلق مطالعہ کرتے رہتا ہوں اور اسلام تاریخ میںایک معاہدہ کو کافی اہمیت حاصل ہے ۔ وہ معاہدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاری سے کیا تھا ، جو اسلام کی جمہوری فکر کی غمازی کرتا ہے جس کو میثاق مدینہ کہتے ہیں ۔ مجھے دریافت کرنا یہ ہے کہ اس معاہدہ کی صحیح تاریخ کیا ہے؟ یہ معاہدہ کب کس وقت اور کس کے ساتھ کیا گیا ؟
محمد ندیم ، ٹولی چوکی
جواب : میثاق مدینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی الہامی بصیرت اور خداداد فراست کا شاہکار ہے ۔ ایک عظیم الشان ریاست کی تاسیس اور تدبیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ کارنامہ ہے جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ اس معاہدہ کی تاریخ کے بارے میں قدیم مورخین و محدثین کے ہاں کوئی واضح اختلاف نہیں پایا جاتا ۔ سبھی اسے ہجرت مدینہ کے فوری بعد اور غزوہ بدر سے پہلے کا معاہدہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ یہ ہیں۔ ہماری رائے میں یہ معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے آغاز کے وقت کیا گیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام کو استحکام و غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا ۔ نہ اس وقت تک اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم صادر ہوا تھا یہ (مدینہ کے) اہل کتاب تین گرہوں پر مشتمل تھے۔ بنو ’’قینقاع ‘‘ بنو نضیر اور بنو قریضہ (کتاب الاموال، 1 : 364 ) دور جدید کے اہل علم نے میثاق مدینہ کی تاریخ کو بھی موضؤع بحث بنایا ہے ۔ مجید خدوری نے بھی بڑے یقین سے اسے غزوہ بدر سے پہلے کی دستاویز قرار دیا ہے ۔ (The Law of War and ) (ص: 206 ۔ peace in islam )

ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اس معاہدہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور یہ رائے قائم کی ہے کہ اس کا پہلا حصہ غزوۂ بدر سے پہلے کا ہے اور دوسرا حصہ غزوہ بدر کے بعد کا ہے ۔ انہوں نے بڑی تفصیلی بحث کی ہے اور مضبوط دلائل دیئے ہیں ۔
بنو فینقاع جو اس معاہدہ کے ایک فریق تھے، انہیں غزوہ بدر کے ایک ہی ماہ بعد ، اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے پر مدینہ سے نکالا گیا۔ ابن اسحاق نے اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : ان بنی قینقاع کانوا اول یھود نقضوا ما بینھم و بین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حاربوا فی بدر واحد (ابن ہشام : السیرۃ االنبویہ 51:3 ) یعنی بنو قینقاع پہلی جماعت تھی جس نے اس معاہدہ کو توڑا جو ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا تھا ، انہوں نے بدر واحد کی درمیان مدت میں لڑائی کی تھی۔یہ عبارت اس بات کو پوری طرح سے واضح کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام یہودیوں سے جن میں بنو قینقاع بھی موجود تھے، یہ معاہدہ غزوہ بدر سے پہلے ہی کیا تھا۔واضح رہے کہ اس معاہدہ کے متن میں بنو قینقاع ، بنو نضیر اور بنو قریظہ کا نام درج نہیں۔ یاد رہے کہ ان قبائل کو اوس و خراج کا حلیف ہونے کی وجہ معاہدہ میں شریک کیا گیا۔

مرحوم بیوی کے ز یور کی تقسیم
سوال : مجھے آج سے دس سال قبل ایک ضرورت لاحق ہوئی اور میرے پاس سرمایہ نہ تھا، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اس کا زیور دیدے وہ فروخت کر کے اپنی ضرورت کی تکمیل کرونگا ۔ بعد ازاں اس کو اس کا زیور واپس دلادوں گا۔ اس بات پر بیوی نے مجھے اپنا زیور دیدیا، میں نے اس کو تقریباً تیس ہزار روپئے میں فروخت کیا اور اپنی ضرورت کی تکمیل کیا ۔ بعد میں گھر کے حالات ایسے کچھ رہے کہ میں اپنے وعدہ کے مطابق بیوی کو زیور دلا نہیں سکا اور خدائی کرنی ایسی ہوئی کہ دو سال قبل میری اہلیہ کا ایک عارضہ میں انتقال ہوگیا ۔ مجھے بار بار یہی خیال آتاہے کہ میں نے اس کو ز یور واپس نہیں دلایا۔ ازروئے شرع میرے لئے کیا حکم ہے۔ وہ تو حیات نہیں ہے ، کیا میں وہ رقم مسجد کی تعمیر میں یا کسی ایصال ثواب میں دے سکتا ہوں ۔ یا پھر کیا حکم ہے ؟
محمد انور ، پھسل بنڈہ
جواب:مرحومہ کا جو زیور آپ نے واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ آپ کے ذمہ قرض رہا اور انتقال کے سبب وہ مرحومہ کے متروکہ میں شامل ہوگا۔ جس کے حقدار مرحومہ کے ورثہ نہیں۔ جنہیں اگر مرحومہ کو اولاد ہو تو آپ کو بعد تقدیم ماتقدم علی الارث اس کا چوتھائی حصہ ملے گا اور اگر اولاد نہ ہو تو نصف حصہ ملے گا۔بہرحال اس رقم کو آپ دیگر ورثہ کی اجازت کے بغیر مسجد کی تعمیر یا کسی کا ر خیر رفاہ عام کے کاموں میں خرچ نہیں کرسکتے۔ اس رقم میں ورثہ اپنے اپنے حصہ اسدی کے مطابق حصہ پانے کے حقدار ہیں۔

نماز جنازہ میں تکبیرات کے بعد ہاتھ چھوڑنا
سوال : امام صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنے تک ہاتھ باندھے رکھا ۔ بعض اصحاب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ نماز نہیں ہوئی ۔ ایسی صورت میں شرعاً نماز جنازہ ہوئی یا نہیں ؟
حافظ امجد،ملے پلی
جواب : نماز جنازہ میں دو فرض ہیں۔ (1) چار تکبیرات یعنی چار مرتبہ اللہ اکبر کہنا (2) قیام یعنی کھڑے ہوکر نماز پڑھنا، نماز جنازہ میں تین امور مسنون ہیں۔ پہلی تکبیر کے بعد حمد و ثناء پڑھنا، دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھنا، تیسری تکبیر کے بعد میت کے لئے دعا کرنا۔ اس کے علاوہ جو امور ہیں وہ مستحبات و آداب سے تعلق رکھتے ہیں، فرائض کی تکمیل سے نماز ادا ہوجاتی ہے ۔
فقہاء کرام نے کن مواقع پر ہاتھ باندھے رہنا چاہئے اور کن مواقع پر ہاتھ چھوڑ دینا چاہئے، اس سلسلہ میں ایک قاعدہ بیان کیا ہے ، وہ یہ کہ ہر وہ قیام جس میں کوئی ذکر مسنون ہو ہاتھ باندھے رہیں اور جس قیام میں کوئی ذکر مسنون نہ ہو اس میں ہاتھ چھوڑدیں ، ذکر سے مراد ذکر طویل ہے ورنہ تحمید و تسمیع یعنی سمع اللہ لمن حمدہ ، ربنا لک الحمد بھی ذکر ہے ۔ اس کے باوجود قومہ میں ہاتھ باندھنا نہیں ہے۔ … و یضع یمینہ علی شمالہ تحت سرتہ کالقنوت و صلوٰۃ الجنازۃ و یرسل فی قومۃ الرکوع و بین تکبیرات العیدین فالحاصل ان کل قیام فیہ ذکر مسنون ففیہ الوضع و کل قیام لیس کذا ففیہ الارسال (شرح و قایہ جلد اول ص : 144) اس کے حاشیہ 7 میں ہے… فان قلت یخرج عنہ القومۃ لان فیھا ذکر امسنونا وھوالتحمید والتسمیع قلت المراد بالذکر الذکر الطویل …مذکورہ در سوال صورت میں خاص طور پر امام صاحب کو اور ان کی اقتداء کرنے والوں کو نماز کے ارکان و شرائط مستحبات و آداب کی رعایت رکھتے ہوئے نماز ادا کرنا چاہئے ۔ مذکورہ صورت میں نماز ادا ہوگئی تاہم خلاف استحباب عمل ہوا ہے۔ مصلیوں کا اعتراض صحیح نہیں۔

TOPPOPULARRECENT