Wednesday , December 19 2018

تعلیم اور محنت مسلمانوں کی ترقی کے راز ڈاکٹر محمد ممتاز علی سے خصوصی انٹرویو

 

محمد ریاض احمد
قوموں میں صحت مند تبدیلیاں، افکار اور نظریات کے ذریعہ لائی جاتی ہیں نہ کہ اداروں کے ذریعہ کیونکہ ادارے ، تنظیمیں اور جماعتیں بھی افراد کے فکر و نظر کی بنیاد پر پہچانے جاتے ہیں اور پھر کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سر سید احمد خاں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک فکر دی، عصری تعلیم کاراستہ طئے کرتے ہوئے کامیابی و کامرانی کی منزل کی جانب رواں دواں ہونے کا مشورہ دیا لیکن افسوس کہ سرسید احمد خاں کی اُس خواہش کو مسلمانوں نے خاطر خواہ اہمیت نہ دی جس کے نتیجہ ہندوستانی مسلمانوں ، ان کے نمائندوں اور سیاسی قائدین میں سائینسی، عقلی اور علمی فکر کی کمی پائی جاتی ہے جس کے باعث مسلمانوں کی ترقی کی رفتار دیگر آبنائے وطن کی بہ نسبت سُست روی کا شکار ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر محمد ممتاز علی نے ’سیاست‘ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ۔ وہ انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی آف ملائیشیا میں اسلامک اسٹڈیز اور مذاہب کے تقابل سے متعلق شعبہ کے صدر ہیں۔ حیدرآباد فرخندہ بنیاد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد ممتاز علی کئی دہوں سے ملائیشیا میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ متعدد کتب کے مصنف اور ایک شعلہ بیان مقرر بھی ہیں‘ ان کا دانشورانہ انداز تخاطب سامعین کے دلوں کو چھولیتا ہے۔ ان کے لیکچر میں مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ملائیشیا و جاپان میں بہت پسند کئے جاتے ہیں۔ خاص طور پر اسلامک اسٹڈیز پر وہ غیر معمولی عبور رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد ممتاز علی کو جماعت اسلامی ہند حیدرآباد کی جانب سے منعقد کی جارہی دو روزہ سٹی کانفرنس 2017 کے ماہرین تعلیم کے سیشن کی صدارت کیلئے بطور خاص مدعو کیا گیا ہے۔ ’’ بہار ہو کہ خزاں لا اِ لہ الا اللہ ‘‘ کے زیر عنوان اس کانفرنس کے مقاصد ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں میں ایک نیا عزم و حوصلہ اور اعتماد پیدا کرنا، ان کی توجہ غیر ضرور و غیر حقیقی مسائل سے ہٹاکر حقیقی مسائل کی جانب مبذول کرنا، نئی نسل میں دینی و عصری تعلیم کے حصول سے متعلق شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ ماہرین کے درمیان تحریکی کام کو مستحکم کرنا شامل ہیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی حالت سے متعلق سوال پر ڈاکٹر محمد ممتاز علی نے بتایا کہ گزشتہ دو دہوں کے دوران مسلمانوں نے تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجہ میں ان کی تعلیمی حالت میں کچھ بہتری آئی ہے۔ لیکن یہ بھی کہنا پڑے گا کہ سارے ملک میں اس تعلق سے یکساں کیفیت نہیں پائی جاتی۔ جنوب کے مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار ہوا ہے، شمال میں مسلمان تعلیمی میدان میں پسماندہ ہیں۔ معاشی اعتبار سے بھی ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعلیمی میدان میں مسلمانوں کو آگے آنے کیلئے بہت محنت، سچی لگن اور جوش وجذبہ کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے بے شمار پہلو ہیں جن پر ہم نے قابو پالیا کچھ ایسے پہلو ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔ تعلیم کے سلسلہ میں ایک خاص فکر کو فروغ دینا اور عام کرنا سب سے اہم کام ہے۔ مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ ان کے تعلیمی اداروں کا اس ملک میں کیا کردار ہے اور ان کے مقاصد کیا ہیں۔ اگر ہم اس فکر کے بارے میں غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمان بناء کسی ویژن اور مشن کے تعلیمی ادارے چلارہے ہیں جب تک ہم اپنے مشن اور ویژن کا تعین نہیں کرتے تب تک ہم اور ہمارے تعلیمی ادارے ترقی نہیں کر پائیں گے۔ اس سوال پر کہ ہمارا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ ملت کے مسائل حل کرنے آگے نہیں آتا، ملت کے مسائل پر آواز ٹھانے اسے شرم آتی ہے، اس کی کیا وجوہات ہیں؟ ڈاکٹر محمد ممتاز علی نے جن کی پیدائش گولکنڈہ کی قاضی گلی میں مسجد یک خانہ کے امام محمد محبوب علی اور محبوب بی کے گھر ہوئی تھی، ہمارے سوال کا جواب کچھ یوں دیا : ’’ جب ہمارے ہونہار اور تعلیمی میدان میں غیر معمولی مظاہرہ کرنے والے طلبہ اعلیٰ تعلیم مکمل کرلیتے ہیں تو ملت کے تعلق سے ان کے جذبہ میں کمی واقع ہوتی ہے، وہ قومی و علاقائی مفادات کے بارے میں تو بات کریں گے لیکن ملی مفادات کے بارے میں بات کرنے میں وہ شرم اور عار محسوس کرتے ہیں حالانکہ وہ ملت کا ایک حصہ ہیں اور زندگی کے ہر محاذ پر ملت کی بھلائی اور اس کی نمائندگی کے بارے میں سوچنا اور اس کی ترقی کے اقدامات کیلئے حرکت میں آنا ان کا فرض ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری اپنی حیثیت، اپنا وجود اور شناخت دین اسلام سے ہمارے تعلق اور وابستگی سے ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں چھوٹے چھوٹے نسلی گروپ خاص کر جین، پارسی اور سکھ ڈنکے کی چوٹ پر قومی مفاد کے ساتھ ساتھ اپنی شناخت اور اغراض و مقاصد کے تحت کام کرتے ہیں۔ ایسے میں ملت کے تعلیم یافتہ افراد کو تعلیمی و معاشی پسماندگی کا شکار اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں کی مدد کیلئے آنا ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈکٹر ممتاز علی نے بتایا کہ مسلمان تعلیمی شعبہ میں آگے بڑھتے ہوئے ہی اپنی تہذیب و تمدن اور شناخت کا تحفظ کرسکتے ہیں ورنہ انہیں شناخت کا مسئلہ درپیش ہوگا۔

حیدرآباد کا شمار ہندوستان کے ان چند ایک شہروں میں ہوتا ہے جہاں کے مسلمانوں کو خوشحال سمجھا جاتا ہے۔اس تعلق سے استفسار پر انہوں نے فرمایا کہ حیدرآبادی مسلمانوں میں تعلیمی شعور جاگ رہا ہے۔ روز نامہ ’سیاست‘ جیسے ادارے اور ایڈیٹر’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں جیسی شخصیتیں مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے میں مصروف ہیں، وہ ملت کو جھنجھوڑرہے ہیں تاکہ تعلیمی شعبہ میں ترقی کے ذریعہ زندگی کے ہر شعبہ بالخصوص سرکاری ملازمتوں، تجارتی سرگرمیوں ( کاروبار ) میں مسلمان بھی دیگر آبنائے وطن کے شانہ بہ شانہ چل سکیں۔ ڈاکٹر محمد ممتاز علی کے خیال میں حیدرآبادی مسلمان تعلیمی شعبہ پر اتنا خرچ نہیں کررہے ہیں جتنا خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا ہے کہ ملک میں فسطائیت، فرقہ واریت تیزی سے فروغ پارہی ہے، ایسے میں ملکی مسائل پر توجہ دینے کا مسلمانوں کیلئے یہ وقت موزوں ہے، موجودہ حالات میں اپنی توانائیاں اپنے تعلیمی و معاشی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ملک کی فلاح و بہبود کیلئے بھی صرف کریں۔ ہندوستان میں اکثر مسلمانوں میں قیادت کے فقدان کی باتیں کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر محمد ممتاز علی نے جنہیں نیشنل بک ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن آف دی گورنمنٹ آف ملائیشیا اور فیڈریشن آف نیشنل رائٹرس نے باوقار ایوارڈ سے نوازا ہے، جواب دیا کہ فی الوقت ہندوستان کے مسلمانوں میں قیادت کا فقدان پایا جاتا ہے اور ایک ہمدرد، مدبر اور سلجھی ہوئی قیادت کا نہ ہونا ہندوستانی مسلمانوں کا بڑا مسئلہ ہے اس کے علاوہ مسلمانوں میں تھنک ٹینکس یعنی مفکرین و دانشوروں کے اداروں کی کمی پائی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ سرکاری ذرائع اور وسائل سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھاپاتے۔ آج مسلم دانشوروں و مفکرین کو یہ دیکھنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا فیصد کیا ہے۔ سپریم کورٹ ، ہائیکورٹس اور تحت کی عدالتوں میں کتنے مسلم ججس، پبلک پراسیکیوٹرس اور مجسٹریٹس ہیں، یونیورسٹیز میں مسلم چانسلرس کی تعداد کیا ہے۔ کتنے مسلم پروفیسرس خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں میں مسلمانوں کا تناسب کیا ہے۔

تعلیمی شعبہ میں مسلم لڑکیوں کو لڑکوں پر حاصل برتری کے بارے میں سوال پر ڈاکٹر محمد ممتاز علی نے جن کی اہلیہ ڈاکٹر زینت کوثر بھی پروفیسر ہیں اور ان کی دو بیٹیوں نے بھی تعلیمی شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بتایا کہ اس میں والدین کا بڑا دخل ہوتاہے۔
اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو مسلم معاشرہ میں مسلم کلچر میں جفاکشی، سخت محنت و جدوجہد سے گریز کیا جارہا ہے۔ آرام پسندی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، لڑکوں کیلئے موبائیل فونس، موٹر سیکلس، موسیقی، گٹکھا اور وقت کا ضیاع ہی سب کچھ ہوگئے ہیں۔ ان لعنتوں نے انہیں سنجیدگی اور زندگی میں کچھ کردکھانے کے جذبہ سے دور کردیا ہے۔ ملائیشیا سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا مسلم ملکوں میں ایسا ملک ہے جہاں خواندگی کی شرح بہت اونچی ہے۔ 80-90 فیصد ملائیشیائی شہری اپنے بَل بوتے پر اور کسی حد تک حکومتی تعاون کے ذریعہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ملک میں تعلیمی و تحقیقی اداروں کا جال پھیلادیا گیا ہے۔ سائنسی و ٹکنالوجی کے میدان پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ ملائیشیائی حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کرتی رہتی ہے جس کے نتیجہ میں دیگر مسلم ملکوں کی بہ نسبت ملائیشیا کی معیشت بھی مستحکم ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد ممتاز علی نے کم از کم 27ملکوں کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے تعلیمی اداروں میں بے شمار لیکچرس دیئے اور مقالے پیش کئے ہیں۔ انھیں ہاورڈ یونیورسٹی میں بھی لیکچر دینے کا اعزاز حاصل ہے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ سخت محنت، جذبہ اور لگن کے ذریعہ عالمی سطح پر اپنی ایک منفرد پہچان بنانے والے ڈاکٹر محمد ممتاز علی گولکنڈہ ہائی اسکول، چادر گھاٹ ہائی اسکول، انوارالعلوم کالج، نظام کالج اور پھر عثمانیہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں اور علیگڑھ یونیورسٹی کے بھی فارغ التحصیل ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے نام پیام کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’’ محنت، دیانتداری اور آبنائے وطن کے سامنے خود کو سچے مسلمان کی حیثیت سے پیش کرنا ضروری ہے، اس لئے کہ مسلمان تعلیم یافتہ، محنتی، دیانتدار، بیباک و جرأتمند اور انسانیت کا ہمدرد ہوتا ہے اور یہی خوبیاں اس کی پہچان کی علامتیں ہیں۔‘‘
[email protected]

TOPPOPULARRECENT