Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیم میں قاعدے قانون کی بھرمار، حد سے زیادہ کنٹرول

تعلیم میں قاعدے قانون کی بھرمار، حد سے زیادہ کنٹرول

60 فیصد انجینئرس غیر متعلق نوکری پر مجبور، ششی تھرور کاخطاب

حیدرآباد 19 مارچ (سیاست نیوز) اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سابق سفارت کار اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہاکہ ہندوستانی نظام تعلیم ضرورت سے زیادہ باقاعدہ اور بہت زیادہ نگرانی کے تحت ہے۔ کل یونیورسٹی آف حیدرآباد میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کے زیراہتمام آج کے دور میں تعلیمی پالیسیوں کے موضوع پر اپنے خطاب میں اُنھوں نے کہاکہ بہت زیادہ قاعدے قانون ہیں اور اوپر سے کنٹرول بھی بہت زیادہ ہے۔ ہمارے پاس مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ہے جو یونیورسٹیز کو بتاتا ہے کہ کیا نصاب پڑھانا ہے۔ کورس کی میعاد کتنی ہو، کلاس روم کتنا بڑا ہونا چاہئے۔ کتنی تعداد میں داخلے دیئے جائیں، یہ سب کچھ ہے لیکن اس بارے میں کبھی غور نہیں کیا جاتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے کیا نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ششی تھرور نے کہاکہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پاس طلبہ کو فراہم کرنے کے لئے مناسب معیاری فیکلٹی نہیں ہے، انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ آئی آئی ٹی سے حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لئے تعلیم و تربیت کا درکار ماحول نہیں ہے۔ انھوں نے کہاکہ معیاری طلبہ تیار کرنے کے لئے کالجس تو ہیں لیکن کئی طلبہ ایسے ہیں جو کلاسیس میں حاضر نہیں رہتے۔ انھوں نے کہاکہ وسعت بھی چاہئے، مہارت بھی چاہئے، مساوات بھی چاہئے اور کام کرنے کی صلاحیت بھی چاہئے۔ ششی تھرور نے کہاکہ دنیا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی دو تہائی تعداد ہندوستان میں ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ روزگار کا ذکر کرتے ہوئے ششی تھرور نے کہاکہ 60 فیصد انجینئرنگ طلبہ ایسی ملازمت کررہے ہیں جس کے لئے انجینئرنگ کامیاب ہونا ضروری نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT