Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیم و تجارت مسلمانوں کی ترقی کے ضامن ! زاہد علی خاں

تعلیم و تجارت مسلمانوں کی ترقی کے ضامن ! زاہد علی خاں

فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے کشن باغ میں معذور شخص کیلئے دکان کا قیام، ایڈیٹر سیاست کے ہاتھوں افتتاح
حیدرآباد ۔ 19 ڈسمبر (نمائندہ خصوصی) میں یہی چاہتا ہوں کہ مسلمان تجارت کی جانب راغب ہوں۔ تجارت میں برکت ہی برکت ہے۔ اگر مسلمان تعلیمی و تجارتی شعبہ پر توجہ مرکوز کریں گے تو ان کیلئے ترقی و خوشحالی کی راہیں خودبخود کھل جائیں گی اور وہ دیگر ابنائے وطن کے شانہ بہ شانہ ترقی کے منازل طئے کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان نے کشن باغ میں ایک جسمانی معذور شخص کیلئے فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے قائم کردہ دکان کا افتتاح کرنے کے بعد کیا۔ ملت کی فلاح و بہبود کے کاموں میں سیاست ملت فنڈ کے شانہ بشانہ اور بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے فیض عام ٹرسٹ نے محمد اکرام کیلئے جملہ 76600 روپئے کی لاگت سے یہ کاروبار شروع کیا ہے۔ اپنی ذاتی دکان کے قیام پر محمد اکرام، ان کی اہلیہ اور دیگر ارکان خاندان کافی خوش ہیں۔ اس غریب لیکن محنتی شخص کی دکان کے افتتاح کی منفرد بات یہ رہی کہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان نے جہاں اس کا افتتاح انجام دیا وہیں پہلے خریدار کی حیثیت سے 1000 روپئے کی اشیاء بھی خریدیں۔ ان کی تقلید کرتے ہوئے افتتاحی تقریب میں موجود دیگر شخصیتوں نے بھی محمد اکرام کی دکان سے کچھ نہ کچھ سامان خریدا۔ اس موقع پر سکریٹری و ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور ٹرسٹی ڈاکٹر مخدوم محی الدین بھی موجود تھے۔ جناب افتخار حسین کے مطابق محمد اکرام جسمانی طور پر معذور ہیں اور اپنی بیوی و 5 سالہ بیٹی کے ہمراہ 2000 روپئے ماہانہ کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔ وہ اس علاقہ کی ایک کرانہ شاپ میں کام کیا کرتے تھے جس سے انہیں ماہانہ 5000 تا 6000 روپئے یافت حاصل ہوجاتی لیکن تین ماہ قبل دکان مالک دکان بند کرکے بیرون ملک روانہ ہوگیا جس کے بعد سے وہ بیروزگار ہوگئے تھے۔ محمد اکرام نہ صرف جسمانی طور پر معذور ہیں بلکہ صحت کے دیگر مسائل سے بھی دوچار ہیں۔ بیروزگاری میں گھر کا کرایہ، بچی کی ماہانہ 450 روپئے اسکول فیس کی ادائیگی اور گھر کا خرچ بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ادویات کی خریدی پر ماہانہ عائد ہونے والے اخراجات بھی ناقابل برداشت ہوگئے تھے لیکن اللہ عزوجل اپنے بندوں کیلئے کوئی نہ کوئی انتظام ضرور کرتا ہے۔ خوش قسمتی سے محمد اکرام کی اہلیہ ٹیلرنگ جانتی ہیں۔ انہوں نے پڑوسیوں کے کپڑوں کی سلوائی شروع کی، جس سے ماہانہ 3000 روپئے کی آمدنی شروع ہوگئی۔ محمد اکرام قرضدار بھی ہوچکے تھے۔ ان حالات میں انہوں نے اپنی ہونہار بیٹی کی اسکول فیس کیلئے فیض عام ٹرسٹ سے رجوع کیا اور تمام تفصیلات سے واقف کروایا جس پر نہ صرف ان کی بیٹی کی فیس ادا کی گئی بلکہ ان پر عائد 18000 روپئے قرض کے بوجھ سے بھی چھٹکارا دلایا گیا۔ محمد اکرام کی غربت ان کی معذوری کو دیکھتے ہوئے فیض عام ٹرسٹ نے ان کیلئے دکان کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر کشن باغ میں 3000 روپئے ماہانہ کرایہ پر ایک ملگی حاصل کرتے ہوئے دکان کا آغاز کردیا۔ اس ملگی کا 10 ہزار روپئے اڈوانس اور تین ماہ کا کرایہ بھی فیض عام ٹرسٹ نے ادا کیا۔ جناب افتخار حسین کے مطابق فلاحی کاموں میں ٹرسٹ کو ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان کی حوصلہ افزائی حاصل رہتی ہے۔ انہیں امید ہیکہ محمد اکرام محنت کے ذریعہ اپنے کاروبار کو وسعت دیں گے اور وہ دوسروں کیلئے ایک مثال بنیں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT