Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے خلاف ورکشاپ

تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے خلاف ورکشاپ

22 اگست کو گاندھی بھون میں مقرر، تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا اعلان
حیدرآباد /20 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کی جانب سے تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے خلاف 22 اگست کو گاندھی بھون میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں ماہرین مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی غلط پالیسیوں پر روشنی ڈالیں گے۔ اس دوران صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے کہا کہ مرکز میں نریندر مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے بعد تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جا رہے ہیں، جو دستور ہند کی نہ صرف خلاف ورزی ہے، بلکہ سیکولرازم کو داغدار بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ کو مسخ کرکے طلبہ جھوٹی اور بے بنیاد معلومات فراہم کی جا رہی ہیں اور اس کے لئے ہندوتوا ذہنیت کے حامل افراد کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مودی حکومت کی اس مہم کے خلاف کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آواز اٹھائی ہے اور اب 22 اگست کو دوپہر دو بجے گاندھی بھون میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس سے پروفیسر کانچی ایلیا، پروفیسر پی ایل ویشویشور راؤ، پروفیسر رمیش ریڈی، پروفیسر بھنگیا نائک، پروفیسر ناگیشور راؤ سابق رکن قانون ساز کونسل کے علاوہ دیگر ماہرین خطاب کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اب شعبہ تعلیم میں بھی سیاسی مداخلت کی جا رہی ہے اور مذہب کا عمل دخل بڑھایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے بھی تبدیل شدہ نصاب میں تلنگانہ کی تاریخ کو توڑ مروڑکر پیش کیا ہے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے تلنگانہ ریاست تشکیل دی، مگر ان کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں پروفیسر جے شنکر، طلبہ اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جدوجہد کو بھی نظرانداز کردیا گیا، جب کہ کے سی آر کو ہیرو بناکر پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل میں نااہل اور غیر موزوں افراد کا تقرر کیا گیا ہے اور آر ایس ایس ذہنیت رکھنے والوں کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ اسی طرح تلنگانہ میں وائس چانسلرس کے انتخاب کا اختیار گورنر سے چھین کر ٹی آر ایس حکومت اپنے ہاتھوں میں لینے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جب کہ کارپوریٹ تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ پر قابو پانے میں حکومت ناکام ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تشکیل ریاست کے بعد 100 انجینئرنگ کالجس کو بند کردیا گیا اور فیس باز ادائیگی و اسکالر شپس کی اجرائی میں مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے، جس سے طلبہ کی تعلیم پر اثر پڑ رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے 12,865 کروڑ روپئے کا تعلیمی بجٹ گھٹا دیا ہے، سماجی بہبود کے ہاسٹلس خستہ حالی کا شکار ہیں اور طبی تعلیم کو تجارت کے طرز پر فروغ دیا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT