Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیم کی تکمیل کے بعد روزگار کے حصول کیلئے درکار ضروریات کو پورا کریں

تعلیم کی تکمیل کے بعد روزگار کے حصول کیلئے درکار ضروریات کو پورا کریں

انٹرویو و مسابقتی امتحانات پر بہتر تیاری کا مشورہ ، دفتر سیاست میں مرزا ظہیر بیگ کا لکچر
حیدرآباد 9 اگسٹ (سیاست نیوز) ملازمتوں کے حصول کے لئے صرف ڈگری رکھنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے الگ قسم کی صلاحیت اور ضروریات ہوتی ہیں جس کے ذریعہ روزگار حاصل کیا جاسکتا ہے چاہے وہ پرائیوٹ سیکٹر ہو، ملٹی نیشنل کمپنیاں ہو یا سرکاری ملازمت ہو، ان کو پورا کرنا چاہئے۔ رکروٹمنٹ ٹسٹ کے جو امتحانی پرچے ہیں وہ آپ کے ڈگری سطح یا تعلیم حاصل کئے مضامین پر نہیں ہوتے بلکہ عام اور ذہنی صلاحیت، معلومات عامہ کے ساتھ تاریخ، معیشت وغیرہ ہوتے ہیں۔ سی وی انٹرویو کی تیاری پر نہایت معلوماتی لکچر دیتے ہوئے پروفیسر ظہیر بیگ سائنٹسٹ کنگ فہد یونیورسٹی دہران سعودی عربیہ نے یہاں محبوب حسین جگر ہال احاطہ سیاست میں کیا اور انٹرویو کے لئے ضروری ہے کہ ڈریس کوڈ، باڈی لینگویج کے ساتھ پراعتماد ہونا چاہئے۔ انھوں نے ڈگری ، انجینئرس، پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کو مخاطب کرتے ہوئے مفید مشورہ دیا اور ان سے بات چیت کرتے ہوئے سوالات کئے۔ امیدوار اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد جب ملازمت کیلئے جاب مارکٹ میں آتا ہے وہ سب سے پہلے مؤثر سی وی بنائیں ، پھر انٹرویو کی صحیح طور پر تیاری کے ساتھ پیش کریں۔ اس سے آپ کو اچھے سے اچھی کمپنی ملازمت بہ آسانی مل سکتی ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن اب جو گروپ I ، II اور III کے امتحانات لینے والی ہے اس میں انٹرویو 100 نشانات اور 75 نشانات کا ہے اور ان گروپ امتحانات میں کالج ؍ یونیورسٹی کے مضامین کے بجائے عام مضامین ہیں امیدوار نہیں پڑھا۔ اس کے لئے وہ اس کے مطابق تیاری کریں اور انٹرویو کو صحیح دے کر ملازمت حاصل کرکے اعلیٰ پوسٹ پر فائز ہوکر پراعتماد ہوکر تیاری کریں اور امیدوار اپنی معلومات کو بڑھانے کے لئے اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کریں۔ مسٹر ایم اے حمید نے مسابقتی امتحانات کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے گروپ امتحانات کے پرچے ان کے مقرر کردہ نشانات کے ساتھ ان کے زمرہ میں آنے والے پوسٹ کی تفصیلات بتائی۔ اس معلوماتی سمینار میں ظہیر بیگ نے لڑکے لڑکیوں سے سوالات کرتے ہوئے ان کے تشفی بخش جوابات دیئے۔ طاہر پاشاہ قادری، فرحان اور عرشیہ نے معاونت کی۔ آخر میں ایم اے حمید نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT