Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں

تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں

حیدرآباد،14؍ جنوری (پریس نوٹ)کسی بھی قوم کا وجود اس کی زبان سے ہے۔ زبان اگر فراموش کردی گئی تو قوم کی پہچان ختم ہوجائے گی۔ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے تقرر کو میں نے ایک بھاری ذمہ داری اور خدمت کے موقع پر طور پر قبول کیا ہے۔ یونیورسٹی کو ایک بین الاقوامی معیار ک

حیدرآباد،14؍ جنوری (پریس نوٹ)کسی بھی قوم کا وجود اس کی زبان سے ہے۔ زبان اگر فراموش کردی گئی تو قوم کی پہچان ختم ہوجائے گی۔ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے تقرر کو میں نے ایک بھاری ذمہ داری اور خدمت کے موقع پر طور پر قبول کیا ہے۔ یونیورسٹی کو ایک بین الاقوامی معیار کی دانشگاہ بنانے میں ہر ممکن کوشش کروں گا۔ جناب ظفر سریش والا، نئے چانسلر نے آج اردو یونیورسٹی کے اساتذہ اور عہدیداروں کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ چانسلر کی حیثیت سے تقرر کے بعد وہ آج پہلی مرتبہ یونیورسٹی کیمپس کے دورے پر پہنچے، جہاں پروفیسر محمد میاں، وائس چانسلر نے ان کا گرم جوشانہ خیر مقدم کیا۔ جناب سریش والا نے ہارون خان شیروانی مرکز برائے مطالعاتِ دکن کی نئی عمارت کا بھی افتتاح انجام دیا۔ تبادلہ خیال کی نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے جناب سریش والا نے اپنی گفتگو کا آغاز تلاوت کلام پاک اور درود شریف سے کیا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم پنپ نہیں سکتی۔ مسلمانوں کی ترقی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انہیں پڑھاؤ اور آگے بڑھاؤ۔ اب جبکہ انہیں یونیورسٹی کی خدمت کا موقع ملا ہے وہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ مانو کو عالمی سطح پر ایک ممتاز دانشگاہ کی پہچان حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کمی نہیں ہے لیکن انہیں مارکٹ کی ضروریات کے تحت ڈھالنا ہوگا۔ انہیں ہنر میں نکھار پیدا کرنا ہوگا۔ اردو کا فروغ صرف اردو پڑھانے سے نہیں بلکہ اردو طلبہ کو روزگار کی ضرورتوں کے پیش نظر تعلیم دینے سے ہوگا۔ جناب سریش والا نے جو گجرات کے ممتاز صنعت کار ہیں، اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ کے روزگار کے مواقع میں اضافہ کے لیے اپنے صنعتی روابط اور تعلقات بروئے کار لائیں گے۔

مختلف ادارے جس میں بامبے اسٹاک ایکسچینج شامل ہیں، بی کام طلبہ کے لیے مختلف کورسز چلاتے ہیں۔ وہ بھی مانو کے طلبہ کو تعلیم فراہم کرنے تیار ہیں۔ بہت جلد ہم ان سے بھی اس سلسلے میں بات کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل محترمہ اسمرتی ایرانی نے انہیں تیقن دیا کہ وہ مانو کی ترقی میں ہر ممکنہ مدد کریں گی۔ انہوں نے اسٹاف سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ اپنا کام محنت و ایمانداری سے کیجئے، میں بھی اپنا کام محنت و ایمانداری سے کروں گا۔ اس طرح یونیورسٹی کو کافی آگے لے جاسکیں گے۔ لارڈ میگھناتھ دیسائی نے بھی اردو یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے اپنی خدمات کا پیشکش کی۔ پروفیسر محمد میاں، وائس چانسلر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ فینانس کو جانتے ہیں انہیں شریعت کے متعلق معلومات کم ہوتی ہیں اور جو شریعت جانتے ہیں وہ فینانس سے ناواقف ہوتے ہیں۔ جناب ظفر سریش والا نے ہندوستان میں اسلامی بینکنگ کو فروغ دینے کے لیے کافی کام کیا ہے۔ ان کی سرپرستی میں یونیورسٹی ایسے افراد تیار کرسکتی ہے جو شریعت اور فینانس دونوں سے واقف ہوں۔ اس کے لیے شعبۂ مینجمنٹ و کامرس اور دیگر شعبے نمایاں رول ادا کرسکتے ہیں۔ پروفیسر محمد میاں نے یونیورسٹی کی تفصیلی رپورٹ پاور پوائنٹ کے ذریعہ پیش کی۔ ابتداء میں ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد، پرو وائس چانسلر نے اپنے خطاب میں چانسلر صاحب کا خیر مقدم کیا اور تعارف بھی پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT