Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیم کے ہتھیار سے غربت پر عائشہ جبین کا وار ، ایم بی بی ایس میں داخلہ

تعلیم کے ہتھیار سے غربت پر عائشہ جبین کا وار ، ایم بی بی ایس میں داخلہ

غریب والدین پر فخر ، 11 بھائی بہنوں کا تعلیمی مظاہرہ بھی متاثر کن،حوصلہ افزائی پر جناب زاہد علی خاں سے اظہار ممنونیت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ ستمبر : ( محمد ریاض احمد ) : سارے ملک میں آج کل فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کی آبادی پر کنٹرول کے لیے مسلم خاندانوں کو صرف دو بچوں تک محدود کردینے کے مطالبات بھی کئے جارہے ہیں اگر دیکھا جائے تو آبادی میں اضافہ ملک کی پیداوار میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے ۔ تاہم تعصب ، جانبداری ، عدم مساوات اور فرقہ پرستی ایسے عناصر ہیں جو ملک کی پیداوار اور ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اگر آبادی ترقی میں رکاوٹ ہوتی ، اس سے ملک کی صنعتی پیداوار پر اثر پڑتا یا غربت میں اضافہ ہوتا تو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین عالمی سطح پر دوسری بڑی معیشت نہیں ہوتا ، زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی ترقی و خوشحالی سے امریکہ اور اس کے حلیف پریشان نہیں ہوتے ۔ بہر حال قارئین … ہم آج آپ کو پرانے شہر کے ایک ایسے خاندان سے واقف کرواتے ہیں جہاں علم کی روشنی بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ یہ خاندان محمد جمیل حسین اور ان کی اہلیہ صبا فاطمہ کا ہے ۔ اس جوڑے کو الحمدﷲ ایک نہیں دو نہیں بلکہ 12 بچے ( 8 لڑکیاں اور 4 لڑکے ) ہیں اور ان میں سے گیارہ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ لکڑی کے فرنیچر دروازوں ، الماریوں ، کھڑکیوں وغیرہ کو پالش کا کام کرنے والے محمد جمیل حسین کی بڑی بیٹی عائشہ جبین کو گذشتہ ہفتہ ہی شاداں میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ ملا ہے ۔ اس ہونہار لڑکی نے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کے ذریعہ دنیا والوں کو یہ بتادیا ہے کہ مسلمانوں میں ذہین لڑکے لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں ، انہیں صرف صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے ۔

ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے عائشہ جبین کی بھر پور حوصلہ افزائی کی اور سیاست نے اسے اسپانسر کرتے ہوئے نونہالان ملت کے تئیں اپنا فریضہ ادا کیا ہے ۔ نواب صاحب کنٹہ کی رہنے والی عائشہ جبین نے سینٹ مارکس بوائز ٹاون جہاں نما سے ایس ایس سی میں امتیازی نشانات 8.2 کے ساتھ کامیابی حاصل کی ۔ نارائنا جونیر کالج چارمینار سے انٹر میڈیٹ میں 969 نمبرات حاصل کرنے والی عائشہ جبین کے جی سے لے کر انٹر میڈیٹ تک امتیازی کامیابی حاصل کرتی رہی ۔ اس لڑکی نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ان کے والد یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں یا پھر اس کے ذہن میں یہ بات بھی کبھی نہیں آئی کہ ان کی ماں صبا فاطمہ ساڑیوں پر اسٹون ٹانکنے کا کام کرتے ہوئے یومیہ صرف سو روپئے ہی کماتی ہیں ۔ عائشہ جبین کے ذہن میں ہمیشہ یہی خیال رہا کہ غریب ہونا کوئی بری بات نہیں ۔ بری بات تو علم سے دوری ہے ۔ بے شک عائشہ جبین کا خیال صد فیصد درست ہے اس لیے کہ دولت مند دولت کے ذریعہ دنیا کی ہر چیز خرید سکتا ہے لیکن علم نہیں خرید سکتا ۔ ہماری نظر میں دنیا میں وہ انسان غریب نہیں جن کے پاس دولت نہ ہو بلکہ سب سے غریب تو وہ ہیں جو علم جیسی دولت سے محروم رہتے ہیں ۔ ایمسٹ میں 4457 رینک حاصل کرتے ہوئے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرچکی عائشہ جبین اپنی کامیابی کے بارے میں بتاتی ہیں ’’ ماں باپ کی فرمانبرداری ، نمازوں کی پابندی ، اور پابندی سے مطالعہ میری کامیابی کی اہم وجوہات ہیں ۔ میں نے ایم ایس ملک پیٹ میں طویل مدتی ایمسیٹ کوچنگ میں داخلہ کے وقت ہی ایم بی بی ایس میں داخلے کو اپنا ہدف بنایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے مقصد کی تکمیل میں کامیابی عطا کی ‘‘ ۔ عائشہ نے بتایا کہ ان کی چھوٹی بہنوں عطوفہ جبین سری گائتری کالج کالا پتھر سے بی پی سی میں انٹر میڈیٹ کررہی ہے ۔ اس لڑکی نے بھی ایس ایس سی میں 800 نمبرات حاصل کئے ۔ عطوفہ جبین کے مطابق وہ آئی پی ایس آفیسر بننے کی خواہاں ہے ۔ عطوفہ کے عزم اس کی صلاحیتوں کو دیکھ کر راقم الحروف کو لگا کہ وہ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوگی ۔ تیسری بہن ادیبہ جبین جامعہ ریاض البنات سے حفظ کررہی ہے ۔ اس لڑکی نے تاحال 27 پارے حفظ کرلیے ہیں ۔ چوتھی بہن عافیہ جبین دسویں جماعت میں زیر تعلیم ہے ۔ پانچویں بہن عرشیہ جبین ساتویں جماعت کی طالبہ ہے ۔ 6 ویں نمبر پر بھائی مزمل حسین اقراء ہائی اسکول میں 6 ویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں ۔ اسی طرح شاذیہ جبین ، محمد مصطفی حسین ، آیت جبین ، ایانہ جبین اور مجتبیٰ حسین بالترتیب پانچویں ، تیسری اور ایل کے جی میں زیر تعلیم ہیں ۔ 12 ویں نمبر پر معراج حسین ہے جس کی حال ہی میں پیدائش ہوئی ہے ۔ عائشہ جبین کی والدہ صبا فاطمہ کے مطابق ان کے گھر میں ٹی وی نہیں ہے جب کہ کثیر الاولاد ہونے کے باعث وہ تقاریب میں شرکت سے بھی گریز کرتی ہیں اس لیے کہ آج کل شادی بیاہ میں شرکت پر تحفے تحائف دینے پڑتے ہیں ۔ اور وہ دعوتوں میں جاتے رہیں تو اپنے بچوں کو سب سے اہم تعلیم کا تحفہ نہیں دے سکتے ۔ عائشہ کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے 6 سال قبل اپنے ماموں کی شادی میں شرکت کی تھی اس کے بعد کسی تقریب میں شریک نہیں ہوئیں ۔ جمیل حسین کے مطابق ان کی دولت ان کا سرمایہ اولاد ہی ہے اور انہیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام بارہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنائے گا ۔ بہر حال عائشہ جبین نونہالان ملت کیلئے ایک مثال ہے اس نے اپنی کامیابی کے ذریعہ بتادیا کہ علم انسان کی تقدیر بدل دیتا ہے دنیا میں عزت و احترام دلاتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT