Saturday , April 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / تفریح طبع کیلئے کھیل کوداور’’بلووہیل گیم ‘‘کی آفت

تفریح طبع کیلئے کھیل کوداور’’بلووہیل گیم ‘‘کی آفت

اسلام دین فطرت ہے جوانسانی فطرت کی جائزخواہشات کی رعایت رکھتاہے ،یوں تو انسان کی خواہشات کی کوئی حد نہیں بسااوقات انسان خواہشات نفس کا اسیر بن کراسی دنیا میں کھوجاتا ہے جس سے مقصدتخلیق فوت ہوتاہے،اسلام دین فطرت ہونے کے ساتھ دین اعتدال ہے ،مقصدتخلیق کی تکمیل میں لگے رہکرتفریح طبع کیلئے کچھ وقت تفریح وسیاحت اورکھیل کو دکیلئے فارغ کیا جائے تو اسلام اسکی حوصلہ افزائی کرتاہے۔یہ دنیا اپنے دامن میں خوشی ومسرت کے لمحات بھی رکھتی ہے اوررنج وغم کی ساعات بھی،انسان کے شب وروز اس سے خالی نہیں ،انسان کی زندگی میں کبھی تناؤآجاتاہے اورافکارپریشاں اسکے دل ودماغ پر حاوی ہوجاتے ہیں جس سے کچھ وقت کیلئے وہ سکون کی نعمت سے محروم رہتاہے۔اللہ سبحانہ وتعالی کے احکام کی تعمیل اورا سکی عبادت ،اسکے ذکر وفکرمیں زندگی بسرکرتے ہوئے جو راحت وسکینت انسانی قلوب کو پہنچتی ہے اس دنیا میں اس کا کوئی اوربدل ممکن نہیں، اسلام خشک مذہب نہیں ہے کہ انسانوں کو دن ورات عبادات اورذکر وفکرمیں مصروف رہنے کی دعوت دے بلکہ مقصدزندگی کی تکمیل کے ساتھ جائز راہ سے تفریح طبع کیلئے سیروسیاحت اورکھیل وکود اختیارکرنے کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔کچھ حبشی بچے کھیل کودمیں مصرو ف تھے، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو آتے دیکھ کر انہوں نے اپنا کھیل موقوف کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے ان کو کھیل جاری رکھنے کی ہدایت فرمائی اورفرمایا :یہودونصاری کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں وسعت ہے ۔خذوا یا بنی ارفدۃ حتی تعلم الیہود والنصاری ان فی دیننا وسعۃ (جامع صغیر) ایک اورروایت میں آپ ﷺ کا ارشادہے ’’کھیل کو دکرتے رہوکیونکہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تمہارے دین میں غلظت وسختی دکھائی دے‘‘الہووالعبوا فانی اکرہ ان یری فی دینکم غلظۃ(مسند احمد:۶؍۱۱۶)

چونکہ تفریح انسان کی فطری ضرورت ہے اس لئے اللہ سبحانہ نے تفریح طبع کے جائزوسائل وذرائع فراہم کئے ہیں ،جس سے استفادہ انسان کو فرحت وسرور بخشتاہے اوراسکی وجہ اللہ سبحانہ وتعالی کی مرضیات پر چلنے میں بڑی مددملتی ہے۔ سیروتفریح اور کھیل کودسے ،تفریح طبع،فرحت وانبساط ،جسمانی ورزش وصحت ا ورذہنی نشاط مقصود ہوا کرتا ہے،اس لئے حدیث پاک میں وارد ہے دلوں کوگاہے گاہے راحت وفرحت پہنچایا کرو۔روحوا القلوب ساعۃ فساعۃ (احکام القرآن :۳؍۱۹۵) اس مقصد کیلئے ایسے کھیل رائج تھے جس سے یہ عظیم مقاصد حاصل ہواکرتے تھے۔چہل قدمی،دوڑمیں حصہ لینا ،نشانہ بازی ،گھوڑسواری ،تیراکی ، مصارعہ یعنی کشتی لڑنا جو شرعی حدودمیں رہتے ہوئے نیک مقصدکیلئے ہو جیسے کھیل خیر القرون میں بھی مروج تھے،بعدازاں کبڈی،فٹبال، والی بال،لون پاٹ وغیرہ جیسے کھیل رائج ہوئے جو دل ودماغ کوفرحت بخشتے اورجسم وجان کو تندرستی وصحت اورطاقت وقوت فراہم کرتے تھے،اس دورمیں کرکٹ کا کھیل بھی اسکا متبادل ہے، لیکن موجودہ دورمیں اس کھیل کی جو خرابیاں ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں،مزیدکھیلنے والوں کے ساتھ کھیل کا تماشہ دیکھنے والوں کے اوقات کا ضیاع کوئی ڈھکی چھپی بات نہیںہے۔اسکے علاوہ کچھ ایسے کھیل بھی دورجاہلیت ہی سے رائج تھے،جیسے شطرنج،کبوتربازی،پرندوں یا درندوں کو لڑانا،گانا بجانا ،رقص وموسیقی وغیرہ جس کو اسلام نے پسند نہیں کیا،اس لئے ان جیسے کھیلوں کے قباحت وشناعت کی و جہ ان کھیلوں کی ممانعت احادیث پاک میں واردہے۔
موجودہ دورہر میدان میں ترقی اورنئے نئے انکشافات کا ہے،ان نئی ایجادات میں اس وقت انٹرنیٹ،اسمارٹ فون وغیرہ کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہے،بچوں ،نوجوانوں اوربزرگوں کی اس میں محویت کچھ ایسے جنون کی شکل اختیارکرگئی ہے کہ وہ آس پاس کے حال وماحول سے بے خبرہوجاتے ہیں ،بچے جو کبھی کھلونوںسے کھیلتے تھے اوران کی زندگی دوڑدھوپ اورکھلونوں سے دل بہلانے میں بسرہوتی تھی اب ان کے نازک ہاتھوں میں اسمارٹ فون آگئے ہیں ۔بچوں کی تربیت اوران کے کردارسازی کا ماحول ختم ہوتا جارہا ہے،سوشیل میڈیا میں انہماک نے موقع ہی باقی نہیں رکھا کہ معاشرتی تعلقات ورشتہ داریوں کو نبھایا جائے۔انٹرنیٹ اوراسمارٹ فون میں جہاں دنیا جہاں کی مفید معلومات علم وحکمت سے معموربیش بہا علمی خزانے اوراسلامیات کی آفاقی وفطری تعلیمات دستیاب ہیں وہیں ان میں کھیلوں کی دنیا بھی آبادہے ،بچوں ،نوجوانوں اوربزرگ مردوخواتین سب کیلئے اس میں ایسے کھیل رکھے گئے ہیں جواوقات خرابی ،دل ودماغ کی پراگندگی کے ساتھ ذہنی عیاشی کا سامان فراہم کرتے ہیں،انہیں کھیلوں میں ایک نیا کھیل اس وقت ایجاد ہواہے جو ’’بلووہیل گیم‘‘سے موسوم ہے۔یہ کھیل دوسرے معنی میں ’’موت کا کنواں‘‘ ہے،موجودہ دورانسان دشمنی کیلئے معروف ہوتاجارہاہے،سرخ کو سفید،سفیدکو سرخ کرکے دکھانے کا شیطانی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ عیاری،مکاری ودھوکہ بازی نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں،انٹرنیٹ اوراسمارٹ فون کے استعمال کے بڑھتے رجحان کی وجہ انسانی معاشرہ سخت کرب سے دوچارہے۔ایسی چیزیں معاشرہ میں تیزی سے پھیلائی جارہی ہیں جودرحقیقت انسانوں کو نقصان پہنچانے اوران کے جسم وجان سے کھلواڑکیلئے ایجاد کی گئی ہیں،جوانی کی دہلیزپر قدم رکھنے والی نوجوان نسل بہت جلد اس کھیل کے ہتھے چڑھ جاتی ہے چونکہ اس میں آزادی ،روشن خیالی اورافسانوی دنیا میں جینے کا تصورملتاہے۔ظاہر ہے حقیقی زندگی افسانوی زندگی سے بالکل مختلف ہوتی ہے،حقیقی زندگی میں وہ سحر انگیزی کہاں جو افسانوی زندگی میںپائی جاتی ہیں۔
بلووہیل گیم کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ ۲۰۱۳؁ء میں ایک روسی لڑکے نے اسکی ایجاد کی ہے ،اس کھیل کی تدریجی شکلیں پچاس حصوںپر مشتمل ہیں جو یکے بعد دیگرے روزانہ دیکھی جاتی ہیں، سن بلوغ کو پہنچنے والے لڑکیاں اور لڑکے جب اس کھیل میں داخل ہوجاتے ہیں تو اس میں آخرتک مشغول رہے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مغرب میں ’’ریالٹی ٹاسک گیمس‘‘متعارف کروائے جارہے ہیں،ان گیمس کی دنیا میں ایسے چیلینجزکچے اذہان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں جن کو مکمل کرنے اوراس دوڑمیں اپنے آپ کو سب سے آگے رکھنے کا جوش وجذبہ پروان چڑھنے لگتاہے۔ابتدائی مرحلہ میں تنہائی میں خوفناک اور ظلم وتشددپر مبنی فلمیں دیکھنے کا راستہ دکھایا جاتاہے، پھر آہستہ آہستہ نشہ آورادویات کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے، اس کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب اورکیسے وہ نشہ آوراشیاء اوردیگرغیر انسانی اورغیر اخلاقی عادات واطوارکا عادی ہوچکاہے ،اس طرح یہ کھیل بتدریج مشکل سے مشکل ترین راستوں کی طرف چل نکلتاہے،راتوں کی نینداس کھیل کے بھینٹ چڑھ جاتی ہے، اس کھیل میں داخل ہونے والا آہستہ آہستہ اسکے سحر میں کھوجاتاہے پھر وہ منزل آتی ہے جہاں اسے اپنی ذاتی معلومات جبرا ًفراہم کرنی پڑتی ہیں، آگے بڑھتے بڑھتے اس کو ایک ایسے چیالنج سے گزرنا پڑتا ہے جس میں اس کو خودکشی کی دعوت ملتی ہے ورنہ اس کی نجی زندگی کے گوشے عیاں کرنے اس کو یا پھراس کے قریبی اعزہ واقرباء کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یہاں تک اس کھیل کی انتہاء خودکشی پر ہوتی ہے۔اِدھرکھیل ختم ہواکہ اُدھرقیمتی زندگی کا خاتمہ ہوچکاہوتاہے،یہ ایک ایسا قاتل کھیل ہے جوکئی ممالک کے معصوم نوجوان لڑکیوں اورلڑکوں کو موت کی وادی میں ڈھکیل چکاہے۔

انسانی جان اللہ کی امانت ہے ،انسانوں کو پیداکرنے والا اوران کو زندگی بخشنے والا وہی خالق ومالک ہے جو انسانی جانوں کا مالک ہے،اسی کو زندگی دینے اورموت کی آغوش میں پہنچانے کا حق حاصل ہے،انسان کو خوداپنی جان اپنے ہاتھوںگنوانے کا ہرگزاختیارحاصل نہیں،اللہ سبحانہ نے ایمان والوں سے خطاب کرکے فرمایا’’کہ بے شک اللہ نے ایمان والوں کی جانیں اوران کے اموال جنت کے عوض خرید لئے ہیں‘‘(التوبہ:۱۱۱)ایمان والوں کیلئے یہ زرین ہدایت ایسی کسی مصیبت میں اپنے آپ کو جھونکنے سے بچاتی ہے ،ارشادباری ہے ’’اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت وتباہی میں نہ ڈالو ‘‘۔(البقرۃ:۱۹۵)
بلووہیل گیم سے انسانی معصوم جانوں کو سخت ترین خطرہ درپیش ہونے کی وجہ ساری دنیا میں شعوربیدارہواہے،بیرون ممالک میں بھی اس پرپابندی لگانے اوراس کھیل کے خطرناک نتائج سے نوجوان نسل کو آگاہ کرنے کی مہم شروع ہوچکی ہے،ہندوستان کے اعلی قانونی ادارہ سپریم کورٹ نے بلووہیل چیلنج جیسے جان لیوا کھیلوں سے بچوں کو واقف کروانے اوراس سے دوررہنے کا شعورپیداکرنے کی ضرورت پر زوردیاہے،چیف جسٹس دیپک مشراکی قیادت میں ایک ایسا تعلیمی ویڈیو بنانے کا مشورہ دیا گیاہے جونوجوان نسل کی ذہن سازی کرسکے اوران کوموت کے اس کنویں میں پہنچنے سے بچاسکے۔

TOPPOPULARRECENT