Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تقررات کے اعلامیہ سے قبل اقلیتوں کو بارہ فیصد تحفظات پر آرڈیننس کی اجرائی ضروری

تقررات کے اعلامیہ سے قبل اقلیتوں کو بارہ فیصد تحفظات پر آرڈیننس کی اجرائی ضروری

حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ ، محمد علی شبیر قائد کونسل تلنگانہ کا بیان

حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ ، محمد علی شبیر قائد کونسل تلنگانہ کا بیان
حیدرآباد 23 اپریل (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے اعلامیہ کی اجرائی سے قبل مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے سلسلہ میں آرڈیننس کی اجرائی عمل میں لائے۔ جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن ایوان قانون ساز کونسل تلنگانہ نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر تقررات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اِسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابات سے قبل کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کرے۔ تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے آئندہ چند ماہ میں بڑے پیمانے پر تقررات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی کی توقع ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اعلامیہ کی اجرائی سے قبل آرڈیننس جاری کرنے کی صورت میں ہی کمیشن کے ذریعہ ہونے والے تقررات و امتحانات میں مسلمانوں کو فیصد کے اعتبار سے تحفظات حاصل ہوپائیں گے۔ اُنھوں نے بتایا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے آرڈیننس کی اجرائی ایک مرتبہ پھر قانونی رسہ کشی کا شکار ہوسکتی ہے لیکن اگر تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے تقررات کا اعلامیہ جاری کیا جارہا ہے تو ایسی صورت میں آرڈیننس اُس سے پہلے جاری کیا جانا چاہئے تاکہ کم از کم پہلے بڑے پیمانے پر ہونے والے تقررات میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات حاصل ہوسکیں۔ جناب محمد علی شبیر نے کہاکہ حکومت مسلم تحفظات کے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے جس کی مثال سپریم کورٹ میں 4 فیصد تحفظات کے معاملہ میں جاری سنوائی کے لئے وکلاء کا عدم تقرر ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں سے جو وعدے حکومت نے کئے ہیں اُنھیں پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اِسی لئے بڑے پیمانے پر تقررات سے قبل یہ ضروری ہے کہ حکومت مسلمانوں کے تحفظات کے سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات کرے۔ ریاست تلنگانہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لئے امتحانی پرچہ جات کی تیاری کے عمل کے متعلق بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد تلنگانہ ریاستی پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے تقررات کے لئے امتحانات کے انعقاد کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی عمل میں آنے والی ہے۔ اعلامیہ کی اجرائی کے بعد اگر مسلم تحفظات کے سلسلہ میں آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں مسلم نوجوانوں کو اِس کے فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔ اِسی طرح اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ آرڈیننس جاری کرتے ہوئے تقررات کے اعلامیہ کے متعلق منصوبہ تیار کرتی ہے تو اِس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور بڑی تعداد میں مسلم نوجوان حکومت کے اقدامات سے استفادہ کرسکیں گے۔

TOPPOPULARRECENT