Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تقررات کے عمل میں قواعد کی خلاف ورزی کا اردو یونیورسٹی نے اعتراف کرلیا

تقررات کے عمل میں قواعد کی خلاف ورزی کا اردو یونیورسٹی نے اعتراف کرلیا

وزارت فروغ انسانی وسائل کے احکامات کی تصدیق،اعلامیہ کی اجرائی از خود تقررات کے عمل کا آغاز، وائس چانسلر کا دوہرا معیار

وزارت فروغ انسانی وسائل کے احکامات کی تصدیق،اعلامیہ کی اجرائی از خود تقررات کے عمل کا آغاز، وائس چانسلر کا دوہرا معیار

حیدرآباد۔/11اپریل،( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری بے قاعدگیوں اور قواعد کی خلاف ورزی کے بارے میں نئے نئے انکشافات منظر عام پر آرہے ہیں۔ یونیورسٹی کے حکام ان انکشافات کی لاکھ تردید کرلیں لیکن حقائق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ یونیورسٹی میں تقررات، تبادلوں اور ترقیوں میں قواعد کی خلاف ورزی کے علاوہ اقرباء پروری اور علاقائی عصبیت کی کئی مثالیں موجود ہیں جن کی وزارت فروغ انسانی وسائل سے شکایت کی گئی ہے۔ موجودہ وائس چانسلر جن کی میعاد 11مئی کو ختم ہوجائے گی، انہوں نے یونیورسٹیز کی روایات سے انحراف کرتے ہوئے سبکدوشی سے عین قبل بڑے پیمانے پر تقررات کا عمل شروع کیا ہے۔ اس بارے میں ’’ سیاست‘‘ کے انکشاف کے بعد یونیورسٹی نے یہ اعتراف کیا کہ وزارت فروغ انسانی وسائل نے 19جولائی 2004کو وائس چانسلر کے نام سرکیولر جاری کرتے ہوئے عہدہ کی میعاد کی تکمیل سے تین ماہ قبل سلیکشن یا پروموشن نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ وزارت فروغ انسانی وسائل کے اس سرکیولر کو بے خاطر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے اپنے عہدہ کی میعاد کی تکمیل سے عین قبل بڑے پیمانے پر تقررات کے دو اعلامیہ جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی نے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ وائس چانسلر نے میعاد کے اختتام سے تین ماہ قبل عملے کی بھرتی کا کام روک دیا۔ تاہم یونیورسٹی نے تقررات کے اعلامیوں کی اجرائی کا اعتراف کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یونیورسٹی ایک طرف تقررات کے عمل کو روکنے کا دعویٰ کررہی ہے تو دوسری طرف اعلامیوں کی اجرائی کا اعتراف کیا جارہا ہے جو از خود دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔ تقررات کا عمل اور اعلامیہ کی اجرائی دونوں علحدہ اُمور نہیں ہوسکتے۔ اس سلسلہ میں ’ سیاست‘ نے حیدرآباد کی ایک عظیم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کی رائے حاصل کی جس پر انہوں نے بتایا کہ اعلامیہ کی اجرائی از خود تقررات کے عمل کا آغاز ہے۔ سابق وائس چانسلر نے کہا کہ میعاد کی تکمیل سے چھ ماہ قبل اہم پالیسی فیصلوں سے گریز کرنا ہر یونیورسٹی کی روایت رہی ہے جو عملاً یو جی سی اور وزارت فروغ انسانی وسائل کے رہنمایانہ خطوط کے مترادف ہے۔ اردو یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر جن کی میعاد 11مئی کو ختم ہوگی، انہوں نے 31مارچ اور 5 اپریل کو تقریباً 100اہم عہدوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کیا جو ان کے اس دعویٰ کی نفی کرتا ہے کہ انہوں نے میعاد کی تکمیل سے تین ماہ قبل تقررات کا عمل روک دیا تھا۔ جن عہدوں پر تقررات کیلئے درخواستیں طلب کی گئیں ان میں رجسٹرار، فینانس آفیسر، کنٹرولر آف اکزامنیشن ، اسسٹنٹ رجسٹرار، پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر، اسوسی ایٹ پروفیسر جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔ یونیورسٹی نے ایسے وقت تقررات کیلئے درخواستیں طلب کی ہیں جبکہ مرکزی حکومت نے نئے وائس چانسلر کی تلاش کیلئے اعلامیہ جاری کردیا۔بتایا جاتا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر نے منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کردیئے تاکہ میعاد کی تکمیل کے بعد انچارج وائس چانسلر یا پھر پرووائس چانسلر کے ذریعہ اپنی پسند کے افراد کے تقررات کو یقینی بنایا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے موجودہ پرووائس چانسلر بھی وائس چانسلر سے کافی قربت رکھتے ہیں دہلی میں بھی یہ دونوں کی جوڑی بدنام رہی ہے اور ان کے مقاصد کی تکمیل میں وہ سبکدوشی کے بعد بھی اہم رول ادا کریں گے۔ عام طور پر وائس چانسلر کے تقرر تک پرو وائس چانسلر کو انچارج وائس چانسلر کی ذمہ داری دی جاتی ہے لہذا سبکدوش ہونے والے وائس چانسلر نے حکمت عملی کے ذریعہ تقررات کا عمل شروع کردیا لیکن اس کی تکمیل ان کی سبکدوشی کے بعد ان کے بااعتماد متوقع انچارج وائس چانسلر کریں گے۔ یونیورسٹی میں اقرباء پروری اور علاقائی تعصب کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بیشتر اہم عہدوں پر فائز افراد کا تعلق شمالی ہند سے ہے۔ سابق میں یونیورسٹی کے پی آر او کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے فرد کو دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف پروفیسر بلکہ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کے عہدہ تک پہنچادیا گیا اور اب انہیں رجسٹرار مقرر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس شخص کے قریبی رشتہ دار بھی یونیورسٹی میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر کے قریبی رشتہ دار جو ایک خانگی تعلیمی ادارہ سے وابستہ تھے انہیں پروفیسر، ڈین اور ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ تک پہنچادیا گیا۔ اتنا ہی نہیں یونیورسٹی میں وائی فائی فراہمی کے پراجکٹ کی ذمہ داری دی گئی جس میں بھاری مالی بے قاعدگیوں کی شکایات ہیں۔ وائس چانسلر نے سبکدوشی سے قبل اپنے مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے کیلئے 2013میں 3سال کی میعاد کیلئے مقرر کئے گئے رجسٹرار کو میعاد کی تکمیل سے قبل ہی فبروری میں استعفی دینے پر مجبور کردیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ رجسٹرار کی خواہش پر انہیں خدمات سے سبکدوش کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT