Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تقسیم آندھرا پردیش کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوں گی

تقسیم آندھرا پردیش کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوں گی

حیدرآباد /5 فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا نے کہا کہ چیف منسٹر تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک علاقہ کے چیف منسٹر ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ آج دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تمام سازشیں ناکام ہوں گی اور صدر کانگریس سونیا گاندھی علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیں گی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹ

حیدرآباد /5 فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا نے کہا کہ چیف منسٹر تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک علاقہ کے چیف منسٹر ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ آج دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تمام سازشیں ناکام ہوں گی اور صدر کانگریس سونیا گاندھی علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیں گی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے اپنے عہد کی پابند ہے اور پارلیمنٹ میں بل پیش کر رہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ علحدہ ریاست کی تائید کا اعلان کرنے والی بی جے پی اپنے وعدہ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے تلنگانہ بل کی تائید کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اے پی بھون میں خاتون وزراء، گورنمنٹ چیف وہپ جی وینکٹ رمنا ریڈی، کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر اور دیگر قائدین کے ساتھ پوٍلیس زیادتی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارے علاقہ کے عوام کی توہین ہے۔ تلنگانہ کی 60 سالہ تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ انھوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے وزراء، ارکان اسمبلی اور دیگر قائدین ہر توہین کو بخوشی قبول کریں گے، تاہم اس سلسلے میں ہر سازش ناکام ہوگی اور کوئی بھی طاقت علحدہ ریاست کی تشکیل کو روک نہیں سکے گی۔

انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے اپنے ساتھی وزراء اور ارکان اسمبلی کا احترام مناسب نہیں سمجھا اور سستی شہرت کے لئے اس پارٹی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس نے انھیں چیف منسٹر بنایا۔ انھوں نے کہا کہ 10 تا 15 فروری کے دوران تلنگانہ بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا، جب کہ سی پی ایم کے علاوہ تمام جماعتوں نے تلنگانہ کی تائید کی۔ انھوں نے کہا کہ صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کی دہلی آمد اور بی جے پی قائدین سے ان کی ملاقات کا تلنگانہ عوام جائزہ لے رہے ہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے پارٹی فیصلوں کی مخالفت اور اس کے باوجود حکومت کا حصہ بنے رہنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ سیاسی طورپر کانگریس ہماری ماں ہے، ہم کانگریس کی حکومت میں ہیں اور پارٹی فیصلوں پر عمل کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سو سالہ تاریخ رکھنے والی جماعت (کانگریس) کو اندازہ ہے کہ کیا فیصلہ کیا جائے۔ اگر سیما۔ آندھرا قائدین کو کوئی اعتراض ہے تو وہ مباحث میں حصہ لے کر اس کو پیش کریں۔ کانگریس اور ٹی آر ایس اتحاد یا انضمام کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ کانگریس ہائی کمان کرے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT