Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تقسیم ریاست، اضافی قیمتیں اور اسکامس سے کانگریس کو نقصان

تقسیم ریاست، اضافی قیمتیں اور اسکامس سے کانگریس کو نقصان

پارٹی میں نوجوان چہروں کی بھی کمی، تلنگانہ کانگریس ترجمان منے کرشانک

پارٹی میں نوجوان چہروں کی بھی کمی، تلنگانہ کانگریس ترجمان منے کرشانک

حیدرآباد ۔ 17 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ اور سیما آندھرا میں کانگریس کے خراب مظاہرے کو ریاست آندھراپردیش کی تقسیم اور نریندر مودی کی ملک میں لہر سے جوڑا جارہا ہے۔ کانگریس کو علاقے تلنگانہ میں 21 اسمبلی اور 2 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی جبکہ سیما آندھرا میں کانگریس کا مکمل صفایا ہوچکا ہے۔ تلنگانہ کانگریس کے ترجمان منے کرشانک نے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی لہر، اسکامس، قیمتوں میں اضافہ آندھراپردیش میں کانگریس کی شکست کے اہم اسباب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم غلط وقت پر کی گئی اور عوام سمجھتے تھے کہ ریاست کی تقسیم کے فیصلہ کو بدلا جاسکتا ہے۔ کانگریس کے مرکزی قائدین تقسیم اور علحدہ تلنگانہ موضوعات کی اصل حقیقت سے ناواقف تھے۔ ہائی کمان اس حقیقت سے دور تھی۔ علاوہ ازیں ریاست کیلئے مختلف انچارج، غلام نبی آزاد، جیا رام رمیش اور ڈگ وجئے سنگھ مختلف نظریات رکھتے تھے۔ اس لئے ہائی کمان شاید کوئی قطعی رائے قائم نہ کرسکی۔ دریں اثناء ٹی آر ایس تقسیم کے موضوع سے فائدہ اٹھایا جبکہ کانگریس کو اس کا کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ سیما آندھرا میں عوام نے بحیثیت چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کی پچھلی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر بھروسہ کیا اور انہیں ایک موقع دیا۔ سیما آندھرا میں ریاست کی تقسیم کا فیصلہ مخالف کانگریس لہر میں تبدیل ہوگیا۔ تلنگانہ کانگریس کے ترجمان منے کرشانک نے کہا کہ کانگریس قائدین کے درمیان اختلافات سے بھی کانگریس کا صفایا ہوا ہے جبکہ کئی کانگریسی خود اپنے ساتھیوں کے خلاف کام کررہے تھے۔ علاوہ ازیں سیما آندھرا کے کئی قائدین ریاست کی تقسیم کے مخالف تھے اور انہوں نے خود اپنی پارٹی کے خلاف کام کیا اور یہی قائدین نے پچھلے دروازہ سے کے سی آر کی تائید کی تھی۔ تلنگانہ کانگریس ترجمان منے کرشانک نے کہا کہ کانگریس میں نوجوان چہروں کی کمی سے بھی کانگریس کو نقصان پہنچا۔

TOPPOPULARRECENT