Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تقسیم ریاست پر سپریم کورٹ کا حکم التواء سے انکار خوش آئند

تقسیم ریاست پر سپریم کورٹ کا حکم التواء سے انکار خوش آئند

متحدہ آندھرا حامیوں کے لیے سبق ، ٹی ہریش راؤ ٹی آر ایس قائد کا ردعمل

متحدہ آندھرا حامیوں کے لیے سبق ، ٹی ہریش راؤ ٹی آر ایس قائد کا ردعمل

حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے ریاست کی تقسیم کو چیلنج کرتے ہوئے متحدہ آندھرا کے حامیوں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر حکم التواء دینے سے سپریم کورٹ کے انکار کا خیرمقدم کیا ہے۔ ٹی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکم التواء سے انکار خوش آئند ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور سیما آندھرا کے دیگر قائدین عدالتی کارروائی کی آڑ میں سیاسی میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کے اس اقدام کو متحدہ آندھرا کے حامیوں کیلئے ایک سبق قرار دیا جو مسلسل اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ ریاست کی تقسیم کو کسی طرح روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سابق میں بھی سپریم کورٹ میں ریاست کی تقسیم کے خلاف کئی درخواستیں داخل کی گئی تھیں اور عدالت نے ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے قانونی اور دستوری دائرہ کے تحت ہی ریاست کی تقسیم کا عمل مکمل کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ عدالت اس فیصلہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری اور مرکز کی جانب سے تلنگانہ ریاست کے یوم تاسیس کے اعلان کے بعد اب تقسیم کا عمل روکنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسی دوران پارٹی ترجمان ڈاکٹر شراون نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا جس میں تقسیم کے خلاف حکم التواء دینے سے انکار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیما آندھرائی طاقتیں اپنے علاقے میں عوامی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے عدالت کا سہارا لینا چاہتی ہیں۔ سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور کانگریس سے خارج کردہ سابق ارکان پارلیمنٹ سیما آندھرا عوام میں اپنی مقبولیت قائم کرنے کیلئے عدالتوں سے رجوع ہورہے ہیں حالانکہ اب ریاست کی تقسیم کو روکا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کرن کمار ریڈی کی جانب سے پارٹی کے قیام کے اعلان سے واضح ہوچکا ہے کہ وہ سیما آندھرا میں سیاسی فائدہ کیلئے ریاست کی تقسیم کی مخالفت کررہے ہیں۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں تلنگانہ میں آندھرائی جماعتوں کیلئے کوئی مقام نہیں ہوگا اور ٹی آر ایس شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کی تعمیرِ نو میں ٹی آر ایس کا اہم رول ہوگا، اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT