Saturday , December 15 2018

تقسیم ریاست کا عمل برق رفتاری سے جاری

حیدرآباد ۔12 اپریل (سیاست نیوز) مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ 21 کمیٹیاں 30 اپریل تک اپنی رپورٹس پیش کردیں گی۔ 26 لاکھ فائیلوں کو ڈیجیٹلائزڈ کردیا گیا ہے۔ گورنر کو اختیارات نہیں ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔ دونوں ریاستوں کیلئے بہت جلد علحدہ علحدہ ہائیکورٹس قائم کئے جائیں گے۔ لوکل اور ڈسٹرکٹ لیول پر خدمات انجام دینے والے ملازمین جوں کا توں کام کریں گے۔ صرف 80 ہزار ریاستی سطح کے ایمپلائز کے معاملے میں اختیارات کو اہمیت دی جارہی ہے۔ قطعی فیصلہ کمل ناتھ کمیٹی کرے گی۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ وہ دو دن قبل گورنر۔ چیف سکریٹری کے علاوہ اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کے تقسیم عمل کا جائزہ لے چکے ہیں۔ کام تیزی سے جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ 21 کمیٹیاں ذمہ داری سے کام کررہی ہیں اور وہ 30 اپریل تک اپنی اپنی رپورٹس پیش کردیں گی۔ 1.4 لاکھ کنٹراکٹس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ 75 ہزار معاہدے سیما ۔ آندھرا کے حصے میں آئے ہیں جس کی لاگت 97,000 کروڑ ہے جبکہ تلنگانہ کے حصہ میں 62 ہزار کنٹراکٹس آئے ہیں اور اس کی مالیت 1.88 لاکھ کروڑ جبکہ مابقی جنرل ہیں ۔جی ایچ ایم سی مشترکہ صدر مقام بہت جلد فیصلہ ہوجائے گا۔ سکریٹریٹ کو 2 حصوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ وظیفوں کی تقسیم کا بھی فیصلہ ہوگیا ہے۔ 3.4 لاکھ وظیفے سیما آندھرا اور 2.4 لاکھ وظیفے تلنگانہ کے حصے میں آئے ہیں۔ سیما آندھرا حکومت کو ماہانہ 700 کروڑ اور تلنگانہ حکومت کو 500 کروڑ روپئے ادا کرنا پڑے گا۔ ایمپلائز کی تقسیم کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی حکومت نے دو ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ایک کمیٹی سنٹرل گورنمنٹ اور دوسری کمیٹی اسٹیٹ گورنمنٹ کے ملازمین کی تقسیم کا جائزہ لے گی۔ ریاستی حکومت کے ملازمین تین زمرے لوکل ۔ ڈسٹرکٹ اور اسٹیٹ میں شامل رہتے ہیں۔ لوکل اور ڈسٹرکٹ زمرے کے ایمپلائز جہاں ہیں وہی کام کریں گے۔ صرف 80 ہزار ریاستی سطح کے ایمپلائز کو تقسیم کیا جائے گا۔ کمل ناتھ کمیٹی ریاستی سطح کے ایمپلائز سے ان کی رائے حاصل کررہی ہے۔ کسی کا زبردستی تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔ ایمپلائز اسوسی ایشن سے تجاویز طلب کی جارہی ہیں۔ ہر کام قانون کے دائرے میں کیا جائے گا۔ 119 کمپنیوں اور کارپوریشنس کو تقسیم کرنے کا عمل 2 جون تک مکمل ہوجائے گا۔ پانی کی تقسیم کیلئے علحدہ علحدہ بورڈس قائم کئے جائیں گے۔ دہلی میں موجود آندھرا بھون اور 15 ایکر اراضی دونوں ریاستوں کیلئے قابل قبول بنانے کی منصوبہ بندی تیار کی جارہی ہے۔ 2 ہائیکورٹس، 2 پبلک سرویس کمیشن تشکیل دینے کا بھی کام تیزی سے جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT