Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تقسیم ریاست کے بعد تقسیم بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ نا انصافی

تقسیم ریاست کے بعد تقسیم بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ نا انصافی

حیدرآباد ۔21 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی دو ریاستوں میں تقسیم کے بعد بجٹ اور ملازمین کی دونوں ریاستوں میں تقسیم کے سلسلہ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے جس کے باعث نہ صرف ملازمین بلکہ عہدیداروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومت نے مختلف محکمہ جات کے بجٹ ، اثاثہ جات اور ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں جو کمیٹی تشکیل دی ہے، ا

حیدرآباد ۔21 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی دو ریاستوں میں تقسیم کے بعد بجٹ اور ملازمین کی دونوں ریاستوں میں تقسیم کے سلسلہ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے جس کے باعث نہ صرف ملازمین بلکہ عہدیداروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حکومت نے مختلف محکمہ جات کے بجٹ ، اثاثہ جات اور ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں جو کمیٹی تشکیل دی ہے، اس نے تمام زمروں میں سیما آندھرا کیلئے 58 فیصد اور تلنگانہ کیلئے 42 فیصد کی تجویز پیش کی ۔ اس طرح تلنگانہ میں اقلیتی اداروں کے ملازمین اور بجٹ میں نمایاں کمی واقع ہوگی جس کا راست اثر سرکاری اسکیمات پر عمل آوری پر ہوگا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ کے ساتھ اس ناانصافی کے ازالہ کیلئے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود جناب سید عمر جلیل آئی اے ایس نے تقسیم سے متعلق اعلیٰ اختیاری کمیٹی کو تجویز پیش کی تھی کہ بجٹ اور ملازمین کے تقسیم کے موجودہ تناسب کو تبدیل کیا جائے

کیونکہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی سیما آندھرا کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔ اس تجویز کو سرکاری کمیٹی نے نامنظور کردیا۔ اب جبکہ دونوں ریاستوں کے قیام کیلئے 10 دن باقی ہے، اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے پھر ایک مرتبہ اس مسئلہ پر گورنر ای ایس ایل نرسمہن اور چیف سکریٹری پی کے موہنتی سے نمائندگی کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جناب سید عمر جلیل نے تقسیم کے موجودہ تناسب سے اختلاف کرتے ہوئے ایک نوٹ روانہ کیا جس میں وضاحت کی گئی کہ 2001 مردم شماری کے لحاظ سے تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی 43 لاکھ 10 ہزار ہے جبکہ سیما آندھرا میں 39 لاکھ 62 ہزار اقلیتیں آباد ہیں۔ اس اعتبار سے تلنگانہ کو بجٹ کا زائد حصہ ملنا چاہئے ۔ اقلیتی اداروں کی سرگرمیاں سیما آندھرا کے مقابلہ میں تلنگانہ میں زیادہ ہیں اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ تلنگانہ کیلئے 52 فیصد اور سیما آندھرا کے لئے 42 فیصد کا تناسب مقرر کرے۔ گورنر اور چیف منسٹر کو روانہ کردہ مکتوب میں اسپیشل سکریٹری نے کہا کہ اگر موجودہ تناسب کے اعتبار سے بجٹ اور ملازمین کی تقسیم عمل میں آئی تو زائد اداروں کے باوجود تلنگانہ میں بجٹ اور ملازمین کی کمی واقع ہوگی

اور کم آبادی کے باوجود آندھرا کو زائد بجٹ الاٹ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں اوقافی اداروں کی تعداد 33,529 ہے جبکہ سیما آندھرا میں 4600 اوقافی ادارے موجود ہیں۔ اگر موجودہ فارمولہ پر عمل کیا گیا تو زائد اداروں کے باوجود تلنگانہ وقف بورڈ کیلئے ملازمین تعداد کم پڑ جائے گی۔ انہوں نے گورنر اور چیف سکریٹری سے خواہش کی کہ وہ تقسیم کے تناسب کو تبدیل کریں۔ ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ وقف بورڈ میں اسٹاف کی جملہ گنجائش 156 ہے اور کئی جائیدادیں مخلوعہ ہونے کے باعث موجودہ اسٹاف کی تعداد صرف 125 ہے۔ یہ تمام ملازمین وقف بورڈ کے ہیڈکوارٹر حج ہاؤز میں برسر خدمت ہیں۔ ان ملازمین میں اٹینڈرس کی تعداد 40 ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جملہ ملازمین میں صرف 18 کا تعلق سیما آندھرا سے ہے۔ اگر موجودہ تناسب کے مطابق ملازمین کی تقسیم عمل میں لائی گئی تو تلنگانہ اسٹاف کو سیما آندھرا وقف بورڈ کیلئے الاٹ کرنا پڑے گا جبکہ قواعد کے مطابق رہائشی سرٹیفکٹ کی بنیاد پر ملازمین کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ تلنگانہ کے ملازمین کیونکر سیما آندھرا ریاست میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار ہوں گے۔ اسی دوران 2 جون کو تلنگانہ ریاست کے قیام کے ساتھ ہی ریاستی سکریٹریٹ اور اقلیتی بہبود کمشنریٹ کی تقسیم عمل میں آئے گی۔

سکریٹریٹ میں واقع اقلیتی بہبود ڈپارٹمنٹ میں جملہ 46 عہدیدار و ملازمین ہیں جبکہ کمشنریٹ میں منظورہ ملازمین کی تعداد 27 ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے جملہ عہدیدار و ملازمین 183 ہیں جن میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر ، سپرنٹنڈنٹس ، سروے آفیسرس و دیگر درجہ کے ملازمین شامل ہیں۔ تلنگانہ یوم تاسیس یعنی 2 جون کو صرف دو اداروں کی تقسیم کا عمل مکمل کرلیا جائے گا جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن ، کرسچین فینانس کارپوریشن ، سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز اور اردو اکیڈیمی کی تقسیم کیلئے وقت لگ سکتا ہے ۔ ان اداروں میں ملازمین ، اثاثہ جات اور فائلوں کی تقسیم کا کام اگرچہ قریب الختم ہے لیکن باقاعدہ دونوں ریاستوں میں علحدہ کارکردگی کے آغاز کیلئے وقت لگے گا۔ وقف بورڈ سروے کمشنر وقف، حج کمیٹی اقلیتی کمیشن اور وقف ٹریبونل کی تقسیم کیلئے کئی ماہ درکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان میں تین اداروں کی تقسیم کیلئے مرکز سے منظوری ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT