Saturday , December 15 2018

تقسیم ریاست کے بعد مختلف محکمہ جات کی تنظیم جدید

موجودہ اداروں کی تعداد میں تخفیف ، کارپوریشن اور بورڈس کے عہدیداروں سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی مشاورت

موجودہ اداروں کی تعداد میں تخفیف ، کارپوریشن اور بورڈس کے عہدیداروں سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی مشاورت

حیدرآباد۔/3اپریل، ( سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے بعد محکمہ جات اور اداروں کی تنظیم جدید کے سلسلہ میں تشکیل شدہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے ریاست میں موجودہ اداروں کی تعداد کو گھٹانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سرکاری خزانہ پر بوجھ کم کیا جاسکے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی اس سلسلہ میں روزانہ مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں اور کارپوریشنس و بورڈز کے ذمہ داروں سے مشاورت میں مصروف ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ریاست میں فی الوقت کارپوریشنوں اور بورڈز کی جملہ تعداد 149ہے جنہیں گھٹا کر 84کرنے کی سمت قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ اس کیلئے ایک ہی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مختلف اداروں کو ایک ادارہ میں ضم کردیا جائے گا۔ تعلیم، صحت، زراعت، بھلائی اور دیگر اہم شعبوں سے متعلق مختلف کارپوریشنوں اور بورڈز کو ایک ہی چھت کے نیچے کرتے ہوئے اداروں کی تعداد کم کردی جائے گی۔ اس طرح نہ صرف سرکاری ملازمین کی موجودہ تعداد کافی ہوجائے گی بلکہ سرکاری خزانہ پر ہر علحدہ ادارہ کے سبب پڑنے والا بوجھ بھی کم ہوجائے گا۔ ریاست کی تنظیم جدید سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی جس کے صدرنشین پرنسپل سکریٹری پنچایت راج و رورل ڈیولپمنٹ جے ریمنڈ پیٹر ہیں‘ انہوں نے آج مختلف طبقات کی بھلائی سے متعلق اداروں اور محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیت، کرسچین اور معذورین کی بھلائی سے متعلق تمام اداروں کو ایک ہی ادارہ کے تحت کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ یہ تمام بہبود سے متعلق ادارے ایک ہی پرنسپل سکریٹری کے تحت کام کریں گے جبکہ ہر طبقہ کی بھلائی کیلئے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ مختلف ہوں گے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن اور ایس سی، ایس ٹی، بی سی و معذورین کی بھلائی سے متعلق کارپوریشنوں کو ضم کرتے ہوئے ایک وسیع تر ویلفیر فینانس کارپوریشن تشکیل دیا جائے گا۔اس کارپوریشن کیلئے تلنگانہ اور سیما آندھرا میں دو علحدہ کمشنرس ہوں گے۔

اسی طرح مختلف طبقات کیلئے موجود علحدہ ہاسٹلس اور اقامتی اداروں کو بھی یکجا کرتے ہوئے تمام کیلئے ایک ہی ہاسٹل اور اقامتی اسکول ہوگا۔ ویلفیر فینانس کارپوریشن میں اقلیتی اور کرسچین فینانس کارپوریشن بھی ضم کرنے کی تجویز ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اقدام سے سرکاری خزانہ پر بوجھ کو نہ صرف کم کیا جاسکتا ہے بلکہ سیاسی نوعیت کے تقررات میں بھی کمی کی جاسکتی ہے۔ فی الوقت ہر طبقہ کیلئے علحدہ فینانس کارپوریشن موجود ہے اور ہر ایک کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرس، صدرنشین ان کے لئے مشاہرہ، سرکاری گاڑی اور دیگر الاؤنسیس کی فراہمی پر بھاری اخراجات ہورہے ہیں۔ ایک کارپوریشن کے تحت تمام اداروں کو ضم کرنے سے حکومت ان زائد اخراجات سے بچ جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حج کمیٹی اور وقف بورڈ علحدہ شناخت کے ساتھ دونوں ریاستوں میں کام کریں گے۔ دونوں ریاستوں میں علحدہ علحدہ حج کمیٹی اور وقف بورڈ ہوگا چونکہ یہ دونوں اداروں کی خدمات علحدہ نوعیت کی ہیں لہذا انہیں فلاحی اداروں کے زمرہ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم کی صورت میں موجودہ سرکاری ملازمین کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلے کئے جارہے ہیں۔ موجودہ تعداد کے حساب سے ریاست کی تقسیم کے بعد اگر تمام اداروں کو برقرار رکھا جائے تو ملازمین کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔کمیٹی کا احساس ہے کہ اصلاحات پر مبنی ان فیصلوں کے ذریعہ سرکاری رقومات کے اصراف سے بچا جاسکتا ہے۔ تمام اداروں سے ملازمین کی تعداد، اثاثہ جات اور بجٹ کے بارے میں بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ریاست کی تقسیم کے بعد آبادی کے اعتبار سے سیما آندھرا کیلئے 58فیصد اور تلنگانہ کیلئے 42فیصد بجٹ تقسیم کیا جائے گا اور نئی حکومتیں جائزہ لینے کے بعد مکمل بجٹ پیش کریں گی۔اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ارکان میں اسپیشل سکریٹری فینانس، اسپیشل سکریٹری پلاننگ، کمشنر سوشیل ویلفیر، کمشنر دیہی ترقیات، کمشنر قبائیلی بہبود، کمشنر اقلیتی بہبود، کمشنر بی سی ویلفیر، کمشنر ہیلت، کمشنر میونسپل اڈمنسٹریشن، کمشنر اسکول ایجوکیشن، کمشنر زراعت اور مختلف کارپوریشنوں کے منیجنگ ڈائرکٹرس شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT