Saturday , January 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / تقلیدانسان کی فطرت میں داخل ہے

تقلیدانسان کی فطرت میں داخل ہے

چونکہ تقلید کا ذکر آگیاہے ، اس لئے مختصر سی بحث اُس کی بھی بیان کرنا مناسب ہے ۔ اگر تفصیلی مبسوط بحث دیکھنا منظور ہو تو اور رسالوں میں ملاحظہ فرما ویں جو کثرت سے چھپ چکے ہیں۔ تقلید کے معنی یہ ہیں کہ کسی شخص کو معتبر سمجھ کر اُس کے قول و فعل کی پیروی بغیر طلب دلیل کی جائے ۔

چونکہ تقلید کا ذکر آگیاہے ، اس لئے مختصر سی بحث اُس کی بھی بیان کرنا مناسب ہے ۔ اگر تفصیلی مبسوط بحث دیکھنا منظور ہو تو اور رسالوں میں ملاحظہ فرما ویں جو کثرت سے چھپ چکے ہیں۔
تقلید کے معنی یہ ہیں کہ کسی شخص کو معتبر سمجھ کر اُس کے قول و فعل کی پیروی بغیر طلب دلیل کی جائے ۔
تقلید انسان کی فطرتی صفت ہے اور تمام کمالات کی تحصیل کا مبداء بھی یہی صفت ہے ۔ جس انسان میں یہ صفت کمی کے ساتھ ہوگی اُس کے کمالات میں نقص ضرور ہوگا۔ دیکھئے ! جب لڑکا کسی قدر سمجھنا شروع کرتا ہے تو ایک ایک چیز کا نام پوچھتا ہے اور اُس کے ماں باپ یا اور مربی جو کچھ بتلا دیتے ہیں اُس کو تقلیداً مان لیتا ہے ۔ اگر اس میں تقلید کا مادہ نہ ہوتا تو حیوان ناطق ہی بننے سے محروم رہ جاتا ۔ اور سوائے غائیں غائیں کرنے کے کوئی بات نہ کرسکتا ۔ اس طرح جب استاذ کے پاس جاتا ہے تو ہر ایک مسئلہ میں تقلید کی ضرورت ہوتی ہے ، ورنہ تمام علوم سے محروم رہ جائے ۔ پھر دین میں بھی تقلید کی ضرورت ہے ، چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : مَاٰ اتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرما ویں اُس کو قبول کرلو ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ چوں و چرا کی اجازت نہیں ، صرف آپ کے ارشاد کو بلا دلیل مان لیا کرو ۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کی نماز دو رکعت ہے ، تو کسی کو یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ دو رکعت مقرر ہونے کی کیا وجہ اور قرآن میں کہیں اُس کا ذکر بھی ہے یا نہیں ۔ یہ بحث دوسری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو تقلید کہتے ہیں یا نہیں ، مگر صورۃً تقلید ہونے میں کلام نہیں ۔
اسی طرح صحابی نے جب کہدیا کہ ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ مثلاً حدیث ہے ، تو تابعی کو یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ اُس کے حدیث ہونے کی کیا دلیل ؟ البتہ یہ ضرور ہے کہ جس کی تقلید کی جائے وہ شخص معتمد علیہ اور راست باز ہو ، اسی وجہ سے محدثین کو رجال کی بحث کرنے کی ضرورت ہوئی ، جس سے مقصود یہ ہے کہ جو شخص عدل صادق معتمد علیہ ہو اُسی کی تقلید کی جائے ، یہ بات قریب میں معلوم ہوگی کہ رجال کی جرح و تعدیل کا مدار تقلید ہی پر ہے۔ (حقیقۃ الفقہ)

TOPPOPULARRECENT