Thursday , November 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / تقویٰ خوف خدا سے عبارت ہے

تقویٰ خوف خدا سے عبارت ہے

اولیاء اﷲ کی دو قسمیں ہیں ، کچھ تو طالب و مرید ہوتے ہیں ۔ ایک غیرمسلم جب کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوتا ہے تو یوں سمجھو کہ وہ اسی وقت ابتدائی درجہ میں ’’اﷲ کا ولی ‘‘ ہوگیا ۔
اﷲ ولی الذین آمنوا … اﷲ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے ( البقرہ ۲:۲۵۷)
واﷲ ولی المؤمنین … اﷲ مومنین کا دوست ہے (ال عمران : ۳:۶۸)
پھر جوں جوں اس کا ایمان پختہ ہوتاجائے گا اور تقویٰ کے راستہ پر وہ آگے بڑھتا جائے گا ، اس کی ولایت کے درجے بھی بلند ہوتے جائیں گے ۔
تقویٰ کسی خاص ہئیت اور ظاہری شکل و صورت کا نام نہیں ، وہ ایک قلبی کیفیت ہے جو خوف خدا سے عبارت ہے ، خوف خدا کی وجہ سے قلب میں یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس کالازمی اثر اعمال و اخلاق میں ظاہر ہوتا ہے ۔ تقویٰ کی وجہ سے انسان میں اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی تحریک ہوتی ہے ، وہ برے اخلاق کو چھوڑتا اور اخلاق حسنہ کو اپناتا چلا جاتا ہے ۔ پھر تقویٰ کا اس پر اس قدر غلبہ ہوجاتا ہے کہ وہ جلوت ہی میں نہیں ، خلوت میں بھی ، ظاہر ہی میں نہیں ، باطن میں بھی کسی گناہ کے ارتکاب کی جرات نہیں کرسکتا۔ ہر وقت اس کو اﷲ تعالیٰ کی حضوری کا احساس رہتا ہے کہ  ’خدا دیکھ رہا ہے ‘ اسی کیفیت کا نام تقویٰ ہے جو ایمان کا لازمی تقاضا ہے ۔ اسی لئے مخلص شخص صرف ایمان پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ایمان کے ساتھ ہی اس کو تقویٰ کی فکر لاحق ہوجاتی ہے اور وہ خدا کی مرضیات و نامرضیات کی جستجو شروع کردیتا تاکہ مرضیات کو اختیار کرے اور نامرضیات سے دامن بچائے اس طرح مومن کے اندر ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے اور وہ اخلاق حسنہ کا پیکر اور مکارم اخلاق کا مجسمہ بنتا چلا جاتا ہے جس کی تکمیل کے لئے رسول اکرم ﷺ تشریف لائے ہیں۔
’’میں اخلاق کی بلندیوں کو مکمل کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں ‘‘ ۔ (حدیث)
تقویٰ کی یہ کیفیت وقتی نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس میں استمرار و استقلال ہونا چاہئے جس کو آیت میں وکانوا یتقون کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کئے رہتے ہیں۔ ایمان و تقویٰ کے ایسے حامل ہی اﷲ تعالیٰ کے دوست اور ولی ہوتے ہیں اور جب یہ اولیاء اﷲ ترقی کرتے کرتے ، درجہ بدرجہ حضور اکرم ﷺ کے قدموں تک پہنچ جاتے ہیں تو ان کی ولایت کامل ہوجاتی ہے اور وہ حضورؐ کے صحیح معنی میں کامل غلام ہوجاتے ہیں اور جب اُن کے سروں پر حضورؐ کی غلامی کا تاج رکھ دیا جاتا ہے تو قیصر و کسریٰ جیسے بڑے بڑے بادشاہوں کے تاج ان کی ٹھوکروں میں آجاتے ہیں   ؎
بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
یہ اکتسابی طریقہ ہے جو سلوک کہلاتا ہے ۔

دوسری قسم کے اولیاء اﷲ وہ ہوتے ہیں جو مطلوب و مراد ہوتے ہیں ان کو موتی سمجھ کر شان کریمی چُن لیتی ہے اور یہ مراتب ولایت میں سے اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کسی بھی مرتبہ پر فائز کردیئے جاتے ہیں۔ یہ اکتسابی نہیں بلکہ وہبی طریقہ ہوتا ہے اور یہ سلوک نہیں، جذب کہلاتا ہے ، ایسے لوگ طالب نہیں مطلوب ہوتے ہیں ، مرید نہیں مراد ہوتے ہیں ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کے خاص محبوبین ہوتے ہیں جن کو سلوک کی مشقوں سے بچالیا جاتا ہے ، ان کو ولایت کسب سے نہیں ، وھب اور عطا سے ملتی ہے ۔  ع        عشق اول در دل معشوق پیدا می شود
کے مصداق ان کو پہلے اﷲ تعالیٰ کی محبت ملتی ہے ، پھر یہ اﷲ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں جیسا کہ خلفائے راشدین اور دیگر کئی صحابہ کرام اور بہت سارے اولیاء اﷲ تھے ، ہیں اور ہوں گے ۔ یہ سب اﷲ تعالیٰ کے چنے ہوئے اور پسندیدہ ہوتے ہیں ۔ حدیث میں آیا ہیکہ جب اﷲ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو پسند فرماتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اے جبرئیل ! میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ جبرئیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے ، تم بھی اس سے محبت کرو ، پھر سب اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر اسی طرح زمین میں اس کی محبت کا چرچا ہوجاتا ہے اور لوگ اس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔
اور کسی کے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا ہے کہ وہ جذبی طریقہ سے مرتبہ ولایت کو پہنچتا ہے نہ اکتسابی طریقہ سے ، بس کسی اﷲ والے کا ہاتھ تھام لیتا ہے یا کسی سلسلہ سے وابستہ ہوجاتا ہے تو اس کا کام بن جاتا ہے ۔ اس کو صوفیہ کرام ایک مثال سے سمجھاتے ہیں ۔
ایک چیونٹی کو خیال ہوا کہ میں کعبتہ اﷲ دیکھوں ، لیکن وہ کعبتہ اﷲ سے میلوں دور تھی ، اس کا کعبتہ اﷲ تک پہنچنا اور اس کا دیدار کرنا ممکن نظر نہ آتا تھا ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ کبوترانِ حرم دانہ چگنے کے لئے میلوں دور ایک میدان میں جا اُترے وہیں وہ چیونٹی بھی رہتی تھی ، اس نے موقع غنیمت جانا اور ایک کبوتر کے پاؤں سے چمٹ گئی ، جب وہ کبوتر حرم کو واپس ہوا تو وہ چیونٹی بھی اس کے ساتھ حرم پہنچ گئی اور کعبتہ اﷲ کے دیدار سے مشرف ہوگئی ۔ صوفیہ کرام یہ حکایت بیان کرکے فرماتے ہیں کہ اگر تم بھی کسی اﷲ والے سے وابستہ ہوجاؤ تو اُس کے ساتھ تمہارے مقامات بھی طئے ہوجائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT