Friday , November 16 2018
Home / مذہبی صفحہ / تقویٰ کیا ہے؟

تقویٰ کیا ہے؟

مریم النساء

مریم النساء
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو‘‘ (سورۃ التوبہ۔۱۱۹) تقویٰ کا معنی اللہ کے عذاب سے ڈرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہے۔ اللہ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نافرمانی سے بچا جائے، جس کی مثال ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان کی ہے کہ ’’اگر ہمارا گزر کانٹے دار راستہ سے ہو تو جس طرح ہم کانٹوں سے اپنا دامن بچاکر چلتے ہیں، اسی طرح گناہوں سے بھی اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دیں‘‘۔
روزہ کی حالت میں بندہ تنہائی میں بھی کچھ نہیں کھاتا پیتا، کیونکہ اس کا ایمان اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح اللہ کے عذاب کو یاد کرکے گناہوں اور معصیت سے بچنے کا نام تقویٰ ہے۔ اگر تقویٰ کی صفت بندے میں پیدا ہو جائے تو وہ نیکی کرنے پر آمادہ ہوتا ہے اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ شاید اس وقت ہم اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو گئے ہیں، اسی لئے نمازوں سے غفلت برت رہے ہیں اور گناہ پر گناہ کرتے جا رہے ہیں۔
متقیوں کا ذکر قرآن و حدیث میں جگہ بہ جگہ ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متقیوں کے اجر کا ذکر اس طرح فرمایا ہے کہ ’’متقیوں کے لئے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ان کے حصے میں آئے گی‘‘۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرے، تاکہ اُسے رب تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو اور وہ جنت النعیم کا حقدار بن سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں میں تقویٰ کی صفت پیدا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT