Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ، اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری میں سرفہرست

تلنگانہ، اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری میں سرفہرست

چیف منسٹر کے سی آر مسیحا ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا ادعا
حیدرآباد ۔ 24 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی فلاح و بہبود کے معاملے میں تلنگانہ کو سارے ملک میں سرفہرست مقام حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو مسیحا قرار دیا ۔ جاریہ سال 130 اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کے لیے 425 کروڑ اور 201 اقلیتی اقامتی اسکولس کی ذاتی عمارتوں کی تعمیرات اور دوسری بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے 6000 کروڑ روپئے مختص کرنے کا دعویٰ کیا ۔ آج اسمبلی میں اقلیتی بہبود کے مطالبات زر مباحث میں جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ سارے ملک میں حتی کہ جموں وکشمیر سے زیادہ تلنگانہ میں اقلیتوں کو زیادہ بجٹ مختص کیا گیا اور مختلف فلاحی اسکیمات سے اقلیتوں کی ترقی کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ 1994-95 میں اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لیے بجٹ میں صرف 1.20 کروڑ کی گنجائش فراہم کی گئی تھی ۔ جب کہ ٹی آر ایس حکومت نے سال 2014-15 کے بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے 1000 کروڑ روپئے مختص کیا ہر سال اقلیتی بجٹ میں زبردست اضافہ کیا جارہا ہے ۔ جاریہ سال 1249 کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں ۔ 68 سال تک تلنگانہ پر مسلم حکمرانی تھی آزادی کے بعد اقلیتوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔ سچر کمیٹی نے اقلیتوں کو پسماندہ طبقات سے بھی پسماندہ ہونے کا انکشاف کیا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مسلمانوں کو اہمیت دینے کے لیے کے سی آر نے ایک مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر بنایا ہے ۔ آندھرائی حکمرانوں نے اقلیتوں اور اردو کے ساتھ بڑی نا انصافی کی ہے ۔ آندھرائی حکمران اردو سے ناواقف تھے اس لیے منظم سازش کے تحت اردو سے نا انصافی کی ہے ۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے حکومت تلنگانہ نے گذشتہ سال 71 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کرتے ہوئے اس کے لیے 175 کروڑ روپئے مختص کئے جاریہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے مزید 130 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں جس کے لیے بجٹ میں 425 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ ان تمام ریزیڈنشیل اسکولس کی ذاتی عمارتوں کی تعمیرات کے لیے 6000 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ 40 اسکولس کے عمارتوں کی تعمیرات کے لیے اراضیات کی نشاندہی کردی گئی ہے ۔ ایک ایک اسکول کے لیے 3 تا 7 ایکڑ اراضی مختص کی جارہی ہے ۔ ہر طالب علم پر سالانہ 70 تا 80 ہزار روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ان اسکولس میں 710 تدریسی اور 631 غیر تدریسی عملے کا تقرر کیا گیا ہے جاریہ سال تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے تحت بڑے پیمانے پر ان اسکولس میں تقررات کیے جائیں گے ۔ اقلیتی طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ کے لیے 40 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ صنعتوں کے قیام و فروغ میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹی پرائم کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ شادی مبارک اسکیم میں دی جانے والی امدادی رقم کو 51 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپئے کردیا گیا ۔ حاملہ خواتین کو ڈیلیوری تک 12 ہزار روپئے دیا جارہا ہے ۔ اوورسیز اسکالر شپس کے لیے 40 کروڑ کا بجٹ ہے ۔ مسلم طلبہ کو سیول سپلائز کی تربیت فراہم کرنے کے لیے 100 طلبہ کا انتخاب کیا گیا اور کوچنگ حاصل کرنے والے طلبہ کو ماہانہ 5 ہزار روپئے اسٹیفنڈ دیا جارہا ہے ۔ میناریٹی اسٹیڈی سرکل کے لیے 7 کروڑ روپئے مختص کیے گئے ۔ بینکوں کے تعاون سے 80 فیصد سبسیڈی کے ساتھ مسلمانوں کو قرض کی فراہمی کے لیے بجٹ میں 150 کروڑ روپئے مختص کیے گئے ۔ حکومت تلنگانہ بینکوں کے تعاون کے بغیر اقلیتی نوجوانوں کو صد فیصد قرض فراہم کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ جس کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا ۔ وقف جائیدادوں کے تحفظ اور نگہداشت کے لیے وقف بورڈ کو 50 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ گٹلہ بیگم وقف اراضی کا کے سی آر نے بھی تحریک کے دوران دورہ کیا تھا ۔ مکہ مسجد کی حفاظت و تزئین نو کے لیے 8.48 کروڑ روپئے ۔ اسلامک سنٹر کے لیے 40 کروڑ روپئے ، انیس الغرباء کے لیے 20 کروڑ ، اردو اکیڈیمی کے لیے 23 کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT