Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ ، جامع منصوبہ بندی کے ذریعہ ترقی کی سمت گامزن

تلنگانہ ، جامع منصوبہ بندی کے ذریعہ ترقی کی سمت گامزن

حیدرآباد ۔ 15 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : سابق متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں علاقہ تلنگانہ ہر لحاظ سے نقصان سے ہی دوچار رہا ۔ لیکن آج ریاست تلنگانہ کی حکومت مختلف شعبوں میں جامع منصوبہ بندی کے ذریعہ ان منصوبہ جات پر عمل آوری کے ذریعہ کامیابی کی سمت آگے بڑھ رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے آج فلاح و بہبودی کے معاملہ میں ریاست تلنگانہ ملک بھر میں سرفہرست ( نمبر ون ) ہے ۔ جب کہ حکومت تلنگانہ نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے 28 ہزار کروڑ روپئے مختص کر کے ان رقومات کو بہتر انداز میں خرچ کرنے کے اقدامات کررہی ہے ۔ آج یہاں 69 ویں یوم آزادی کے سلسلہ میں تاریخی قلعہ گولکنڈہ کے وسیع و عریض میدان میں منعقدہ تقریب یوم آزادی کے موقعہ پر قومی پرچم کشائی انجام دینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مذکورہ اظہار خیال کیا ۔ قلعہ گولکنڈہ میں منعقدہ یوم آزادی کی رنگا رنگ تقریب کے موقعہ پر چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلح پولیس دستوں سے گارڈ آف آنر کی سلامی اور تلنگانہ عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد دی ۔ انہوں نے اپنے مختصر لیکن جامع خطاب میں تاریخی گولکنڈہ قلعہ کی اہمیت کا بھی تذکرہ کیا اور اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کا تذکرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ جہاں حکومت دیگر تہواروں کو بڑے پیمانے پر منعقد کررہی ہے ۔ وہیں ان کی حکومت نے ریاست تلنگانہ میں مقدس ماہ رمضان کا بڑے پیمانے پر اہتمام کرتے ہوئے نہ صرف شہر حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ ریاست کے تمام اضلاع کی 200 مساجد میں وسیع پیمانے پر دعوت افطار کا اہتمام کروایا ۔ علاوہ ازیں ریاست میں ایک لاکھ 90 ہزار غریب مسلم افراد میں ملبوسات تقسیم کروائے گئے ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے برقی سربراہی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ماہ مارچ سے تلنگانہ میں کسانوں کو دن کے اوقات میں ہی 9 گھنٹہ سلسلہ وار برقی فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ برقی سربراہی سے متعلق حکومت نے مختلف افراد و سیاسی قائدین کے خدشات و قیاس آرائیوں کو بالکلیہ طور پر ختم کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کو کسی کٹوتی وغیرہ کے بغیر برقی سربراہی کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ جبکہ کئی قائدین و افراد نے یہ کہا تھا کہ تلنگانہ ریاست تشکیل پانے پر ریاست تلنگانہ میں مکمل طور پر تاریکی چھا جائے گی لیکن حکومت تلنگانہ نے ان تمام قیاس آرائیوں کو ناکام کر دکھایا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دو مرحلوں میں کسانوں کے واجب الادا قرض رقومات 8500 کروڑ روپئے ادا کردئیے ۔ اسی طرح بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے 800 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ شہر حیدرآباد کے اطراف و اکناف ( مضافاتی علاقوں ) 100 کلومیٹر علاقوں میں گرین ہاوز کے ذریعہ کاشت کرنے کے طریقہ کار کی ہمت افزائی کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر نے حکومت کے شروع کردہ مشن کاکتیہ کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مشن کاکتیہ پروگرام کے ذریعہ تالابوں کے سابقہ موقف کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں اور حکومت کی ان کوششوں و عملی اقدامات کی نہ صرف اندرون ریاست ہر سطح پر بلکہ ملک گیر سطح پر ستائش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال 8 ہزار تالابوں سے مٹی کی نکاسی کے ذریعہ ان تالابوں کے سابقہ موقف ( پانی کے ذخیرہ کی گنجائش میں اضافہ کرنے ) کو بحال کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا اور اس سلسلہ میں ہر جگہ تیز رفتار کام انجام دیئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ’’ واٹر میان آف انڈیا ‘‘ مسٹر راجندر سنگھ جیسی شخصیت نے بھی حکومت تلنگانہ کے مشن کاکتیہ کی زبردست ستائش کی ۔ علاوہ ازیں ہائی کورٹ نے بھی مشن کاکتیہ کی زبردست ستائش کی ۔ ریاست تلنگانہ کی نئی صنعتی پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی نہ پائے جانے والی صنعتی پالیسی سنگل ونڈو کے ذریعہ مرتب کر کے متعارف کی گئی۔
چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ بالخصوص ٹی ایس ای پاس قانون کے تحت صنعتوں کے قیام کے لیے دو ہفتوں میں منظوری دیتے ہوئے صنعتوں کے قیام کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اس طرح اب تک حکومت نے اس نئی صنعتی پالیسی کی روشنی میں 36 بڑے صنعتکاروں کو صنعتیں قائم کرنے کی اجازت دی ہے ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے ایک اور نئے پروگرام و اسکیم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ گھر گھر پانی فراہم کرنے کے مقصد سے حکومت نے واٹر گرڈ کے ذریعہ گھر گھر پانی سربراہ کرنے کے اقدامات شروع کئے گئے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے سابقہ حکومتوں کوا پنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق متحدہ آندھرا پردیش میں علاقہ تلنگانہ کے ساتھ نہ صرف زبردست نا انصافی و دھوکہ کیا گیا بلکہ تلنگانہ علاقہ کے زیر التواء آبپاشی پراجکٹس کو تکمیل کرنے کے بجائے ان آبپاشی پراجکٹس کو سابق حکمرانوں نے صرف کاغذ کی زینت بنا کر رکھدیا جب کہ حکومت تلنگانہ کے واٹر گرڈ پروگرام کی ہڈکو نے نہ صرف زبردست ستائش کی بلکہ حکومت تلنگانہ کی کارکردگی و جامع منصوبہ جات کے پیش نظر ایوارڈ بھی عطا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا ندی سے ریاست تلنگانہ کو 368 ٹی ایم سی اور گوداوری ندی سے 912 ٹی ایم سی پانی حاصل ہونا چاہئے لیکن حکومت کے دباؤ کی روشنی میں بھی کوئی اقدامات مرکزی حکومت کی جانب سے نہیں کئے جارہے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں امن و ضبط کی برقراری کا چیف منسٹر نے تذکرہ کیا اور کہا کہ محکمہ پولیس میں متعدد اصلاحات لائے گئے ۔ بین الاقوامی سطح پر سنٹرل کمانڈنگ سسٹم کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے دریعہ کسی بھی نوعیت کے حالات سے بہ آسانی نمٹا جاسکتا ہے ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پر زور الفاظ میں کہا کہ گاؤں کی ترقی کے بغیر ملک کی ترقی ہرگز ممکن نہیں ہوگی کیوں کہ مہاتما گاندھی نے خود بھی کہا تھا کہ ہندوستان کی روح گاؤں گاؤں میں رہے گی لہذا گاؤں کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے حکومت ’ گراما جیوتی پروگرام ‘ کا آغاز کررہی ہے اور اس گراما جیوتی پروگرام میں عوامی نمائندوں کے ساتھ نوجوانوں عوام اور عہدیداروں کو برابر کا حصہ دار بنایا جائے گا ۔ انہوں نے گراما جیوتی پروگرام میں تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والوں سے سرگرم حصہ لیتے ہوئے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کی پر زور اپیل کی ۔۔

TOPPOPULARRECENT