Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں 50 فیصد ارکان کی ٹکٹ سے محرومی کا اندیشہ

تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں 50 فیصد ارکان کی ٹکٹ سے محرومی کا اندیشہ

سروے میں چونکا دینے والی نتائج ، چیف منسٹر کو نئے چہروں کی تلاش
حیدرآباد۔/2مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کے موجودہ 50 فیصد ارکان اسمبلی ٹکٹ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے ارکان اسمبلی کی کارکردگی کے بارے میں جو سروے کرایا اس کے چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے۔ 2014 ء میں کامیابی حاصل کرنے والے 62 ارکان اسمبلی میں 50 فیصد کی شکست کی پیش قیاسی کی گئی ۔ رپورٹ کے بعد چیف منسٹر نے آئندہ انتخابات کیلئے نئے چہروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اسمبلی حلقوں میں موجود متبادل قیادت کو اُبھار کر چیف منسٹر ان میں کسی نئے چہرے کو پارٹی ٹکٹ دے سکتے ہیں۔ جہاں کہیں کانگریس پارٹی کے امکانات بہتر ہیں وہاں نئے چہروں کے ذریعہ پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹی آر ایس کئی اسمبلی حلقوں میں کافی کمزور ہے۔ خاص طور پر نلگنڈہ، کھمم، محبوب نگر، رنگاریڈی کے علاوہ نظام آباد اور عادل آباد کے بعض حصوں میں مقامی پارٹی قیادت کمزور ہے اور ارکان اسمبلی کا مظاہرہ عوامی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ ایسے میں آئندہ انتخابات میں پارٹی کیلئے مشکلات ہوسکتی ہیں۔ سروے میں بتایا گیا کہ کئی وزراء جن کا تعلق نلگنڈہ، عادل آباد، محبوب نگر سے ہے انہیں 2019 میں دوبارہ کامیابی کیلئے سخت جدوجہد کرنی پڑے گی۔ وزیر برقی جگدیش ریڈی کو 62 ارکان اسمبلی کی فہرست میں آخری نمبر پر رکھا گیا اور سوریہ پیٹ اسمبلی حلقہ سے ان کی دوبارہ کامیابی پر شبہات ظاہر کئے گئے۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر نے اس حلقہ کیلئے بی جے پی قائد وینکٹیشورراؤ کو متبادل کے طور پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سروے میں کہا گیا کہ چیف منسٹر کی مقبولیت کے سبب گزشتہ انتخابات میں ٹی آر ایس کو سوریہ پیٹ سے کامیابی ملی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ 40ایسے اسمبلی حلقے جہاں کانگریس کا موقف مستحکم ہے وہاں امیدواروں کے مسئلہ پر کے سی آر پریشان ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی تلنگانہ کے اضلاع اور بعض شمالی تلنگانہ کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پارٹی قائدینکے مطابق چیف منسٹر میدک، ورنگل اور کریم نگر میں پارٹی کے بہتر مظاہرہ کے بارے میں پُرامید ہیں۔ انہوں نے ان اضلاع کے تلگودیشم کے مضبوط قائدین جیسے ای دیاکر راؤ کو پارٹی میں شامل کرلیا ہے۔ کانگریس امیدواروں کے خلاف ٹی آر ایس کے مضبوط قائدین کو میدان میں اُتارا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ کے سی آر نے کانگریس کے بعض سینئر قائدین سے ربط قائم کرکے انہیں پارٹی ٹکٹ اور ان کے حامیوں کو سرکاری عہدوں کا پیشکش کیا ہے۔ نلگنڈہ جو کہ کانگریس قائد جانا ریڈی و صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کا ضلع ہے یہاں سے کانگریس قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جون کے بعد کئی کانگریس قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ کے سی آر کی جانب سے کمزور کارکردگی کے حامل وزراکو اشارہ دے دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں ٹکٹ سے محروم کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT