Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی میں مولانا آزاد کے بجائے نرسمہا راؤ کو خراج

تلنگانہ اسمبلی میں مولانا آزاد کے بجائے نرسمہا راؤ کو خراج

ملک کے پہلے وزیر تعلیم کو نظر انداز کرنے پر مسلم ارکان کا لب کشائی سے گریز

ملک کے پہلے وزیر تعلیم کو نظر انداز کرنے پر مسلم ارکان کا لب کشائی سے گریز
حیدرآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی یاد اور ان کی خدمات کو خراج نے ارکان کو حیرت زدہ کردیا جبکہ آج ملک کے پہلے وزیر تعلیم و مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کا یوم پیدائش تھا۔ اسمبلی میں مولانا آزاد کو تو خراج عقیدت پیش نہیں کیا گیا لیکن پی وی نرسمہا راؤ کی وراثت پر کانگریس اور ٹی آر ایس ارکان میں مسابقت دیکھی گئی اور دونوں پارٹیوں نے نرسمہا راؤ کی تعریف کے پُل باندھ دیئے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس صورتحال پر مسلم ارکان اسمبلی نے لب کشائی سے گریز کیا کیونکہ وہ برسراقتدار پارٹی کے حلیف کا رول ادا کررہے ہیں۔ مولانا آزاد کے یوم پیدائش کو حکومت نے ’ یوم اقلیتی بہبود ‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا لیکن اسمبلی سے چند قدم کے فاصلے پر رویندرابھارتی میں منعقد کی گئی تقاریب میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے شرکت نہیں کی جبکہ انہوں نے شرکت سے اتفاق کیا تھا۔ سابق میں تمام چیف مسنٹرس نے ان تقاریب میں شرکت کی تھی۔ اسمبلی میں آج قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی میں پی وی نرسمہا راؤ کے رول کا ذکر کیا جس کے ساتھ ہی ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ، ہریش راؤ اور جگدیش ریڈی نرسمہا راؤکی تائید میں کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ اس نے نرسمہا راؤ کو نظرانداز کیا تھا۔ جانا ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے تلنگانہ کے اس فرزند کو وزیر اعظم کے عہدہ تک پہنچایا۔ جس پر وزراء نے کہا کہ یہ کانگریس کی مجبوری تھی کہ اس کے پاس کوئی قدآور شخصیت موجود نہیں تھی۔ کانگریس نے اقلیتی حکومت کو پانچ سال کامیابی سے چلانے کیلئے نرسمہا راؤ کا استعمال کیا اور بعد میں ان کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے آخری سانس تک عدالت کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا گیا۔ وزراء نے کہا کہ نرسمہا راؤ کی موت کے بعد ان کی نعش اے آئی سی سی دفتر میں لانے کی اجازت نہیں دی گئی اور سیدھے حیدرآباد بھیج دیا گیا۔ کانگریس نے کبھی بھی ان کا یوم پیدائش اور برسی نہیں منائی۔ ریاستی وزراء کی نرسمہا راؤ کے حق میں مداح سرائی کو دیکھتے ہوئے قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے پی وی نرسمہا راؤ کو بھارت رتن ایوارڈ دیئے جانے کیلئے مرکزی حکومت سے سفارش کی ہے۔وزیر تعلیم جگدیش ریڈی نے یہاں تک اعلان کردیا کہ اسکولوں میں پی وی نرسمہا راؤ کے کارناموں سے طلبہ کو واقف کرانے کیلئے نصاب میں شامل کیا جائے گا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسمبلی میں کسی بھی رکن نے مولانا ابوالکلام آزاد کا تذکرہ یا انہیں خراج عقیدت پیش نہیں کیا برخلاف اس کے مسلم ارکان جو عوام میں پی وی نرسمہا راؤ پر تنقید کا کوئی موقع نہیں گنواتے وہ ایوان میں خاموش دکھائی دیئے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ بی جے پی ارکان نے اس معاملہ میں مداخلت نہیں کی اور غیر جانبدار رہے۔

TOPPOPULARRECENT