Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی میں کانگریس و بی جے پی کی کسانوں پر تحریک التواء نوٹس نظر انداز

تلنگانہ اسمبلی میں کانگریس و بی جے پی کی کسانوں پر تحریک التواء نوٹس نظر انداز

ایوان کے آغاز پر کانگریس کا احتجاج و نعرہ بازی ، اجلاس پیر تک کے لیے ملتوی
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ اسمبلی کے آغاز کے ساتھ ہی اصل اپوزیشن کانگریس کے ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم تک پہونچ گئے ۔ پہلے دن کی کارروائی کے اختتام تک اپنے احتجاج کو جاری رکھا ۔ احتجاج کو حکومت نے یکسر نظر انداز کردیا ۔ وقت ضائع کرنے کا اکبر الدین اویسی نے کانگریس پر الزام عائد کیا ۔ وقفہ سوالات کے بعد ڈپٹی اسپیکر اسمبلی پدما دیویندر ریڈی نے پیر تک اسمبلی کی کارروائی ملتوی کردی ۔ کانگریس اور بی جے پی نے آج کسانوں کے مسائل پر تحریک التواء نوٹس پیش کی جس کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر اسمبلی نے ایوان کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے وقفہ سوالات شروع کردیا ۔ اپوزیشن کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لیے حکومت پوری تیاری کے ساتھ اسمبلی پہونچی تھی ۔ کانگریس کے ارکان تھوری دیر اپنی نشستوں پر ٹھہر کر احتجاج کرتے رہے ۔ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے توجہ نہ دینے پر کانگریس کے تمام ارکان اسپیکر پوڈیم کے قریب پہونچکر احتجاج کیا ۔ وہ اپنے ہاتھوں میں پوسٹرس تھامے ہوئے تھے ۔ کانگریس ارکان کے احتجاج کے دوران وقفہ سوالات جاری رہا ۔ قائد اپوزیشن کے جاناریڈی نے اپنی نشست سے دو تین مرتبہ اُٹھ کر بات کرنے کی کوشش کی لیکن ڈپٹی اسپیکر نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی ۔ جب کانگریس کے ارکان اسمبلی کی جانب سے قائد اپوزیشن کو بات کرنیکا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو ڈپٹی اسپیکر نے احتجاجی ارکان کو اپنی نشستوں پر لوٹنے کی صورت میں قائد اپوزیشن کو مشروط بات کرنے کا موقع فراہم کرنے کا تیقن دیا ۔ ہر سوال اور وزراء کے جواب کے دوران کانگریس کے ارکان نعرے بازی کرتے رہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اس پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی وزیر امور مقننہ ہریش راؤ نے احتجاجی ارکان کو منانے کی کوشش کی ۔ ڈپٹی اسپیکر نے باربار کانگریس کے ارکان اسمبلی کو اپنی اپنی نشستوں پر لوٹ جانے کی اپیل کی ۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں طئے پائے معاہدے کے تحت وقفہ سوالات کے بعد تحریک التواء نوٹس پر ردعمل کا اظہار کرنے کا تیقن دیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر کے خطاب کے دوران بھی کانگریس کے ارکان نعرے بازی کرتے رہے جس پر مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے کانگریس کے ارکان اسمبلی کو اپنی نشستوں پر لوٹ جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ کسانوں کا مسئلہ سنگین ہے ۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں اس مسئلہ کو ترجیحی بنیاد پر ایجنڈے میں شامل کرنے کی بھی وہ بھی تائید کریں گے ۔ مگر قائد مقننہ ( چیف منسٹر ) کے ردعمل کو بھی سننے نہیں دینا غلط بات ہے ۔ اس پر انہیں دکھ پہونچا ہے ۔ کانگریس کو احتجاج کرنے کا حق ہے ۔ مگر چند ارکان اسمبلی سارے ایوان کا وقت ضائع نہیں کرسکتے ۔ ساڑھے گیارہ بجے ڈپٹی اسپیکر نے اکبر الدین اویسی کے سوال کے دوران انہیں دوسرے قاعدے میں سوال اٹھانے کا مشورہ دیتے ہوئے پیر تک اسمبلی کی کارروائی ملتوی کردی ۔۔

TOPPOPULARRECENT