Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی میں کانگریس کی داداگری

تلنگانہ اسمبلی میں کانگریس کی داداگری

غلطی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی، وزیر ٹی سرینواس یادو

حیدرآباد۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) ریاستی وزیر انیمل ہسبینڈری و سنیماٹو گرافی ٹی سرینواس یادو نے کانگریس کے ارکان اسمبلی پر غنڈہ گردی اور داداگری کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تلنگانہ اسمبلی کو بہار اسمبلی سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ غلطی کرنے والوں کے خلاف قاعدے قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرینواس یادو نے کہا کہ اسمبلی میں مباحث کیلئے کانگریس کے پاس کوئی موضوعات نہیں ہے۔ 4 سال تک تماشائی بنے رہنے والے کانگریس کے ارکان اسمبلی عوامی توجہ حاصل کرنے کیلئے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے جو ان کے لئے مہنگی ثابت ہوگی۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے کانگریس کے رکن اسمبلی کے وینکٹ ریڈی کی جانب سے ہیڈفون پھینک کر صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل سوامی گوڑ کی آنکھ زخمی کردینے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اراضیات پر قبضے کرنے اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث رہنے والے کانگریس کے قائدین غنڈہ گردی اور داداگری پر اتر آئے ہیں جس کی ٹی آر ایس سخت مذمت کرتی ہے۔ عوام میں اعتماد کھودینے والی کانگریس پارٹی غیرقانونی حرکتوں میں ملوث ہوتے ہوئے عوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گورنر کے خطبہ کا احترام کرنے کے بجائے تماشہ کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کی نیک نامی کو داغدار بنانے کی کوشش کی ہے۔ ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے کانگریس کے احتجاج کو غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود چاہتی ہے تو وہ حکومت کو تجاویز پیش کرتے ہوئے اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کریں۔ کانگریس پارٹی آج ایوان میں گڑبڑ کرنے کی سازش تیار کرتے ہوئے اسمبلی کو پہنچی تھی لیکن وہ دوسروں کیلئے بچھائے ہوئے جال میں خود پھنس گئی ہے۔ عوام کا آشیرواد چیف منسٹر کے سی آر اور ٹی آر ایس حکومت کے ساتھ ہے۔ ریاست کا ہر فرد حکومت کی فلاحی اسکیمات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ کانگریس کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے آج سوامی گوڑ پر حملہ کردیا ہے۔ گورنر کی تقریر ریاست کے ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں حکومت نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ جمہوری عہدے پر فائز رہنے والے گورنر کی کانگریس نے توہین کی ہے۔ اسمبلی کو گاندھی بھون تصورکیا جارہا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT