Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی میں کسانوں کو قرض معافی کے مسئلہ پر گرما گرم مباحث

تلنگانہ اسمبلی میں کسانوں کو قرض معافی کے مسئلہ پر گرما گرم مباحث

برسر اقتدار ٹی آر ایس اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ الفاظ کا تبادلہ ، چیف منسٹر کی وضاحت

برسر اقتدار ٹی آر ایس اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ الفاظ کا تبادلہ ، چیف منسٹر کی وضاحت
حیدرآباد۔10۔نومبر (سیاست نیوز) کسانوں کو قرض کی معافی کے مسئلہ پر تلنگانہ اسمبلی میں آج گرما گرم مباحث ہوئے۔ برسر اقتدار ٹی آر ایس اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واضح کیا کہ کسانوں کے قرض کی معافی کے سلسلہ میں حکومت نے جو وعدہ کیا ، اس پر بہر صورت عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 36 لاکھ سے زائد کسانوں کے قرض کی معافی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور سرکاری خزانہ پر 17 ہزار کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ چیف منسٹر کے بیان سے غیر مطمئن کانگریس پارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا ۔ کانگریس کے رکن ڈاکٹر چنا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ قرض کی واپسی کے سلسلہ میں حکومت کی پالیسی غیر واضح ہے جس کے سبب کسان بینکوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ تلگو دیشم ارکان نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ مباحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ 17 ہزار کروڑ سے زائد کے قرضے جات معاف کئے جائیں گے جس میں زرعی قرض کے علاوہ فصلوں سے متعلق گولڈ لون بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور کے تلگو کتابچہ میں قرض کی معافی سے متعلق غلطی شائع ہوگئی جبکہ انگلش انتخابی منشور میں واضح طور پر زرعی قرض کی وضاحت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام سے جو بھی وعدے کئے ، ان پر عمل آوری حکومت کی ذمہ داری ہے اور قرض کی معافی کے سلسلہ میں ابھی تک 8100 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے۔ اس کے علاوہ کسانوں کو نئے قرضہ جات کی اجرائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی نے قرض کی معافی اور اس کی شرائط کے سلسلہ میں تفصیلات پیش کی اور الزام عائد کیا کہ اپوزیشن اس مسئلہ کو غیر ضروری تنازعہ کا شکار بنارہی ہے۔ وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت تمام انتخابی وعدوں پر عمل آوری کی پابند ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلگو دیشم نے آندھراپردیش میں کسانوں اور ڈاکرا گروپس سے جو وعدے کئے تھے، ان پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ ابھی تک کسانوں کے قرض کی معافی کا آغاز نہیں ہوا۔ تلگو دیشم کے دیاکر راؤ اور کانگریس کے جیون ریڈی نے قرض کی معافی کے سلسلہ میں کسانوں میں موجود اندیشوں سے ایوان کو واقف کرایا۔ جیون ریڈی نے کہا کہ کسانوں نے تلگو میں انتحابی منشور پڑھ کر ووٹ دیا ہے لہذا حکومت کو اپنے وعدہ پر قائم رہنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT