Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کا خطبہ… جھلکیاں

تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کا خطبہ… جھلکیاں

٭ ہر پارٹی اپنے رنگ میں ٭اسمبلی ہال کی تزئین نو، نشستوں کی تعداد میں کمی ٭تلگو میں خطبہ کا آغاز اور اختتام ٭ ڈاکٹر راجیا ارکان کی توجہ کا مرکز ٭ ارکان کی خیرسگالی ملاقاتیں اور نوک جھونک

٭ ہر پارٹی اپنے رنگ میں ٭اسمبلی ہال کی تزئین نو، نشستوں کی تعداد میں کمی
٭تلگو میں خطبہ کا آغاز اور اختتام ٭ ڈاکٹر راجیا ارکان کی توجہ کا مرکز
٭ ارکان کی خیرسگالی ملاقاتیں اور نوک جھونک
حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر ای ایس ایل نرسمہن کے خطاب کے موقع پر ایوان میں دلچسپ مناظر دیکھے گئے۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے ہال میں دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا اور اس ہال کو نشستوں اور تزئین نو کے اعتبار سے مکمل طور پر تبدیل کردیا گیا ہے۔ ایوان میں متحدہ آندھرا پردیش کے ارکان کی تعداد کے اعتبار سے 295 ارکان کیلئے نشستوں کا انتظام تھا لیکن تلنگانہ حکومت نے ارکان کی کم تعداد کے سبب نشستوں کو گھٹادیا ہے۔ زائد نشستوں کو نکال کر موجودہ نشستوں کو نئے انداز سے نصب کیا گیا ہے جس کے سبب نشستوں کے درمیان کافی گنجائش پیدا ہوچکی ہے۔ اسمبلی کی موجودہ تعداد 119ہے، حکومت نے کونسل کے ارکان کی تعداد اور مستقبل میں امکانی اضافہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے تقریباً 180 نشستوں کی گنجائش رکھی ہے۔ ایوان کو تزئین نو کے ذریعہ مکمل تبدیل کردیا گیا۔ ایوان کا کارپٹ اور دیگر اشیاء بھی تبدیل کردی گئیں جس سے ایوان کی خوبصورتی میں اضافہ ہوچکا ہے۔
٭ گورنر کے خطبہ کے پیش نظر پوڈیم پر 3نشستوں کا انتظام کیا گیا تھا جن میں گورنر کی نشست کے علاوہ اسپیکر اسمبلی اور صدرنشین قانون ساز کونسل کی نشست موجود تھی۔
٭ گورنر ای ایس ایل نرسمہن 10بجکر 55منٹ پر قانون ساز اسمبلی پہنچے جہاں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے علاوہ اسپیکر اسمبلی اور صدر نشین قانون ساز کونسل نے ان کا استقبال کیا اور ان کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے۔ٹھیک 11بجے گورنر نے خطبہ کا آغاز کیا جو 12منٹ تک جاری رہا۔
٭ گورنر نے خطبہ کا آغاز تلگو زبان سے کیا اور چند سطر تلگو میں پڑھنے کے بعد انہوں نے انگریزی میں خطاب کیا۔ خطبہ کا اختتام گورنر نے تلگو میں کیا اور سنسکرت کا ایک جملہ ادا کرتے ہوئے خطبہ کو ختم کیا۔
٭ ایوان میں گورنر کی آمد سے نصف گھنٹہ قبل ہی ٹی آر ایس ارکان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ ہر پارٹی اپنے علحدہ رنگ میں دکھائی دے رہی تھی۔ وزراء اور ٹی آر ایس ارکان کے گلے میں پارٹی کا کھنڈوا تھا جبکہ کانگریس ارکان بھی اپنی پارٹی کا کھنڈوا پہنے ہوئے تھے۔ تلگودیشم ارکان زرد رنگ کے شرٹ پر پارٹی کا کھنڈوا اور سیاہ کھنڈوا ڈالے ہوئے تھے۔ کمیونسٹ ارکان نے سرخ لباس زیب تن کیا تھا۔ بی جے پی ارکان اپنی پارٹی کا کھنڈوا گلے میں ڈالے ہوئے تھے۔
٭ ایوان میں بجٹ اجلاس کے پہلے دن ارکان کے درمیان جماعتی وابستگی سے بالا تر ہوکر خیرسگالی ملاقاتیں اور خوشگوار ماحول دیکھا گیا۔ ٹی آر ایس ارکان اور وزراء اپوزیشن کی نشستوں تک پہنچ کر ملاقاتیں کررہے تھے۔ ٹی آر ایس وزراء اور ارکان کی تلگودیشم ارکان سے ملاقات کو خیرسگالی اور خوشگوار ماحول میں تھی تاہم ان کے درمیان نوک جھونک چل رہی تھی۔کانگریس کے ارکان گورنر کی آمد سے عین قبل ایوان میں داخل ہوئے۔
٭ گورنر کے خطبہ کے موقع پر ایوان میں موجود اقلیتی ارکان میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر کے علاوہ عامر شکیل، محمد سلیم ( ٹی آر ایس )، محمد فاروق حسین، حافظ پیر شبیر احمد ( کانگریس ) اور شہر کے مسلم ارکان اسمبلی شامل تھے۔
٭ سابق ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر ٹی راجیا ایوان میں ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے اور وہ سارے ایوان میں برسراقتدار اور اپوزیشن ارکان سے ملاقات کرتے دیکھے گئے۔ وزارت سے برطرفی کے بعد وہ پہلی مرتبہ اسمبلی اجلاس میں شریک تھے۔ ان کی نشست جو پہلی صف میں تھی وہ اب وزراء کے پیچھے ہوچکی ہے۔ ٹی آر ایس ارکان سے زیادہ اپوزیشن ارکان سے ان کی ملاقات کافی جذباتی تھی۔ تلگودیشم فلور لیڈر ای دیاکر راؤ، ریونت ریڈی اور دیگر تلگودیشم ارکان کے علاوہ بی جے پی ارکان اور کانگریس کے فلور لیڈر جانا ریڈی نے ڈاکٹر راجیا کو گلے لگالیا۔ اس موقع پر ٹی آر ایس ارکان حیرت و استعجاب سے یہ مناظر دیکھ رہے تھے۔
٭ تلگودیشم اور کانگریس سے حالیہ عرصہ میں بغاوت کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے کئی ارکان نے ایوان میں اپنے قدیم رفقاء سے ان کی نشستوں تک پہنچ کر ملاقات کی جن میں ٹی کرشنا ریڈی، کے آر اموس اور دوسرے شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT