Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی و کونسل کے بجٹ سیشن کا افراتفری کے ماحول میں آغاز

تلنگانہ اسمبلی و کونسل کے بجٹ سیشن کا افراتفری کے ماحول میں آغاز

حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) اپوزیشن اور برسراقتدار ارکان میں جھڑپ، شور و غل، نعرہ بازی اور احتجاج کے دوران تلنگانہ اسمبلی و کونسل کے بجٹ سیشن کا آغاز ہوا۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن کے دونوں ایوانوں سے مشترکہ خطاب کے دوران ایوان میں افراتفری اور ہنگامہ آرائی کا ماحول تھا۔ کانگریس اور اپوزیشن ارکان حکومت کی جانب سے دیگر جماعتوں سے ت

حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) اپوزیشن اور برسراقتدار ارکان میں جھڑپ، شور و غل، نعرہ بازی اور احتجاج کے دوران تلنگانہ اسمبلی و کونسل کے بجٹ سیشن کا آغاز ہوا۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن کے دونوں ایوانوں سے مشترکہ خطاب کے دوران ایوان میں افراتفری اور ہنگامہ آرائی کا ماحول تھا۔ کانگریس اور اپوزیشن ارکان حکومت کی جانب سے دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کے انحراف کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کررہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈس اور پوسٹرس تھے جن پر مخالف حکومت تحریر درج تھی۔ شوروغل کے دوران گورنر نے اپنا خطبہ جاری رکھا اور 12منٹ میں اس کی تکمیل کردی۔ اگرچہ خطبہ کے دوران اپوزیشن ارکان نے گورنر پر کاغذ کے گولے پھینکے اور گورنر کے خطبہ کی کاپیاں پھاڑ کر پوڈیم کی طرف پھینک دیئے جن میں بعض کاغذات گورنر پر گرپڑے لیکن گورنر نے خطبہ کو نہیں روکا۔ سیکورٹی عملے کو گورنر تک کاغذات پہنچنے سے روکنے کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ گورنر کی آمد سے لیکر ان کی روانگی تک کانگریس اور تلگودیشم کے ارکان ہنگامہ آرائی کرتے رہے۔ ایوان میں ایک مرحلہ پر ٹی آر ایس اور تلگودیشم ارکان پرکاش گوڑ اور ناگیشور راؤ میں جھڑپ ہوگئی اور ارکان مکہ بازی پر اُتر آئے تاہم سیکورٹی عملے نے بیچ بچاؤ کرتے ہوئے دونوں پارٹیوں کے متصادم ارکان کو علحدہ کردیا۔ اگر سیکورٹی عملہ اور سینئر ارکان مداخلت نہ کرتے تو صورتحال مزید بگڑ جاتی۔ شوروغل کے دوران گورنر کا خطبہ سنائی نہیں دے رہا تھا تاہم ایوان میں ماحول کشیدہ ہوچکا تھا۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن، چیف منسٹر، اسپیکر اور صدرنشین کونسل کے ہمراہ جیسے ہی ایوان میں داخل ہوئے کانگریس اور تلگودیشم ارکان نے نعرہ بازی شروع کردی۔ وہ اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ اپوزیشن ارکان حکومت پر عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکامی اور وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کررہے تھے۔ کانگریس اور تلگودیشم کے ارکان نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم کی طرف بڑھنے لگے۔ بعض ارکان سیکورٹی حصار کو توڑ کر پوڈیم کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تاہم دیگر ارکان کو سیکورٹی عملے نے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ کانگریس کی رکن ڈاکٹر جے گیتا ریڈی بھی ایوان کے وسط میں پہنچ گئیں اور نعرہ بازی کرنے لگیں۔ خاتون سیکورٹی عملے نے انہیں گھیر کر پیچھے کردیا۔ کانگریس کے رکن کونسل ایم ایس پربھاکر اسپیکر کے پوڈیم کے قریب پہنچ گئے ۔ اسی طرح کانگریس کے ایک اور رکن سدھاکر ریڈی بھی ایوان کے وسط میں دیکھے گئے۔ تلگودیشم کی جانب سے احتجاج کی قیادت ریونت ریڈی نے کی اور وہ سب سے پہلے ایوان کے وسط میں پہنچے۔ ان کے ساتھ دیگر ارکان بھی شامل ہوگئے۔
اپوزیشن کی امکانی گڑبڑ کے پیش نظر پہلے ہی بڑی تعداد میں مارشلس کو ایوان میں تعینات کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود احتجاجی ارکان مارشلس کے حصار کو توڑ کر آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگئے۔ مارشلس کی بے بسی کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس کے کئی ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور برسراقتدار ارکان کی نشستوں کے آگے گھیرا باندھ دیا۔ نعرے بازی اور شوروغل کے دوران بعض تلگودیشم ارکان ٹی آر ایس ارکان کے قریب پہنچ گئے اور ان میں بحث تکرار ہونے لگی۔ ٹی آر ایس ارکان نے اپوزیشن ارکان کے ہاتھوں سے پلے کارڈس اور پوسٹرس چھیننے کی کوشش کی جس پر دھکم پیل شروع ہوگئی جس کے بعد مار پیٹ اور مکہ بازی کی نوبت آگئی۔ اسی دوران مارشلس نے فوری متصادم ارکان کو علحدہ کرنے کی کوشش کی لیکن ارکان ایک دوسرے پر حملے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے۔ جب صورتحال بے قابو ہونے لگی اسوقت مزید مارشلس کو ایوان میں طلب کرلیا گیا اور وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ درمیان میں پہنچ گئے۔ ان کے علاوہ کانگریس اور بی جے پی کے ارکان نے بیچ بچاؤ کرتے ہوئے متصادم ارکان کو دور کیا۔ ہریش راؤ کی ہدایت پر ٹی آر ایس کے ارکان اپنی نشستوں کی طرف واپس ہوگئے۔ اس صورتحال کے دوران چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ بھی ارکان کے رویہ پر کافی برہم دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے ٹی آر ایس ارکان کی پیشقدمی پر بھی اعتراض جتایا جس کے سبب نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی۔تلگودیشم ارکان دیاکر راؤ، ریونت ریڈی اور کانگریس کے رکن این سمپت اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ انہوں نے بلندی سے گورنر کی طرف کاغذات کو پھینکا۔ کافی دیر تک یہ ارکان نشستوں پر کھڑے رہے اور احتجاج جاری رکھا۔ سیکورٹی عملے نے ایک مرحلہ پر احتجاجی ارکان کو ایوان سے باہر کرنے کی کوشش کی لیکن دیگر ارکان کی مداخلت پر وہ خاموش ہوگئے۔ اس طرح گورنر کے خطبہ کے دوران کانگریس اور تلگودیشم کا احتجاج اور شور وغل جاری رہا۔ 15منٹ تک ایوان میں شوروغل اور افراتفری کا ماحول بنا رہا اور اسی کشیدہ ماحول میں مارشلس اور سیکورٹی کے حصار میں گورنر نے خطبہ پڑھا۔ خطبہ کے بعد جب گورنر ایوان سے واپس ہورہے تھے تو ٹی آر ایس ارکان نے ان کے اطراف گھیرا بنادیا تاکہ اپوزیشن قریب نہ آسکے۔ تلگودیشم ارکان نے ’’ گورنر ڈاون ڈاون‘‘ کے نعرے لگائے جس کے جواب میں ٹی آر ایس ارکان نے ’’ گورنر زندہ باد ‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اسمبلی میں گورنر کو پہلی مرتبہ اس قدر اپوزیشن کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور اپوزیشن کو گورنر سے دور رکھنے کیلئے سیکورٹی عملہ اور مارشلس کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔

TOPPOPULARRECENT