Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا 5 نومبر سے آغاز

تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا 5 نومبر سے آغاز

حیدرآباد۔/24اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5نومبر کو شروع ہوگا اور توقع ہے کہ بجٹ اجلاس ایک ماہ تک جاری رہے گا۔ بجٹ کی پیشکشی کی تاریخ کا تعین بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ تلنگانہ کابینہ نے برقی کے شعبہ میں آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے کی جارہی ناانصافیوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے، پیر یا منگل کے دن سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی جائے گی جس کے لئے ممتاز وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کابینہ کا اجلاس آج شام سکریٹریٹ میں تقریباً ڈھائی گھنٹہ تک جاری رہا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کابینہ کے فیصلوں سے واقف کروایا۔ چندر شیکھر راؤ نے برقی کے مسئلہ پر چندرا بابو نائیڈو کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عابڈس پر واقع مجسمہ جواہر لعل نہرو یا پھر وجئے واڑہ کے کرشنا بیاریج کے پاس چندرا بابو نائیڈو سے مباحث کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ آندھرا پردیش تنظیم جدید بل میں تلنگانہ کو دیئے گئے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنائیں اور بل پر من و عن عمل آوری کی جائے۔ کے سی آر نے کہا کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدہ کے مطابق تلنگانہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل چار ماہ سے مرکزی حکومت تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں پر خاموش تماشائی کا رول ادا کررہی ہے۔ کے سی آر نے برقی کے شعبہ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کی تفصیلات جاری کی اور موجودہ برقی بحران کیلئے چندرا بابو نائیڈو کو ذمہ دار قرار دیا۔ کے سی آر نے چندرا بابو نائیڈو پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے انہیں دھوکہ باز قرار دیا اور کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کا مقصد تلنگانہ کی تباہی دیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو غیر جمہوری انداز میں ہر قدم پر تلنگانہ میں مسائل کھڑے کررہے ہیں۔ تنظیم جدید بل کے مطابق برقی کے شعبہ میں آندھرا پردیش کی حصہ داری 53.89 فیصد ہے لیکن چندرا بابو تلنگانہ کو اس کے حق سے محروم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مختلف برقی پراجکٹس میں پیداوار اور تلنگانہ کو سربراہی میں ناانصافی کی تفصیلات جاری کی۔ کے سی آر نے کہا کہ کئی پراجکٹس بشمول کرشنا پٹنم اور سری سیلم دونوں ریاستوں کے مشترکہ پراجکٹس ہیں لیکن چندرا بابو نائیڈو اسے اپنی جاگیر تصور کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے بتایا کہ مختلف شعبوں سے حکومت نے تاحال 608.79 کروڑ روپئے مالیتی برقی خریدی ہے تاکہ تلنگانہ میں زرعی شعبہ کا تحفظ کیا جاسکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چندرا بابو نائیڈو قرضوں کی معافی پر آندھرا پردیش کے کسانوں اور ڈاکرا خواتین کو دھوکہ دے رہے ہیں، ابھی تک ایک روپیہ بھی قرض معاف نہیں کیا گیا۔ اس کے برخلاف تلنگانہ میں 70 تا 75 فیصد کسانوں کے قرض معاف ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آئندہ تین برسوں میں تلنگانہ برقی کے شعبہ میں خود مکتفی ہوجائے گا۔ حکومت مختلف اداروں سے برقی خریدی اور نئے پراجکٹس کے قیام کے ذریعہ 14ہزار میگا واٹ برقی کی فراہمی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کابینہ مائیکرو اریگیشن کے تحت ڈرپ اریگیشن پر عمل آوری کیلئے 300 کروڑ روپیوں کی منظوری دی ہے۔ جبکہ گرین ہاوز کلٹویشن کے تحت سبزیوں کو اُگانے کیلئے 252 کروڑ روپئے منظور کئے گئے۔ حکومت کی وجئے ڈائری کو دودھ سربراہ کرنے والے کسانوں کو دودھ کی قیمت 4روپئے زائد ادا کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے وضاحت کی کہ مشترکہ ریاست کے دوران چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے جو چیکس باؤنس ہوچکے ہیں حقیقی مستحقین ہونے پر ان کی حکومت امدادی رقم جاری کرے گی۔ کے سی آر بہت جلد چھتیس گڑھ کا دورہ کریں گے اور ایک ہزار میگا واٹ برقی خریدی کا معاہدہ کیا جائے گا۔ کابینہ کے اجلاس میں رجسٹریشن سے متعلق ترمیمی قانون کو منظوری دی گئی، اس کے علاوہ پولیس فورس کو عصری بنانے کیلئے بجٹ کی اجرائی کا فیصلہ کیا گیا۔ غریب خاندانوں کیلئے جاری کئے جانے والے راشن کارڈس اور ان پر چاول کے کوٹہ میں اضافہ کو بھی کابینہ نے منظوری دی ہے۔ پریس کانفرنس میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور ریاستی وزراء ای راجندر، این نرسمہا ریڈی اور پوچارم سرینواس ریڈی بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT