Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی کے پہلے اجلاس کے آخری دن حکومت پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید

تلنگانہ اسمبلی کے پہلے اجلاس کے آخری دن حکومت پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید

چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ بھی حیرت زدہ، قراردادوں کو سیاسی رنگ نہ دینے کی بارہا اپیل

چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ بھی حیرت زدہ، قراردادوں کو سیاسی رنگ نہ دینے کی بارہا اپیل

حیدرآباد۔/14جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کے پہلے اجلاس کے آخری دن حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ تلنگانہ کی تعمیر نو کے مسئلہ پر متحدہ کام کرنے کا عہد کرنے والی اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کے آخری دن حکومت کو اپنا اصلی رنگ دکھایا اور کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی کی غیر متوقع مخالفت سے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ بھی حیرت میں پڑ گئے۔ انھیں اپوزیشن سے بار بار اپیل کرنی پڑی کہ وہ عوامی بھلائی سے متعلق ان قراردادوں کو سیاسی رنگ نہ دیں۔ اس کے باوجود پولاورم کے مسئلہ پر ان تینوں جماعتوں نے کے سی آر کو گھیرنے کی کوشش کی۔ اس مسئلہ پر تلگودیشم ارکان کی ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی کچھ دیر کیلئے متاثر ہوئی۔ چیف منسٹر کی جانب سے قراردادوں کی منظوری کے بعد کانگریس کے اتم کمار ریڈی نے ریاست کیلئے خصوصی موقف کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے بعض تجاویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے خصوصی موقف کے حصول کیلئے مرکز کو جو دلائل پیش کئے جارہے ہیں وہ کمزور ہیں لہذا قرارداد میں ترمیم کی جانی چاہیئے۔ چیف منسٹر نے مداخلت کرتے ہوئے ترمیمات کو قبول کرنے سے اتفاق کیا۔ تلگودیشم کے وینکٹ ویریا کے اس ریمارک نے ایوان میں گڑبڑ پیدا کردی جس میں انہوں نے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست کی تقسیم کے موقع پر پولاورم کے مسئلہ پر خاموش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تقسیم کے وقت ہی چندر شیکھرراؤ کھمم کے منڈلوں کے انضمام کی مخالفت کرتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ چیف منسٹر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت یہ آرڈیننس منظور کیا گیا اس وقت ریاست کی تقسیم کا بل منظور ہوچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت کے دور میں تقسیم کے بل کو منظوری دی گئی جبکہ این ڈی اے حکومت برسراقتدار آنے کے بعد آرڈیننس کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے تلگودیشم ارکان سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ نہ دیں۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ ہمیں بھی سیاست کرنا آتا ہے۔ تلگودیشم رکن نے چیف منسٹر کی مداخلت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دراصل وہ ایوان کو اپنی مرضی مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ پولاورم مسئلہ پر تنقید اور جوابی تنقید کے بجائے متحدہ طور پر اپنے حقوق کیلئے مرکز سے جدوجہد کیلئے تیار رہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مرکزی حکومت پر دباؤ بنایا جائے۔ اس مرحلہ پر تلگودیشم رکن ریونت ریڈی اظہار خیال کرنا چاہتے تھے تاہم اسپیکر مدھو سدن چاری نے اجازت نہیں دی۔ تلگودیشم فلور لیڈر دیاکر راؤ کی قیادت میں پارٹی کے دیگر ارکان نے سخت احتجاج کیا اور ریونت ریڈی کو مائیک دیئے جانے کی مانگ کی۔ دوسری طرف برسراقتدار ٹی آر ایس کے ارکان بھی اپنی نشستوں سے اُٹھ کر ریونت ریڈی کو موقع دیئے جانے کی مخالفت کرنے لگے۔ شوروغل اور ایک دوسرے پر ریمارکس کے درمیان اسپیکر مدھوسدن چاری نے کہا کہ وہ ریونت ریڈی کو موقع نہیں دے سکتے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ پولاورم مسئلہ پر ٹی آر ایس کا موقف ابتداء ہی سے واضح ہے اور اس مسئلہ پر ٹی آر ایس کے وزراء نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت سے استعفیٰ دیا تھا۔ بی جے پی کے رکن سی ایچ رامچندرا ریڈی نے یہ کہتے ہوئے کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ جس وقت مرکز نے پولاورم پراجکٹ کو منظوری دی اس وقت کے سی آر مرکزی وزارت میں شامل تھے لیکن انہوں نے اعتراض تو کجا استعفی بھی نہیں دیا۔ بی جے پی رکن نے کہا کہ تلنگانہ بل کی منظوری کے موقع پر چندر شیکھر راؤ نے بی جے پی قائدین بشمول ارون جیٹلی سے کیا بات چیت کی وہ اس کا اظہار کرنا نہیں چاہتے تاہم اتنا ضرور کہیں گے کہ تلنگانہ ریاست کے حصول کیلئے کے سی آر نے پولاورم کے مسئلہ پر خاموشی اختیار کرلی تھی۔ سابق ڈپٹی اسپیکر اور کانگریس کے رکن بھٹی وکرامارکا نے کھمم کے سات منڈلوں کی بازیابی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کی سنجیدگی پر شبہات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو چندرشیکھر راؤ کی جانب سے حال ہی میں جو یادداشت پیش کی گئی ہے اس میں کھمم کے سات منڈلوں کا کوئی تذکرہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس مسئلہ پر سنجیدہ ہوتی تو دونوں ایوانوں سے گورنر کے خطبہ میں اس مسئلہ کو شامل کیا جاتا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ انتخابات سے قبل چندر شیکھر راؤ نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں وہ اس سے منحرف ہوگئے اس طرح چیف منسٹر کے مسئلہ پر دلتوں اور کھمم کے قبائیلیوں سے ناانصافی کی جارہی ہے۔انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ یہی سماجی تلنگانہ ہے جس کی تشکیل کا عہد کیا گیا تھا۔ ٹی وینکٹیشورلو( وائی ایس آر کانگریس) ایس راجیا ( سی پی ایم) اور رویندر کمار ( سی پی آئی) نے بھی قراردادوں کی تائید کی اور تجاویز پیش کیں۔

TOPPOPULARRECENT