Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اقلیتی کمیشن تشکیل کے ساتھ ہی تنازعہ سے دوچار

تلنگانہ اقلیتی کمیشن تشکیل کے ساتھ ہی تنازعہ سے دوچار

نائب صدر نشین آر پرتاپ مستعفی ، عیسائی طبقہ کے لیے نشست پر الجھن
حیدرآباد۔ 19 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن تشکیل کے ساتھ ہی ایک تنازعہ سے دوچار ہوگیا اور حکومت کی جانب سے نامزد نائب صدرنشین کو استعفیٰ دینا پڑا۔ حکومت نے 2 جنوری کو محمد قمرالدین کی صدارت میں ریاستی اقلیتی کمیشن تشکیل دیا تھا اور نائب صدرنشین کی حیثیت سے آر پرتاپ کو مقرر کیا تھا۔ کمیشن کے قواعد کے مطابق صدرنشین کا تعلق مسلم اقلیت سے ہونا چاہئے جبکہ نائب صدرنشین عیسائی طبقے سے ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ آر پرتاپ ایس سی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ عیسائی نہیں ہیں۔ پرتاپ نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں گھن پور (ورنگل) سے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا۔ ان کے تقرر کے بعد مختلف گوشوں سے حکومت کو شکایت کی گئی کہ پرتاپ عیسائی نہیں ہیں۔ حکومت نے ان سے استعفیٰ طلب کرتے ہوئے فوری منظوری دے دی اور نئے نائب صدرنشین اور ایک اضافی رکن کا تقرر عمل میں لایا۔ اس سلسلہ میں جی او ایم ایس 4 مورخہ 18 جنوری جاری کیا گیا۔ نائب صدرنشین کی حیثیت سے بی شنکر لوکے کو نامزد کیا گیا۔ جبکہ اضافی رکن کی حیثیت سے محمد عبدالعظیم صدیقی کو کمیشن میں شامل کیا گیا ہے۔ کمیشن میں ارکان کی تعداد 6 ہوچکی ہے جن میں 2 کا تعلق مسلم اقلیت سے ہے۔ اسی دوران سابق صدرنشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خان نے کمیشن کی تشکیل میں قواعد کی خلاف ورزی پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح غیر عیسائی شخص کو نائب صدرنشین مقرر کیا گیا تھا اس غلطی کے لیے کون ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اقلیتی کمیشن کی کارکردگی کے بارے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کمیشن کو باقاعدہ آفس الاٹ نہیں کیا گیا ہے۔ عابد رسول خان نے کہا کہ کمیشن ایک بااختیار ادارہ ہے اور اسے چاہئے کہ وہ حکومت کے دبائو کو قبول کیے بغیر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کرے۔ حکومت نے کمیشن کو خیریت آباد میں واقع میٹرو واٹر ورکس کے دفتر کی عمارت میں جگہ فراہم کی تھی لیکن اب کہا جارہا ہے کہ سکریٹریٹ میں جگہ دی جائے گی۔ صدرنشین کمیشن محمد قمرالدین اپنی قیامگاہ سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT