Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی راہ ہموار

تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی راہ ہموار

موجودہ کمیشن آندھرا پردیش کے لیے مختص ، اقلیتی کمیشن و فینانس کمیشن کے لیے تیاریوں کا آغاز

موجودہ کمیشن آندھرا پردیش کے لیے مختص ، اقلیتی کمیشن و فینانس کمیشن کے لیے تیاریوں کا آغاز
حیدرآباد۔/31جولائی، (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی راہ ہموار ہوچکی ہے کیونکہ محکمہ قانون نے تلنگانہ کیلئے علحدہ اقلیتی کمیشن کے قیام کو ہری جھنڈی دکھادی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے علحدہ اقلیتی کمیشن کے قیام کے سلسلہ میں محکمہ قانون سے رائے طلب کی تھی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق محکمہ قانون نے تلنگانہ کیلئے علحدہ کمیشن کی تشکیل کی اجازت دے دی اور موجودہ کمیشن آندھرا پردیش حکومت کا شمار کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اقلیتی کمیشن اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تشکیل کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ ریاست کی تنظیم جدید سے متعلق پارلیمنٹ میں منظورہ قانون کے تحت تمام اداروں کی تقسیم عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے اقلیتی اداروں کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ اقلیتی کمیشن کی تشکیل کے سلسلہ میں بعض قانونی رکاوٹوں کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم محکمہ قانون کا کلیرنس حاصل ہونے کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود نے صدرنشین اور ارکان کی نامزدگی کیلئے فائیل چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو روانہ کی ہے۔ اسی طرح اقلیتی فینانس کارپوریشن کے موجودہ بورڈ کی برخواستگی کیلئے محکمہ نے کارروائی شروع کی ہے۔ کرن کمار ریڈی حکومت نے اپنے آخری دنوں میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدر نشین اور بورڈ آف ڈائرکٹرس کو نامزد کیا تھا۔ صدرنشین کا تعلق چونکہ آندھرا سے ہے اور وہ کانگریس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں لہذا دونوں ریاستوں میں بورڈ کی برقراری کے امکانات موہوم ہیں۔ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت نے علحدہ بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے اس کے لئے موجودہ بورڈ کی برخواستگی ضروری ہے۔ اگر تلنگانہ حکومت اپنے لیئے علحدہ بورڈ تشکیل دے تو موجودہ بورڈ آندھرا پردیش کا حصہ ہوجائے گا۔ اقلیتی کمیشن ہو یا اقلیتی فینانس کارپوریشن، آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے موجودہ نامزد افراد کو برقرار رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔حکومت نے وقف بورڈ اور حج کمیٹی کی تقسیم کیلئے بھی ضروری کارروائی شروع کی ہے۔ وقف بورڈ دونوں ریاستوں کیلئے علحدہ علحدہ تشکیل دیا جائے گا تاہم حج سیزن 2014ء کی تکمیل تک حج کمیٹی کی تقسیم کے باوجود دونوں ریاستیں علحدہ کمیٹیاں تشکیل نہیں دیں گی کیونکہ عازمین حج کی روانگی اور واپسی کا عمل موجودہ حج کمیٹی کے ذریعہ ہی مکمل کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT