Sunday , February 25 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ الیکٹرسٹی بورڈ میں آندھرا ملازمین کی اکثریت

تلنگانہ الیکٹرسٹی بورڈ میں آندھرا ملازمین کی اکثریت

ریاستی ملازمین کو متعدد پریشانیوں کا سامنا، تقسیم ریاست کے باوجود آندھرائی افراد کی اجارہ داری
حیدرآباد 9 فروری (سیاست نیوز) علیحدہ تلنگانہ کے بعد ریاست آندھراپردیش کے ملازمین کی ایک بڑی تعداد آج بھی ریاست تلنگانہ کے الیکٹرسٹی محکمہ میں کام کرتی ہے جس کی وجہ سے تلنگانہ کے الیکٹرسٹی ملازمین کو بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جو ملازمین علیحدہ تلنگانہ سے قبل آندھرا کی ریاستوں میں کام کررہے تھے انھوں نے خاموشی کے ساتھ ریاست تلنگانہ میں کام کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کیا مگر ان دنوں آندھرا ملازمین کی بڑی تعداد ریاست تلنگانہ میں کام کررہی ہے۔ ابھی بھی اُن کی اجارہ داری باقی و برقرار ہے۔ ٹرانسکو ملازمین کے تقسیم کے اس مسئلہ میں حکومت آندھراپردیش اور آندھرا ٹرانسکو اداروں کی جانب سے عدم تعاون کے بنا ملازمین کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ ہائیکورٹ نے اس بات کے احکام جاری کردیئے ہیں کہ دو ماہ کے اندرون اسٹیٹ کمیٹی کی بنیاد ڈالتے ہوئے دونوں ریاستوں کے ملازمین علیحدہ علیحدہ رہنمایانہ خطوط تیار کرتے ہوئے علیحدہ ہوجائیں۔ اس کے باوجود آندھرا الیکٹرسٹی شعبہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ تلنگانہ ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور تلنگانہ پبلک سیکٹر ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ گول میز کانفرنس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائدین نے یہ بات کہی۔ یہ گول میز کانفرنس پریس کلب سوماجی گوڑہ میں منعقد ہوئی۔ صدارت جناب ایس شیوا جی کنوینر نے کی۔ انھوں نے چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو سے مطالبہ کیاکہ وہ فوری الیکٹرسٹی شعبہ میں جو ملازمین برسرکار ہیں اُنھیں فوری ریاست آندھراپردیش بلوائیں۔ اگر آندھراپردیش کی حکومت اس مسئلہ پر ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرے گی تو ریاست تلنگانہ کے شہروں میں دھرنے منظم کئے جائیں گے۔ مسٹر شیواجی صدر تلنگانہ ایمپلائیز جوائنٹ ایکشن کمیٹی، جانسیا اڈوائزر، مدھو سدن ریڈی جنرل سکریٹری، انجیا اکاؤنٹ آفیسر، این گنیش، چرن سنگھ، راملو، شون کمار، وینکٹیش مدھو اور تلجا رام سنگھ اسسٹنٹ ڈیویژنل انجینئرس میڑچل اور دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT