Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس اور وزراء کے چیمبرس میں تبدیلی

تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس اور وزراء کے چیمبرس میں تبدیلی

رہائش، کیمپ آفس وغیرہ پر بھی بھاری مصارف، عوام کا پیسہ لٹایا جا رہا ہے

رہائش، کیمپ آفس وغیرہ پر بھی بھاری مصارف، عوام کا پیسہ لٹایا جا رہا ہے
حیدرآباد /3 فروری (سیاست نیوز) واستو پر اندھا عقیدہ رکھتے ہوئے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس اور وزراء نے اپنے اپنے چیمبرس، رہائش اور کیمپ آفس وغیرہ پر 170 کروڑ روپئے خرچ کئے۔ سیاست داں اپنے اقتدار کو بچانے اور مصائب سے محفوظ رہنے کے لئے سرکاری خزانے کو پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ راج شیکھر ریڈی نے کروڑہا روپئے خرچ کرکے کیمپ آفس تعمیر کیا تھا، تاہم چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ اور چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو واستو ٹھیک نہ ہونے کا ادعا کرتے ہوئے اس میں رہنے سے انکار کردیا۔ کندن باغ کے دو کواٹرس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ قیام پزیر ہیں، جب کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش اپنے ذاتی گھر میں ہیں، تاہم لیک ویو گیسٹ ہاؤس میں ضروری کام کرواکر اسے اپنا کیمپ آفس بنالیا ہے۔ کے چندر شیکھر راؤ نے سکریٹریٹ میں اپنی آمد و رفت کا راستہ بنانے اور چیمبر کی تیاری پر 30 کروڑ روپئے اور چندرا بابو نائیڈو نے 40 کروڑ روپئے حرچ کئے۔ علاوہ ازیں وزراء اور اعلی عہدہ داروں نے بھی اپنے اپنے چیمبرس پر تقریباً 100 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ دونوں جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی بجائے واستو کی بنیاد پر اپنی میعاد پوری کرنے اور دوبارہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے وجے واڑہ کو آندھرا پردیش کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا ہے، تاہم تقسیم ریاست کے بل میں دس سال تک حیدرآباد کو دونوں ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام قرار دیا گیا ہے، اس لئے مسٹر نائیڈو نے سکریٹریٹ میں اپنے لئے تبدیلیاں کی ہیں، جب کہ حکومت کی ہر اسکیم اور کابینہ اجلاس کے وقت سے متعلق واستو ماہرین کی رائے حاصل کی جا رہی ہے، یعنی اب کابینہ کا اجلاس بھی واستو ماہرین کی رائے کے مطابق ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT